یہ مسلماں ہیں جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود

*از✍🏻 عبدالواحد القاسمی مظفرنگری*

اللہ رب العزت کا بے حد احسان وکرم ہے کہ اس نے اولاد آدم علیہ السلام کے لئے اپنے محبوب بندوں کو بھیجا تاکہ گمراہی کے دلدل میں پھنسے ہوئے لوگوں کو ضلالت وگمراہی کے دلدل سے نکال کر ایک وحدہ لاشریک لہ کے حکم بجا لانے کا طریقہ سکھائے اور صراط مستقیم کا راستہ بتائے نیز احکام خداوندی کے ماسوا تمام برائیوں سے اجتناب کرنے کا حکم سنائے،چنانچہ اللہ تبارک وتعالی نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء عليہم الصلاۃ والسلام کا قافلہ وقت بر وقت قوم در قوم بھیجا اور آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو تمام عالم کا رہبر ونبی مبعوث فرمایا ۔

خداوند قدوس نے اپنے اس دین اسلام کو کامل کر دیا اور قرآن میں اس طرح گویا ہوا ’’اَلْيَوْمَ اَکمَلْتُ لَکُمْ دِيْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْکُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَکمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ‘‘ ترجمہ :آج میں نے تمہارے لئے دین کو مکمل کر دیا تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہو گیا۔

 لیکن آج مسلمان اپنے مذہب اور دین کو بروئے کار لانے کے بجائے ان لوگوں کے ساتھ دوستی کر رہے ہیں جو آج مسلمانوں کا جنازہ نکالنا چاہتے ہیں، جو اللہ اور رسول اللہ کے بہت بڑے دشمن ہیں، آج انہیں کے ساتھ مل کر خوشیاں بانٹی جارہی ہے، ان کے تہواروں پر مبارکبادیں پیش کی جا رہی ہے، ان ہی کے رنگ میں رنگا جا رہا ہے۔

ان پیکر اسلام “لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْن” کہنے والوں کی غیرت کہاں مر گئی؟

کیا انہیں نبی ﷺ کے فرمان “مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ” “خالفوا المشرکین” “مَن كثَّرَ سوادَ قومٍ فَهوَ منهم ومن رضيَ عملَ قومٍ كانَ شَريكَ من عملَ بِهِ” سنائی نہیں دیتا؟

کیا تم اتنے بے غیرت اور بے شرم ہو کہ جن لوگوں نے تمہارے گھروں کو اجاڑ دیا، جن لوگوں نے تمہارے بھائیوں کے خون سے ہولی کھیلی، جن لوگوں تمہارے کاروبار اجاڑ دئے، جن لوگوں نے تمہاری دکانوں میں آگ لگا دی، جن لوگوں نے تمہاری بہن بیٹیوں کی عفت و عصمت کو چاک کرنے کی کوشش کی، جن لوگوں نے تمہارے معصوم بچوں کو زندہ جلانے کی کوشش کی یہاں تک کہ ان درندوں نے ایک ۸۵ سال کی بوڑھی ماں کو بھی نظر آتش کردیا، جن لوگوں نے تمہاری مساجد کو بھی نہیں بخشا، جن لوگوں کے ہاتھ کلام اللہ کو بھی شہید کرنے سے نہیں کپکپائیں، جن لوگوں نے “جے شری رام” کا جھوٹا نعرہ لگا کر مسلمانوں کو اجاڑنے کی کوشش کی آج تم انہیں غلاظت کے لوتھڑوں کے ساتھ مل کر خوشیاں بانٹ رہے ہو، انہیں خونخوار بھیڑیوں کے ساتھ مل کر اپنے بھائیوں کے خون رستے ہوے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہو، انہیں سفاکیوں کے ساتھ مل کر ان بے سہارا دہلی کے مظلوم مسلمانوں کا مذاق اڑا رہے ہو جنہوں نے اپنا سب کچھ کھودیا، انہیں انسانیت نما درندوں کے ساتھ مل کر انسانیت کا خون کر رہے ہو، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تم مظلوم مسلمانوں کے درد کا درماں کرنے کے لئے ان کے غم کو غلط کرتے، بجائے ان کے رنگ میں رنگ جانے کے ان کو قرآن کریم کا دو ٹوک الفاظ میں جواب دیدیتے “لَكُمْ دِينُكُمْ وَ لِيَ دِينِ” کہ میرے لئے میرا دین ہے اور تمہارے لئے تمہارا دین ہے” ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان سے کہہ دیتے کہ جو ہمارے دشمن ہیں ہم ان کے ساتھ مل کر خوشیاں کیسے بانٹ سکتے ہیں؟ لیکن یہ کرنے کے بجائے تم انہیں کے رنگ میں رنگ گئے، ان سے علیحدگی اختیار کرنے کے بجائے تم ان کے بالکل قریب ہوگئے، ان سے نفرت کرنے کے بجائے تم ان سے محبت کرنے لگیں، کیا تمہیں قرآن کریم کا فرمان سنائی نہیں دیا؟ کیا تمہیں رسول اللہ ﷺ کے فرمان نے نہیں جھنجھوڑا؟ کیا تمہیں اللہ کے رسول کی تعلیمات کا پاس و لحاظ نہیں رہا؟ کیا تمہیں ہولی کھلتے وقت یہ یاد نہیں پڑا کہ انہیں درندہ صفت انسانوں نے مسلمانوں کے خون سے کھیلی تھی؟ آخر کہاں مر گئی تمہاری غیرت؟ کہاں مر گئی تمہاری جرات؟ کہاں مر گئی تمہاری بہادری؟ کہاں مر گئی تمہاری دانشمندی؟ کہاں مر گئی تمہاری حس؟ کیا تم نے اپنے ضمیر کو فروخت کردیا؟ یا ضمیر اور حس دونوں کہیں دفن ہوگئے؟

اے مسلم امہ! تو اتنی بے شرم کیسی ہوگئی؟ تو اتنی بے حس کیسے ہوگئی؟ تو اتنی بے مروت کیسی بن گئی؟ تو اتنی بے حیا کیسے ہوگئی؟ کہاں گیا تیرا پتھر سے بھی زیادہ مظبوط ایمان؟ کہاں گیا تیرا مظبوط حوصلہ؟ کہاں گئی تیری ہمت؟ کہاں گئی تیری جرات و بہادری؟ کہاں گیا تیرا مظبوط چٹان والا جذبہ؟

تو ایسی نامرادی کے عالم میں نہیں جیتی تھی، تو وہ قوم تھی جس پر دوسری قومیں فخر کیا کرتی تھی تو تو وہ قوم تھی جس کی بہادری پر غیر بھی رشک کیا کرتے تھے، تو تو وہ قوم تھی جس کے جذبے کی لوگ مثال دیا کرتے تھے۔

لیکن آج تو نے اپنے ایمان کا سودا کرکے، اپنے ضمیر کو بیچ کر، اپنی مسلمانیت کو داؤ پہ لگا کر سب کچھ برباد کردیا ہے، آج تم نے اپنے ساتھ ساتھ ان بہادروں کی قربانیوں کو بھی خاک میں ملا کر رکھ دیا ہے۔ جن کی وجہ سے آج ہمارا ایمان و اسلام محفوظ ہے، جن کی وجہ سے آج ہمارے مدارس اور مساجد قائم ہیں، جن کی وجہ سے ہم نماز پڑھنے کے قابل ہیں، جن کی وجہ سے ہم ایک ایمان والا بن کر زندگی گزارنے کے قابل ہیں، لیکن اگر ہمارا یہی حال رہا تو کچھ محفوظ نہیں رہے گا۔ وہ تمہارے گھروں کو لوٹیں گے، تمہارے ایمان کا سودا کریں گے اور پھر تم ان کے ساتھ مل کر خوشیاں بانٹیں گے، اسی طرح چلتا رہے گا اور تمہارا نام و نشان تک مٹا دیا جائے گا۔

وہ دن آنے سے پہلے اپنا محاسبہ کر لیجئے!

ورنہ پھر یہ نعرہ زبان پر ہوگا کہ

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے۔

اس لئے وہ تمام چیزیں جو ہم سے ہماری شریعت چاہتی ہے اس پر ہم تمام مسلمان بشمول مردو عورت کو عمل کرنا چاہئے ۔ غیروں کے طریقہ کو اختیار کرنے سے مکمل طور پر گریز کرنا چاہئے ۔

ایسے ہی صورت حال کے بارے میں علامہ اقبال نے کہاتھاکہ

وضع میں تم ہو نصاری، تو تمدن میں ہنود

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو

تم سبھی کچھ ہو ، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

اللہ رب العزت ہم سب کو ہدایت عطاء فرمائے، عقل سلیم عطاء فرمائے۔ آمین

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے