نکاح میں عورتوں کی گواہی

 نکاح میں صرف عورتوں کی گواہی معتبر نہیں دوعورتوں کی گواہی کے ساتھ ایک مردکی بھی گواہی ضروری ہےورنہ نکاح درست نہیں ہوگا۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد:کتاب المساٸل ھدایہ جلد٢صفحہ ٣٢٦فتاوی تاتارخانیہ جلد٤ص٣٧فتاوی ہندیہ جلد١صفحہ٢٦٧ ناقل✍ہدایت اللہ قاسمی خادم مدرسہ رشیدیہ Read More …

کیا نکاح کے گواہوں کا ثقہ اور عادل ہوناضروری ہے

بہتر تو یہی ہے کہ نکاح کے گواہ ثقہ اورعادل ہوں لیکن اگر عادل نہ ہو اور انہیں گواہوں کی موجودگی میں نکاح کردیا گیا تب بھی نکاح درست ہو جائے گا۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: کتاب المساٸل فتاوی شامی جلد Read More …

گواہوں کے بغیر نکاح

شریعت اسلامی میں دو گواہوں کے بغیر نکاح کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور نہیں اس طرح کے بیجا عمل سے عقدنکاح منعقد ہوگا۔۔۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: کتاب المسائل اعلاء السنن جلد نمبر 18 صفحہ نمبر 28۔ فتاوی شامی جلد Read More …

نکاح میں اللہ اوررسول کوگواہ بنانا

اللہ اوررسول کو گواہ بنا کر جونکاح کیاجاٸے شرعاً وہ صحیح نہیں ہے، شرعاً نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ دو عاقل مسلمان بالغ مرد یا اسی طرح کی دو عورتوں اور ایک مرد کی موجودگی میں Read More …

اگر نکاح میں ایک گواہ نابالغ ہو

اگر نکاح میں ایک گواہ نابالغ ہو تو نکاح درست نہیں ہوگا نکاح کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کم از کم دو گواہ ہوں اوردونوں گواہ بالغ ہو اگر دونوں میں سے ایک بھی نابالغ ہوگا تو Read More …