انسانی زندگی موت کی دہلیز پر

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺(861)
*انسانی زندگی موت کی دہلیز پر ___!!*

*انسانی زندگی کا یہ لمحہ موت کی دہلیز پر ہے، دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں سے موت کی خبر نہ آتی ہو، کہیں کم ہے تو کہیں زیادہ ہے، اگر کرونا وائرس سے کوئی ملک بچ جاتا ہے تو وہ خانہ جنگی کی چکی میں پسا ہوا ہے، مگر ذکر ابھی کرونا وائرس کا ہونا چاہیے، بالخصوص اٹلی کو نہیں بھول سکتے، جہاں اس وقت کی سب سے بڑی جنگ جاری ہے، ہر انسان موت اور زندگی کی لڑائی لڑ رہا ہے، سڑکوں، چوراہوں پر خموشی طاری ہے، بی بی سی اور الجزائر کی خبریں تشویشناک ہیں، لاشیں پھیلی پڑی ہیں، ہر روز پانچ سو سے زائد افراد کی موت ہورہی ہے، ایک دن تو آٹھ سو لوگوں نے زندگی کو الوداع کہہ دیا، ڈاکٹروں نے ہاتھ کھڑے کر لئے ہیں، اب وہ انہیں کو آئی سی یو میں لیتے ہیں، جس کے بچنے کی امید زیادہ ہو، حکومت حیران و پریشان ہے، ہر ممکنہ کوششوں کے باوجود ملک کے سربراہ میڈیا کے سامنے رہے ہیں، گریہ و زاری کر رہے ہیں، اپنی بے بسی و بے کسی کا اظہار کر رہے ہیں، ایک تصویر یہ بھی نظروں کے سامنے سے گزری کہ فوجی ٹرکوں میں بھر کر لاشیں شہر سے باہر لے جائی جارہی ہیں؛ تاکہ انہیں جلادیا جائے، کیونکہ دفن کرنا ممکن نہیں ہے، مزید وائرس کے بڑھنے کا خطرہ ہے، اس کے علاوہ ایران بہت سنگین موڑ پر ہے، وہاں صرف پندرہ دنوں میں سارے شہروں میں یہ وائرس پھیل گیا، بلکہ بہت سے پڑوسی ممالک کا کہنا ہے کہ ان کے ملکوں میں یہ وائرس ایران ہی سے پھیلا ہے، وہاں ہر دس منٹ میں ایک موت ہورہی ہے، وہاں موت کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے.*
*یہاں تک کہا جاتا ہے کہ وہ حقیقی تعداد بتا نہیں رہے ہیں، ورنہ شرح بہت زیادہ ہوسکتی ہے، شاید اسی لئے جرمنی کی اعلی سیاست دان انجیلا مارکل نے کہا ہے؛ کہ اس وائرس سے عالمی جنگ اول اور دوم سے بھی زیادہ خطرناک کیفیت ہونے والی ہے، چنانچہ دنیا ایک عالمی معاشی بحران سے دوچار ہونے کو تیار ہے، امریکی ممالک تیل کی گرتی قیمتوں سے پریشان ہے، وہاں پر پرائیوٹ کمپنیاں تقریباً دیوالیہ کے کگار پر ہیں؛ ایسے میں کرونا وائرس نے ان کی کمر توڑ دی ہے، دنیا میں شاید ہی اس سے پہلے کوئی ایسا وائرس پیدا ہوا ہوگا، جو اس قدر تیزی سے پھیلتا ہو، ٢٠٠٣ میں سارس سے ڈھیروں موتیں ہوئیں، مگر اس کا دائرہ بھی محدود تھا، اس وائرس کو سارس دوم کہا جارہا ہے، مگر اس کا دائرہ پوری طرح سے وسیع تر ہوتا جاتا ہے، دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ہو جہاں اس کی آہٹ نہ سنائی دیتی ہو، پچھلے دنوں جب چین میں اس وائرس نے قہر برپا کیا تھا، تو امریکہ نے مزاق بنایا تھا اور اسے ایک سازش تک کہہ دیا گیا تھا؛ لیکن اب جب امریکہ خود اس سے جوجھ رہا ہے تو صدر ٹرمپ کی آنکھیں پھٹ گئی ہیں، اس فہرست میں اور بھی بہت سے ممالک تھے جنہوں نے اس وائرس کو سنجیدگی سے نہ لیا، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اٹلی بن گئے، کہا جاتا ہے کہ ابتدائی دور میں اٹلی کی سرکار نے اگرچہ سنجیدگی دکھائی مگر وہاں کی عوام نے مستقل اسے مسترد کردیا، نوجوان اپنی پارٹیوں میں مصروف رہے، اجتماعات میں کوئی کمی نہیں ہوئی، کئی بار لاک ڈاؤن کیا گیا، مگر اس کی بھی پابندی نہ ہوئی، چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے یہ پورے ملک پر سایہ فگن ہوگیا، گویا کسی موت کی چادر نے انہیں اپنی آغوش میں بھر لیا ہے.*
*ہندوستان میں بہت سے سیاست دان اس کی طرف اشارہ کرتے رہے، مگر کسی نے کان نہ دھرا، گاہے بگاہے متاثرین سامنے آتے رہے، موتیں بھی ہوئیں، اور جب معلوم ہوا کہ پورا ملک اس سے متاثر ہوچکا ہے، تب فوری طور پر لاک ڈاؤن کردیا گیا، مودی جی نے ملک کو اپنی تیاریاں بتانے کے بجائے انہیں بیوقوفی میں لگا دیا، ایک دن کا جنتا کرفیو اور پھر تھالی و تالی پیٹنے کے حکم نے جگ ہنسائی کروائی دی، یونیسکو نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اسے نادانی قرار دیا ہے، کیونکہ سبھی جانتے ہیں کہ اس ملک میں طبی سہولیات نہ کے برابر ہے، تو وہیں غرباء و فقراء کی تعداد بھی بے پناہ ہے، ہندوستان بھوک مری میں بہت نچلے پائیدان پر ہے، ایسے میں غور کیا جایے کہ ملک کس موڑ پر کھڑا ہے، بڑی تعداد ایسی ہے کہ اگر وہ کرونا وائرس سے نہ مرے تو بھوک سے مر جائیں گے، یومیہ کمانے والے اور اپنا پیٹ پالنے والے سر پکڑ چکے ہیں، اس پر مستزاد یہ کہ وہ اپنے گاؤں دیہات بھی نہیں جا سکتے، جہاں کم از کم دو وقت کی روٹی نصیب ہوتی، اپنے کھیت سے یا گاؤں کی ہمدردی سے پیٹ بھرنے کا گمان ہوتا، شہری زندگی یوں بھی افراد تفری اور نفسا نفسی کی زندگی ہوتی ہے.*
*رفاہی ادارے اگرچہ بہت کچھ کر رہے ہیں، بعض صوبائی سرکاروں نے بھی عوام تک راشن پہونچانے اور انہیں اکاؤنٹ میں پیسے دینے کی بات کی ہے، لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ سب کاغذی اعتبار سے خواہ کامیاب ہوجائے، حقیقی اعتبار سے کامیاب کی امید صفر ہے، سرکار نے جن دھن یوجنا کے سلسلہ میں ہی یہ خبر عام کی کہ اس نے کڑورں روپئے ضرورتنمدوں کے اکاؤنٹ میں ڈالے ہیں، اکاؤنٹ بھی موجود ہے؛ مگر جب تحقیق کی گئی تو اکاؤنٹ ہولڈر کا پتہ ہی نہیں ہے، کس نام کا کھاتا ہے وہ کون ہے، کہاں کا ہے کچھ خبر نہیں ہے، اسی طرح کسان یوجنا کے متعلق بھی ایسے خدشات ہیں، ایسے میں کیسے بھروسہ کیا جائے کہ عوام بھوکو نہ مرے گی، واقعی انسانیت اور انسان بھی موت کی دہلیز ہے، دوسرے ممالک میں اہل ثرورت میدان میں اتر چکے ہیں، بڑی بڑی کمپنیاں خود سرکار کیلئے مدد فراہم کر رہی ہے، عوام کیلئے ماسک، سینیٹائز بنواکر مفت دے رہی ہے، وینٹیلٹر تیار کروا رہی ہے، تاکہ سنگین ترین حالات میں کام آئے، مگر ہندوستان میں اب تک ایک نام کے سوا کوئی نام نہ سنا گیا، ایسے میں بس یہی ہوسکتا ہے کہ ہر ایک اپنی استطاعت کے بقدر کوشش کرے، جتنی جانیں بچا سکتے ہیں بچائیں، قرب و جوار میں مساکین و ضرورتنمدوں کا خیال کریں، ایک دوسرے کو حوصلہ دیں، ثواب کی امید رکھیں، انشاء اللہ یہ لمحہ بھی کٹ جائے گا، فضا پھر صاف ہوگی، اور پھر سے انسانی زندگی ہموار ہوگی.*

✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
23/03/2020

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے