بھارت جنگ کی بھٹی میں نہ چلا جائے

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺(990)
*بھارت جنگ کی بھٹی میں نہ چلا جائے!!*

بھارت نے رافیل جنگی طیارہ خرید لیا ہے، اس کی طاقت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے؛ کہ اس کا کمبیٹ ریڈس ٣٧٠٠ کلو میٹر ہے، کمبیٹ ریڈس وہ دائرہ ہوتا ہے کہ جس میں جہاز اپنے اڑنے کی جگہ سے کتنی دور جا کر کامیابی کے ساتھ حملہ کرسکتا ہے، ہندوستان نے اپنی ضرورت کے مطابق اس میں ہمیر میزائل فٹ کیا ہے، جو کم دوری کیلئے استعمال کی جاتی ہے، اس میزائل کی فضا سے زمین میں مارنے کی اہلیت کافی بہتر ثابت ہوسکتی ہے، ہیمر میزائل کو بنکر اور خفیہ مقامات کو تباہ کرنے کیلئے لگایا جاتا ہے، رافیل ایک منٹ میں اٹھارہ ہزار میٹر کی اونچائی تک جاسکتا ہے، اور پچپن ہزار فٹ کی اونچائی سے حملہ کرنے کی قوت رکھتا ہے، اس معاملے میں پاکستان اور چین کے اعلی ہتھیار بھی پیچھے رہ جاتے ہیں، مگر ماہرین مانتے ہیں کہ اسے دونوں ملک کیلئے دہشت قرار دینا نادانی ہے؛ کیونکہ جنگی طیارے ان کے پاس بھی ہیں، اور بڑی تعداد میں، یہ بات الگ ہے کہ یہ جدید دور کا ہتھیار ہے، نئی ٹکنالوجی سے لیس ہے، مگر اس سلسلہ میں تقابل یوں ہوتا ہے کہ جس کے پاس جتنے زیادہ طیارے ہوں وہی کامیاب ہے، اس لئے کہ یہ کثرت ہی زیادہ سے زیادہ جگہوں کا احاطہ کر سکتی ہے، اگر ہندوستان نے ٣٦/ کے بجائے سو سے زائد رافیل خریدے ہوتے تو کچھ کہا جاسکتا تھا؛ نیز اگر پاکستان اور چین نے یکطرفہ حملہ کردیا تو بھارت کیلئے رافیل بھی مشکل کشا نہ ہوپائے گا؛ تاہم اس سے انکار نہیں کہ یہ طیارے بھارتی فضائیہ فوج کیلئے اہم ترین ہیں.*
*بہرحال ہندوستان نے ایک رافیل سولہ سو کروڑ میں خریدا ہے، ایسا نہیں ہے کہ یہ صرف بھارت کے پاس ہے؛ بلکہ قطر اور مصر نے بھی اسے خریدا ہے، ایسا کہا جاتا ہے کہ ان ممالک نے بھارت سے کم قیمت پر خریدا ہے، مگر ملک میں اسے یوں پیش کیا جاتا ہے جیسے یہی سب سے اعلی اور سب سے بڑی کامیابی ہو، اور اس سے قبل ملک میں کوئی جنگی طیارہ نہ آیا، ہمارے پہلے سے ہی مگ ٢٩، جیگوار، میراج اور سکھوئی جیسے سینکڑوں طیارے موجود ہیں، نیز دنیا میں اس سے زیادہ خطرناک ہتھیار بھی ہیں، بھارت چونکہ اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لارہا ہے، وہ گاندھی کے ساتھ ساتھ سبھاش چندر باس کو بھی اپنا آئیڈیل مانتا ہے؛ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اپنی فکر کی برتری میں ہتھیاروں کی ایک دنیا بسائی جارہی ہے، یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ ہندوستان اپنے پڑوسی ممالک سے دور ہوگیا ہے، چین اور پاکستان کے علاوہ تمام سرحدی ممالک اور بعض ان کے علاوہ بھی دشمنی پر اتر آئے ہیں، ہندو ازم کی پالیسی اور مسلم مخالفت میں وہ اس حد تک گزر چکے ہیں؛ کہ ملکی مفاد کے بجائے ذاتی غرض کو اہمیت دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ رافیل کی خریداری ایک گتھی بن گئی، اس کا ہر پہلو مشکوک ہوگیا؛ حتی کہ سپریم کورٹ کا رویہ بھی ملک کے بجائے پارٹی کی طرف نظر آتا رہا؛ چنانچہ ایک جماعت کے مفاد کو اہمیت دیتے ہوئے جمہوریت کی قدروں کو گرد آلود کیا گیا، اور اس رافیل کے عقدہ ینحل کو لاینحل بنا دیا گیا.*
*دراصل ان سب باتوں میں قابل غور امر کچھ اور ہے، وہ یہ کہ بھارت دنیا کی نظر میں ایک بازار؛ بلکہ ہتھیار کا بازار بنتا جارہا ہے، مینوفیکچرنگ کے سلسلہ میں ویسے بھی یہاں کوئی آنے کو تیار نہیں؛ لیکن ہتھیار کے معاملے میں اب ہر ملک اس کی طرف دیکھ رہا ہے، یہ بھی ظاہر ہے کہ جس ملک کو ہتھیار بیچا جائے، جس کو ہتھیار کا اڈہ بنایا جائے تو لازمی ہے کہ وہاں ہتھیار کا استعمال بھی ہو؛ تاکہ بازار گرم رہے، دنیا بہت سے ممالک میں اس کی نظیریں موجود ہیں، عرب ممالک کو ہتھیار کا بازار بنایا گیا، شام، یمن اس وقت جل رہے ہیں، جس کا دھواں اسی رافیل سے نکلا ہوا ہے، شام کو بیاباں کرنے والا یہی ہتھیار ہے، تو وہیں عراق جل چکا، لیبیا برباد ہوگیا، افغانستان تباہ ہوگیا، پاکستان دم واپسیں میں ہے؛ کیونکہ یا تو ان ممالک میں ہتھیار خرچ ہوتے تھے یا پھر ہتھیار کے خریدار تھے، اگر خاکم بدہن بھارت کو ایک بازار بنا دیا گیا تو پھر ملک کیلئے دشمن بھی پیدا کئے جائیں گے اور ایک سلسلہ چلے گا، جس میں ہتھیار کی کثرت اس کی کھپت اور جنگ کا میدان ہوگا، ویسے بھی موجودہ صورتحال کچھ ایسی ہی ہے، عور کیجئے! ملک کے پڑوسیوں کا کیا حال ہے؟ ہر طرف سے خونخواری کی بو آتی ہے، کمزور ترین ممالک بھی آستین چڑھائے ہوئے ہیں، کسی بھی لمحے جنگ کی بھٹی سلگ سکتی ہے، آگ دہکتی ہو اور ایک جنگ کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے، بلکہ ملیشیا سے تجارتی تنازعہ ہے، ایران کو چین نے اپنی طرف مائل کرلیا ہے، اور اس نے بھارت ایک بڑے پروجیکٹ سے باہر کا راستہ دکھایا ہے، امریکہ کی نہ دوستی معتبر ہے اور نا دشمنی؛ بلکہ وہ تو خود غرضی کی پالیسی پر گامزن رہا ہے، ایسے میں ہتھیاروں کی آمد و رفت کس بات کا پتہ دیتی ہے، یاد رکھیں اگر ملک نے امن کی چوکھٹ پار کی تو سبھی جانتے ہیں؛ کہ ایسے ممالک میں نہ انسان بچتے ہیں اور نہ انسانیت بچتی ہے، تعمیر و ترقی کا پہیہ تھپ ہوجاتا ہے، انسان زندگی کو ترستے ہیں، موت مقدر اور زندگی بے گانی ہوجاتی ہے.*

✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
30/07/2020

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے