مسلمانوں کے خیمے کی طنابیں اکھڑنے کو ہیں

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺(987)
مسلمانوں کے خیمے کی طنابیں اکھڑنے کو ہیں
ہندوستان میں مسلمانوں کی تاریخ روشن ہے، ان کا ماضی چمکتا ستارہ اور خود بھارت کی سرزمین کیلئے ماتھے کا جھمکا ہے؛ لیکن ماضی جس قدر تابناک ہے آج اور کل اتنا ہی زیادہ مہیب، تاریک اور خوفناک ہوتا جاتا ہے، مسلمانوں کی بساط لپیٹی جارہی ہے، کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جس میں ان کیلئے قابل اطمینان مقام ہو، ان کا تعلیمی، سماجی، سیاسی اور اقتصادی غرض ہر صیغہ خطرے میں ہے، موجودہ سرکار کی فکر اور منصوبہ واضح ہے، ان کے ایجنڈے کے مطابق ہر پتہ پھینکا جارہا ہے، پانسے کا ہر رخ انہیں کی کامیابی و کامرانی کی ضمانت دیتی ہے؛ بالخصوص کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی مہاماری نے ان کے مواقع کو مزید مستحکم کردیا ہے، پہلے ہی سیاسی اور دعوتی منہج پر غلط روش اور قیادت کے نکمے پن نے سب کچھ بگاڑ دیا تھا، مسلمانوں کو ہر میدان میں پیچھے دھکیل کر انہیں حکومت کا پس خوردہ اور ان کا خوشہ چین بنا کر رکھ دیا تھا، اور اب ملت اپنے نشان امتیاز سے بھی ہاتھ دھونے کو تیار ہے، ایسا لگتا ہے کہ ان پر عرصہ حیات تنگ کر کے انہیں کسی غار میں پھینکنے کی کوشش ہے، اب بس ان کی رخصتی کا زمانہ ہے، ان کی آوارگی و بےگانگی کے تابوت پر آخری کیل ٹھونکنے کی تیاری ہے، کسی بھی لمحہ یہ اعلان ہوسکتا ہے ملک میں جمہوریت کو منسوخ کیا جاتا ہے، ہندوازم اور اکثریت کو عام کیا جاتا ہے، جو اگرچہ اعلان کے بغیر بھی نافذ ہے، قوم کی کیفیت گوناگوں ہے، کاش وہ سوچیں اور سمجھنے کی کوشش کریں، اور منصوبہ بند طریقے پر آگے بڑھیں.*
*کچھ ایسے ہی کڑوے گھونٹ اور حقیقت حال کی عکاس ایک تحریر نظر سے گزری ہے، جو واقعی پڑھنے، سمجھنے اور کمربستہ ہونے پر ابھارتی ہے، یہ دل درد مند، فکر ارجمند کے حامل پروفیسر محمد محسن عثمانی ندوی دامت برکاتہم کی تحریر ہے، جو “گردش میں ہے تقدیر، بھنور میں ہے سفینہ” کے عنوان سے شائع شدہ ہے، آپ رقمطراز ہیں: “معلوم نہیں مسلمانوں کے باشعور طبقہ کو بھی اس بات کا احساس ہے یانہیں کہ سرزمین ہندمیں ان کے خیموں کی طنابیں آہستہ آہستہ اکھڑتی جارہی ہیں۔مسلمانوں کا سب سے بڑا خیمہ جسے قلعہ کہنا چاہیے دینی مدارس تھے اب ان کے بند ہونے کی خبریں آرہی ہیں یہ اسلامی قلعے آہستہ آہستہ زمیں بوس ہورہے ہیں ۔ مسلمانوں کا ایک بڑا خیمہ مسلم پرسنل لابورڈ تھا کئی سال سے نہ اس کا سالانہ جلسہ ہوا ہے نہ کوئی نیا انتخاب نہ اس کی کار گزاری نہ کوئی نقل وحرکت، نہ کوئی بیان نہ کوئی اعلان کچھ اپنی غلطیوں کچھ حکومت کی دشمنی کی وجہ سے چاروں خانے چت۔حالات کا دباؤ اتنا سخت ہے کہ نہ کہیں فکر امروز ہے نہ اندیشہ فردا کا سراغ ہے ۔ تبلیغی جماعت مسلمانوں کی سب سے بڑی اصلاحی اور تربیتی جماعت تھی اب نظام الدین میں اس کا دروازہ مقفل اور کام معطل ہو چکا ہے وہاں سے اب نہ کوئی جماعت جاتی ہے نہ وہاں آتی ہے، جو جماعتیں آئی تھیں ان پر عدالتوں میں مقدمات درج ہیں.*
*حکومت نے جو چارج شیٹ داخل کی ہے اورتبلیغی جماعت کے امیر مولانا سعد سے حکومت نے جو سوالات کیے ہیں ویسے سوالات آج تک کسی تنظیم سے نہیں کیے گئے ان سوالات کا جواب آسان نہیں یعنی اب برسوں تک جماعت کے ذمہ دار کو الجھا کر رکھنا ہے اور تبلیغی سرگرمیوں کولامحدود مدت تک بند رکھنا ہے۔ نظام الدین کی تبلیغی جماعت کی جو متوازی تبلیغی تنظیم ہے جسے شوری گروپ کہا جاتا ہے اس نے بھی خود کوحالات کی وجہ سے تقریباً لاک ڈاؤن کرلیا ہے۔دار المصنفین بہت اہم علمی اور تصنیفی ادارہ ہے اس کا سفینہ گرداب میں ہے،ندوہ اور دیوبند کے بارے میں نہ جانے کب کیا خبر آجائے،مسلمانوں کے سارے ادارے موت اور زیست کی کشمکش سے دوچار ہیں، خوف کا یہ عالم ہے کہ محض اظہار وفاداری کیلئے ایک شہر کے ایک مدرسہ میں مسٹر مودی کے ابروئے خم کودیکھ کراور نگاہ خشمگیں سے ڈر کر اور خاطر داری و خوشنودی کی خاطر تھالیاں بجائی گئیں اور دیپ جلائے گئے اور حکومت کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنے کیلئے جلسہ کا انعقاد کیا گیا۔ اب امت کا سفینہ موج حوادث کی زد میں ہے۔ خزاں نے مسلمانوں کے ایک ایک چمن پر چھاپہ مارا ہے خوف ہے کہ مسلمانوں کے دینی تعلیمی ادارے یادگار رونق محفل بن کر رہ جائیں گے جن کاذکرآئندہ تاریخ کی کتابوں میں ہوگا اور مسلمانوں کے تہذیبی آثار کو دیکھ کر غم وحسرت کے ساتھ کوئی شخص اقبال کا یہ شعر پڑھے گا؎”*
آگ بجھی ہوئی ادھر ٹوٹی ہوئی طناب ادھر
نہ جانے اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواں

✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
27/07/2020

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے