سعودی عرب ترکی نفرت کیوں کرتا ہے

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺(988)
سعودی عرب ترکی نفرت کیوں کرتا ہے؟

*اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خلافت عثمانیہ نے اسلام کی پانچ سوسالہ خدمت سر انجام دی ہے، اور اسلام کی علویت و سربلندی کی علامت بن کر رہے ہیں، انہیں کی تلوار میان سے باہر تھی، وہی خون سے اسلام کے پودے کو سینچ رہے تھے، انہوں نے ہی اسلام اور مسلمانوں کی عزت و ناموس کو محفوظ رکھا تھا، ان کی حکومت کا دائرہ دنیا کی اکثریت پر پھیلا ہوا تھا، حتی کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی خدمت بھی انہیں کے سپرد تھی، وہی حجاج کے مہمان نواز اور خدمتگار تھے؛ تعمیر و ترقی کے ذمہ دار تھے؛ لیکن وقت وقت پر ایسے قبیلے اور تیر و تفنگ کے مالک اٹھتے تھے، جو اس سلطنت کو تہس نہس کردینا چاہتے تھے، اپنی شورش سے ایک عالم کو الگ کر دینے تمنا پالتے تھے، سلطنت کو کمزور، کھوکھلا کرکے اپنی مرضی چلانا چاہتے تھے، ان میں بہت سے اپنی قومی یا لسانی حکومت قائم کر کے سلطنت کا مزہ چکھنا چاہتے تھے، وہ اگرچہ مسلمان تھے؛ مگر جدید نعروں، نئے طرز و جدت پسندی کے نام پر اور قدامت پسندی کا طعنہ دیتے ہوئے اسلامیت کی آڑ میں قوت سطوت کے خواہاں ہوتے تھے، انہیں میں سے ایک سعود خاندان بھی تھا، چنانچہ اس نے دوبار بغاوت کی تھی، پہلی مرتبہ ١٨١٨ میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو ایک کرکے حکومت قائم کرنے کی کوشش کی تھی، دوسری مرتبہ ١٨٧١ میں یہی کوشش دہرائی گئی تھی.*
*مگر ہر بار منہ کی کھانی پڑی، عثمانی فوج نے انہیں نامراد کردیا، وہ اپنی بغاوت و سرکشی میں ناکام رہے، پھر اس نے باطل طاقت سے گٹھ جوڑ کیا، شیطانی قوتوں کو ساتھ لیا، دجالی حربہ رکھنے والے اور اسلام کو مسمار کرنے کی خواہش رکھنے والوں کے سامنے دست سوال دراز کیا، اسلام کے حلیف کو چھوڑ کر حریف کا ساتھ دیا، اور اس کوربینی تک پہونچ گئے کہ انہوں نے دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا، جو خلافت عثمانیہ کے خلاف ایک خطرناک جنگ تھی، یہ زمین پر اسلامی امن کو ختم کرنے اور مسلمانوں کی قوت تباہ کرنے کا ذریعہ تھی، برطانیہ اس کے مدمقابل تھا، سعودی نے اس سے ہاتھ ملایا، اس کی سازشوں میں اس کا ساتھ دیا؛ بلکہ شانہ بشانہ جنگ کرتے ہوئے عثمانی علم کو گرانے میں مدد کی، حتی کہ خلافت عثمانیہ کی جڑیں کاٹ دی گئیں، مسلمانوں کو بے یار و مددگار کردیا گیا، اسلامی ممالک برباد کردیئے گئے، اسلام کی عظیم الشان عمارت مسمار کردی گئی، اور پھر اسی کے ملبے پر سعودیوں کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا، ١٩٣٢ میں ایک مملکت کی بنیاد ڈالی گئی، انہوں نے جزیرہ عرب کو اپنا آبائی مال سمجھ کر لوٹ کھسوٹ کرنا شروع کردیا، جسارت یہاں تک کی گئی کہ نبی مقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن شریف سے نکلا ہوا نام بھی بدل کر اپنے اجداد عبداللہ بن سعود کے نام پر رکھ دیا گیا، مسلمانوں کو اس نام کی برکت اور نبی مکرم سے ملنے والی وہ باد بہاری چھین لی، اور ترقی کے نام پر مسلمان بھی سب کچھ برداشت کرتے چلے گئے.*
*یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب ترک سے نفرت کرتا ہے، انہیں اپنی مملکت کا دشمن گردانتا ہے، ملبے میں جان پڑنے کی وحشت پالتا ہے، دراصل تاریخ یہ بتلاتی ہے کہ ان کے مابین یہ بے اطمینانی کبھی ختم بھی نہ ہوگی، ظاہر ہے باغی کا سر قلم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا؛ لیکن جب کوئی بغاوت میں کامیاب ہوجائے تو اس کا سب سے بڑا حریف برعکس ہی ہوتا ہے، سعودی عرب کی رگوں میں وہی خون ہے، جس خون کو خلافت عثمانیہ نے بہایا تھا، ان دنوں آیا صوفیہ کی بازیابی کو لیکر عرب ممالک میں ہلچل ہے، علی ارباش کا تلوار لیکر خطبہ دینا بھی ہضم نہیں ہوتا، درحقیقت انہیں یاد آتا ہے کہ یہی وہ آیا صوفیہ ہے جس کے سامنے ١٨١٨ کے اندر بغاوت کرنے کے جرم میں وہابی امام اور عبداللہ بن سعود کو زنجیروں میں جکڑ کر لایا گیا تھا، اور ٹھیک آیا صوفیہ مسجد کے سامنے بادشاہ کا سر قلم کردیا گیا تھا، اور وہیں قریب کے بازار میں وھابی امام کو ماردیا گیا تھا، اس وقت شاہ محمد بن سلمان اور سلمان بن عبداللہ کی رگوں میں وہی خون دوڑ رہا ہے، وہ جانتے ہیں کہ ترک کے سامنے وہ ایک باغی ہیں، آج نہیں تو کل ترک کی قوت ان تک پہونچ جائے گی، ان کا بازو انہیں دبوچ لے گا، ترکیوں کی تیز گام ترقی، اسلام پسندی، جاں نثاری اور اسلام کیلئے مرمٹنے کا جذبہ انہیں نگل لے گا.*
*یہ بات الگ ہے کہ موجودہ دنیا کی تصویر کچھ اور ہے، مگر کون جانتا ہے کہ جمہوریت، سیکولرازم کا طلسم کب ٹوٹ جائے اور پھر سے ماضی خود کو دہرانے لگے، یہی وہ خوف ہے جو جون سعودی عرب کو صہیونیوں اور نصرانیوں کی گود تک لے جاتی ہے، وہ ایمان کی لہر چھوڑ کر اور اسلام کی طاقت و قوت سے بے نیاز ہو کر شیطانیت پر بھروسہ کر بیٹھتے ہیں، وہ اسرائیلی سازشوں میں ساتھ دیتے ہیں، صدر مرسی کے خلاف مدد کرتے ہیں، اخوان کو دہشت گرد کہتے ہیں، قطر اور ترک کا بائیکاٹ کرتے ہیں، مقام مقدسہ پر اسرائیلی فوجی اڈے بنانے کی اجازت دیتے ہیں، معتدل اسلام کے نام پر ہوس رانی کی راہ ہموار کرتے ہیں، میوزک کنسرٹ کرواتے ہیں، ماڈلز کی شوٹنگ کرواتے ہیں، نعوذ باللہ وہ سب کچھ کرواتے ہیں جسے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا تھا، اور افسوس یہ کہ سب کچھ کعبہ کے سایہ میں ہوتا ہے، مگر ظاہری ترقی، چمک اور بعض مفادات کے سامنے سبھی کی زبانیں گنگ رہتی ہیں، ریال و درھم کے آگے ہر کوئی ان کے گن گاتا ہے، لیکن ہمیں قوی امید ہے کہ انشاء اللہ باغی انجام کو پہنچیں گے، اسلام کے حقیقی حامی سرخرو ہوں گے، صدیوں تک اپنا خون بہانے والے اور اسلام کو سینے سے لگا کر شب و روز کرنے والے فوز و فلاح سے ہمکنار ہوں گے اور اسلام کی حقانیت ہی غالب آگر رہے گی.*

✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
28/07/2020

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے