مشترکہ خاندانی نظام اہل علم کی نظر میں

محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

آج موسم بہت سخت رہا، بارہ گھنٹے تک بجلی نہیں رہی، جس کی وجہ سے بارہویں قسط ترتیب نہیں دے سکا، کل ان شاءاللہ بارہویں قسط تحریر کریں گے۔۔۔۔
میرے اس سلسلہ وار تحریر (مضمون) پر جو انتہائی اہم اور حساس موضوع ہے، بعض اہل علم کی قیمتی اور مفید رائیں موصول ہو رہی ہیں۔ ان میں سے دو تحریریں آج قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں، اور آپ حضرات سے بھی درخواست ہے کہ اس موضوع پر اپنی قیمتی اور مفید آراء پیش فرمائیں ان شاء اللہ ہم اس کو کتاب کے ساتھ لاحقہ کے طور پر شامل کریں گے ۔ م ق ن

میں علاحدہ گھر کے بارے میں بات کرنا گھر توڑنے کی طرف دعوت دینا ہے؟
میں مشترکہ خاندانی کے نظام کے بارے میں گفتگو کرتا ہوں, اس کی خامیاں بیان کرتا ہوں, تو بہت سارے لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس طرح آپ گھر توڑنے کی بات کرتے ہیں, اختلاف پیدا کرتے ہیں.
دراصل انسانی ذہن دو طرح کے ہوتے ہیں, مثبت اور منفی, ایک ہی بات کو مثبت ذہن رکھنے والے لوگ مثبت انداز سے سوچتے ہیں, اور منفی ذہن رکھنے والے لوگ منفی انداز سے سوچتے ہیں, بچپن میں اس کی ایک مثال سنتا تھا, کہ اگر ایک گلاس میں آدھا پانی ہے تو منفی ذہن والے کہیں گے کہ آدھا گلاس خالی ہے, اور مثبت ذہن والے کہیں گے کہ آدھا گلاس بھرا ہوا ہے, کبھی کبھی اچھی بات کو بھی آپ غلط طریقہ سے تعبیر کرنے لگیں تو بری لگتی ہے, کسی کو کھانے کی دعوت دیں, اور کہیں آئیے تناول فرمائیے, تو اچھا معنى ہوتا ہے, اور اگر کہیں کہ آئیے ٹھونسیے تو برا ہو جاتا ہے جبکہ انجام کار ایک ہی دونوں صورت میں انسان کھائے گا ہی, عربی شاعر کہتا ہے:
تقول: هذا مجاج النحل تمدحه وإن ذممت تقل: قيء الزنابير
کہ اگر آپ شہد کی تعریف کرنا چاہیں تو کہیں گے کہ یہ شہد کی مکھی کا لعاب ہے, اور اگر برائی کرنا چاہیں تو کہیں گے کہ جنگلی کیڑے کا قیء ہے.
ٹھیک اسی طرح غیر مشترک خاندان کی طرف دعوت دینے کو منفی ذہن والے گھر توڑنے سے تعبیر کرتے ہیں, جبکہ یہ گھر توڑنا نہیں بلکہ گھر بنانا ہے, آپ اس طرح گھر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں, جہاں مشترک خاندانی نظام میں ہمیشہ اختلافات کی گنجائش رہتی ہے, ایک ساتھ رہ کر لڑائی ہوتی ہے, لوگ ایک دوسرے کے خلاف سوچتے رہتے ہیں, آپ یہ مرحلہ آنے دینے سے پہلے الگ زندگی گزارنے کی کوشش کریں, گھر الگ رہے گا تو محبت باقی, اور دائم رہے گی, عربی شاعر کہتا ہے:
سأطلب بعد الدار عنكم لتقربوا وتسكب عيناي الدموع لتجمدا
کہ گھر کی دوری آپسی قربت کے لئے طلب کرتا ہوں, گھر انسان کے سکون واطمینان کی جگہ ہوتی ہے, اور مشترک خاندانی نظام میں یہ سکون حاصل نہیں ہو پاتا, اس لئے الگ گھر کی بات کرنا گھر توڑنا نہیں گھر بنانا ہے, اسلام تہذیب وتمدن والا مذہب ہے, اس کے مقابلہ میں ہندو مذہب میں تہذیب وتمدن کی کمی ہے, وہاں گندگی, آلائش, پیچدیگی بہت زیادہ ہے, دنیا کی مہذب قومیں الگ گھر کے نظام میں زندگی گزارتی ہیں, اس لئے اسلام نے بھی علاحدہ خاندانی نظام کو متعارف کروایا, میں نے مشترک خاندانی نظام کے مسائل کو مذاہب اربعہ کی فقہی کتابوں میں تلاش کرنے کی کوشش کی, لیکن کہیں اس طرح کے نظام کا ذکر نہیں ملا, اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تاریخ میں اس قسم کا نظام رائج نہیں تھا, چونکہ بر صغیر میں ہم ہندووں کی تہذیب میں رہنے کے عادی ہیں اس لئے وہاں اس قسم کا نظام رائج ہے, جبکہ خود ہندووں کے یہاں لوگ ترقی کر کے اس نظام زندگی کو چھوڑ رہے ہیں, اور ہم اسے اسلام سمجھ کر اپنائے ہوئے ہیں.
گھر انسان کی ترقی کا پہلا زینہ ہے, اور مشترکہ خاندانی نظام میں انسان کے لئے ترقی کے مواقع کم رہتے ہیں, وہ اس نظام زندگی کی وجہ سے مختلف پریشانیوں میں مبتلا رہتا ہے, اس کے شب وروز انہیں پریشانیوں کو سلجھانے میں گزر جاتے ہیں, لہذا وہ دوسرے ترقیاتی کاموں کو انجام نہیں دے پاتا ہے.
جبکہ الگ گھر بنا کر وہ سکون کی زندگی بسر کرتا ہے, اس طرح وہ اپنے والدین کی بھی صحیح خدمت کر سکتا ہے, بھائی بہنوں کے ساتھ بھی اچھے سلوک کر سکتا ہے, اور زندگی سے لطف اندوز ہو کر اپنے رب کی عبادت بھی اچھے سے کر سکتا ہے, جیسا کہ اس قسم کی چیزیں جہاں الگ گھر بنا کر زندگی گزارنے کا رواج ہے وہاں دیکھا گیا ہے, وہاں لوگ سارے رشتہ داروں کے حقوق کو ادا کرتے ہوئے آرام کی زندگی بسر کرتے ہیں, اور گھر کا اصل مقصد وہاں حاصل ہوتا ہے۔:
۔۔۔۔۔۔۔۔


یہ ایک اہم موضوع ہے
اس پر مولانا قمرالزماں صاحب نے قلم اٹھایا ہے
ماشاءاللہ انکی کتاب بھی اس موضوع پر آنے والی ہے بڑی خوشی کی بات ہے
اس پر اور زیادہ غور خوض کی ضرورت ہے
ہمارے مشرقی معاشرہ میں اس کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے اور خاص طور پر جن گھرانوں میں زمین جائداد, کھیتی باڑی ہوتی ہے وہاں مشترکہ خاندانی نظام زیادہ پایاجاتا ہے
مشترکہ خاندانی نظام بہت سی خوبیوں کے ساتھ بیشمار خرابیاں بھی اپنے اندر رکھتا ہے
میرے خیال میں مشترکہ اور جداگانہ دونوں خاندانی نظام اچھائی اور برائی دونوں کا حامل ہے
اگر مشترکہ نظام میں طاقت وقوت کا راز پنہا ہوتا ہے، معاشرہ اس گھرانے کا ایک وزن ہوتا ہے ہر کام آسانی سے انجام پاجاتا ہے تو وقت بے وقت آپسی کھٹ پٹ بھی خوب ہوتی ہے
بسا اوقات کام چوری کا مرض بھی جنم لینے لگتا ہے
کاہلی سستی بھی افراد خاندان میں پنپنے لگتی ہے
دوسری طرف جداگانہ نظام میں اک گونا سکون، اپنے کام سے لگاؤ، اور ہر شخص محنت کا خوگر نظر آتا ہے کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اس کی محنت میں کوئی اور ساجھے دار نہیں ہے
لیکن تنہا ہونے کی وجہ سے کمزوری بھی آجاتی ہے کوئی مسئلہ درپیش ہوجائے تو آسانی سے سہارا نہیں مل پاتا ہے
مثلاً میاں بیوی بچوں کے ساتھ الگ رہ رہے ہیں، بیوی کی طبعیت خراب ہوگئی، میاں کو تو روزی روٹی کے لیے باہر جانا ہے گھر میں صرف ماں تھی جو بیمار ہے اب ایک بڑا مسئلہ ہوگیا، کس کو بلائیں کوئی ملنے والا نہیں، کوئی ملتا ہے تو گرانبار احسان بھی ہونا پڑتا ہے جبکہ مشترکہ نظام میں یہ کام انتہائی آسانی سے ہوجاتا ہے، بلکہ؛
بڑے سے بڑا کام منٹوں میں انجام پا جاتا ہے اور کسی کا ممنون بھی نہیں ہونا پڑتا
لہذا دونوں کی اپنی جگہ خوبی اور کمی ہے
اگر ہم دونوں نظاموں کے درمیان اعتدال اپنا لیں تو پھر بے شمار فوائد حاصل کر سکتے ہیں
وہ یہ کہ موٹی موٹی تقسیم کے ساتھ، اشتراک رکھا جائے اور گھر کا ایک مکھیا مقرر کر لیا جائے کچھ بنیادی اصول بھی طے کرلئے جائیں

اشتراک ایسا نہ ہو کہ ایک شخص اپنے بچوں کو کھلونا بھی لاکر نہیں دے سکتا اگر لاے تو سارے خاندان کے بچوں کے لیے لایے ورنہ نہیں، بال بچوں کی دوا دارو میں بھی بےبس ہو
اور علاحدگی ایسی کہ ایک دوسرے کی شکل دیکھنا گوارا نہیں، سد سکندری بھائیوں کے بیچ کھڑی کردیجائے
بلکہ بغیر کسی اختلاف کے آپسی رائے صلاح سے آپس میں زندگی گذارنے کا اصول مرتب کر لیں اور اعتدال میں رہیں نہ من کل الوجوہ اشتراک ہو اور نہ مکمل علاحدگی
کچھ باتیں مشترک ہو ں اور کچھ الگ الگ، تو انشاءاللہ دونوں نظام کی خوبیوں سے بہرہ ور ہوسکتے ہیں
میں نے اپنے ہی خاندان کی بعض شاخوں میں یہ منظر بھی دیکھا ہے کہ بٹوارہ کے وقت گھرگرادیا گیا پھر تقسیم عمل میں آئی ، اسی طرح بعض گھریلو اشیاء تھیں تو اس کو کاٹ دیا گیا یا توڑ دیا گیا اور پھر اسکو بانٹا گیا ظاہر ہے اب وہ کسی کے کام کی نہ رہی اور ضائع ہوگئی، یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ والد صاحب کے تین بچے تھے، انھوں نے ان کے لحاظ سے پلاٹ خرید لیے تھے یا کھیت تھے لیکن جب بٹوارہ کاوقت آیا تو آپسی چپقلش کی وجہ سے بچوں نے ایسا بندر بانٹ کیا کہ نہ کسی کے کام کا پلاٹ رہا نہ کھیتی کے قابل زمین، مثلاً ہرپلاٹ میں سب نے حصہ لگا لیا، ہرجگہ کے کھیت میں سب کے سب حصہ دار بن گئے
یہ سب کیوں ہوا اسلیے کہ تقسیم اس وقت شروع ہوئی جب خوب جم کر لڑائی ہوگیی، سر توڑ لیے ایکدوسرے کے خون کے پیاسے ہوگیے، کیونکہ ایسے وقت میں تو ہر شخص ایسی چال چل رہا ہوتا ہے کہ دوسرے کو اذیت پہونچے خواہ وہ خود مصیبت میں مبتلا ہو جائے
لیکن اگر یہ تقسیم خوشی کے ماحول میں ہوتی تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے اور ہر بھائی دوسرے کا خیال رکھتا اور گھر کے سارے سامان جو جس کے مناسب ہوتے مل جاتے
زمین جائداد کی تقسیم بھی بہتر انداز میں ہوجاتی
لیکن ہمارا مشرقی معاشرہ دو انتہاؤں پر رہتا ہے یا توکامل اشتراک یا پھر مکمل علاحدگی
لہذا میرے خیال میں مشترکہ خاندانی نظام بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے بشرطیکہ کچھ موٹی موٹی تقسیم ہنسی خوشی کے ماحول میں ہو جائے
خلاصہ یہ کہ مشترکہ خاندانی نظام ایک ادارہ کے مانند ہے کہ اگر اس کے اصول متعین ہیں اور ذمہ دار اپنی ذمہ داری ٹھیک سے نبھاتا ہے تو بہت مفید ورنہ اگر عشوائيت ہے تو انتہائی مضر، گھر کا سکون غارت، اور اگر گھرانہ علمی نہیں ہے تو پھر تو طجہنم کدہ بن جاتا ہے ہر شخص گھریلو جھگڑوں میں الجھا رہتا ہے بچوں کی تعلیم وتربیت پر بہت برا اثر پڑتا ہے
ترقی کی راہ مسدود ہوجاتی ہے۔

عبدالرحیم ندوی/ استاد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے