مشترکہ خاندانی نظام غور وفکر کے چند پہلو قسط نمبر ⓬

از: محمد قمر الزماں ندوی 

مدرسہ نور الاسلام، کنڈہ پرتاپگڑھ       

وراثت اور موروثی جائداد کا تنازعہ

                                     مشترکہ نظام کی ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ بالعموم جائداد اور ذرائع آمدنی کی تقسیم عمل میں نہیں آتی اور نہ اس کی ضرورت ہی سمجھی جاتی ہے، اور بسا اوقات پشتہا پشت تک اسی طرح معاملہ چلتا ہے، عموماً اس کی نوبت اس وقت آتی ہے، جب شدید اختلاف، جھگڑے اور تنازعات کے بعد کشیدہ ماحول میں ورثہ عیلحدگی پر مجبور ہوتے ہیں، پھر بہت سے پرانے تنازعات ، لڑائیاں اور قصے سامنے آتے ہیں، حق تلفیوں اور زیادتیوں کے معاملات اجاگر ہوتے ہیں، اور پھر لڑائی اور باہمی کشا کش کا ایسا دور شروع ہوتا ہے کہ الامان و الحفیظ۔۔ 

  ایسے قضیے اور تنازعات کو نپٹانا اور حل کرنا آسان نہیں ہوتا، یہ چیزیں تمام اہل خانہ کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہیں، اگر جداگانہ خاندانی نظام کو رائج کیا جائے، اس کو نافذ کیا جائے اور والدین بھی حتیٰ المقدور شادی کے بعد جلد ہی اپنی اولاد کو علحیدہ کردیں اور وراثت کی فوری تقسیم عمل میں آجائے تو شاید یہ دن کسی کو نہ دیکھنا پڑے۔ 

          اکثر علاقوں میں اور بہت سے خاندانوں میں یہ برائی پائی جاتی ہے، کہ والد کے انتقال کے بعد والدہ اپنے شوہر کے کل جائداد پر قابض رہتی ہیں اور ان کی طرف سے یہ اعلان ہوتا ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں کل جائداد اور ترکہ کا مالک میں رہوں گی، میری زندگی تک کوئی جائداد اور زمین تقسیم نہیں ہوگی،مشترکہ نظام رہے گا،جائداد تقسیم نہیں ہوگی،جو بچہ میرے ساتھ رہے گا اور مجھ سے مناسبت اور تعلق رکھے گا وہ اس جائداد سے استفادہ کرے گا باقی کسی کو میری موت تک کوئی اختیار نہیں ہوگا، جب کہ شریعت کا حکم یہ ہے کہ عورت کو شوہر کے انتقال کے بعد صرف شوہری حق ملے گا ، اگر اولاد ہے تو کل جائداد کا آٹھواں حصہ ملے گا اور اگر اولاد نہیں ہے تو ربع یعنی چوتھائی حصہ ملے گا۔۔ بیوی کا شوہر کے انتقال کے بعد کل جائداد پر قابض رہنا از روئے شرع کسی طرح درست نہیں ہے۔۔۔۔ اس کا منفی اثر یہ ہوتا ہے کہ ایک تو بیوی کا یہ عمل خلاف شرع ہے، دوسری طرف جو بچہ ماں کے ساتھ رہتا ہے وہ بھائی کے حصے سے بھی بلا اس کی مرضی اور رضا و رغبت فائدہ اٹھاتا ہے ناحق کھاتا ہے، بلکہ حق مارتا ہے،اور ماں کی محبت کو صرف اپنی طرف مرکوز کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دوسری اولاد یعنی دیگر بھائی بہن کو ماں سے قریب نہیں ہونے دیتا ہے۔۔ کتنے ایسے گھرانے ہیں جہاں ماں کی پینشن پر کسی خاص بیٹے کا قبضہ اور تصرف رہتا ہے اور پوری زندگی وہی فائدہ اٹھاتا رہتا ہے۔ یہاں دوسرے بھائی کی بھی غلطی رہتی ہے کہ وہ ماں سے قطع تعلق کرلیتا ہے اور ان کی خدمت سے بالکلیہ الگ تھلگ ہوجاتا ہے، وہ ماں کی محبت و شفقت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا ان کو راضی کرنے کے لیے کبھی دھیان نہیں دیتا ، ہمیشہ خود کو اور اپنے بچوں کو ان سے دور رکھتا ہے، یا یہ کہئے کہ دوری بنائے رکھتا ہے۔۔ یہ رویہ اور طرز عمل بھی کسی طرح درست نہیں ہے۔۔۔۔

 

              آپسی تعلقات کی خرابی

  

     آپسی تعلقات کی خرابی بھی اس نظام کے مستلزمات میں سے ہے، کیونکہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ ایک جگہ جن لوگوں کے ساتھ رہتا ہے، ان سے طبیعت میں ایک طرح کی بیزاری پیدا ہوجاتی ہے، اس نظام میں سب ایک دوسرے کی چھوٹی بڑی غلطیوں اور خامیوں پر نظر رہتی ہے، اس لیے آئے دن جھگڑے، اختلافات اور چشمک کے مناظر سامنے آتے رہتے ہیں، اس بوجھ کے ناقابل برداشت ہوجانے کی صورت میں جب خاندان ٹوٹتا ہے، اس کا شیرازہ بکھرتا ہے تو اس کا عبرت ناک انجام نگاہوں کے سامنے ہوتا ہے، آپس میں ایک دوسرے پر الزامات اور تہمتوں کا دور شروع ہوتا ہے، ایک دوسرے کی خامیوں اور کمیوں کو اچھالا جاتا ہے، دوسرے لوگ ایسے موقع پر تاک لگائے بیٹھے رہتے ہیں اور محلہ کے لوگ منتظر رہتے ہیں ،وہ لوگ،

لگے ہے آگ گھر میں تو ہمسایہ ہوا دے ہے کے مصداق بنے رہتے ہیں، پھر یہ تعلقات ایسے ٹوٹ تے ہیں کہ موت و حیات اور خوشی و غم میں بھی ایک دوسرے کے کام آنے سے گریز کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے