قوموں کی بھی موت کا وقت طے ہے

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺(939)

*قوموں کی بھی موت کا وقت طے ہے.*

*ایسا نہیں ہے کہ موت صرف انسانوں کیلئے ہے، بلکہ دنیا کی ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، سائنس یہ مانتی ہے کہ دنیا میں موجود ہر شئی میں جان ہے، اسی لئے قرآن نے بھی کہا:كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ__ “ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے” (آل عمران:١٨٥). مگر کیا آپ نے سوچا ہے کہ یہ موت قوموں پر بھی آتی ہے، پچھلی قومیں آئیں، ان کے ساتھ انبیاء کرام علیہم السلام بھی تشریف لائے، کتابیں بھی انہیں عطا کی گئیں، مگر بہت سوں نے رشد و ہدایت کی رسی نہ تھام کر شیطان و ابلیس کی راہ پر چلتے رہے، اس کی جستجو میں گرد چھانتے رہے، صحف سماویہ پر عمل پیرا ہونے کے بجائے جواہشات نفسانی کی اتباع کرتے رہے ایسے میں ان قوموں کو بھی موت نے گلے لگا لیا، ان کی برائیاں ان پر الٹ دی گئیں، وہ آپ ء برے اعمال کے ساتھ غرق کر دئے گئے، اگر کسی نے ایمان و اقرار سے کام لیا تو یقیناً اس کا انجام بہتر ہوا، وہ طوفان میں بھی سلامت رہے، سیلاب میں بھی تیرتے رہے، زمین پلٹ دی گئی، آسمان سے پتھر برسائے گئے، فرشتوں نے تمام بساطیں لپیٹ دیں؛ لیکن حق کے راہی کامیاب و کامران رہے، قرآن کریم قوموں کی موت اور ان کی مدت اجل کا تذکرہ کرتے کہتا ہے:وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ___”ہر گروہ کیلئے ایک مدت مقرر ہے، جب ان کا مقررہ وقت آجائے گا، تو وہ نہ اس سے ایک لمحہ پیچھے ہٹ سکیں گے، اور نہ آگے بڑھ سکیں گے” (اعراف:٣٤).*

ایسا بھی نہیں ہے کہ قرآن نے ان قوموں کی انتہا کو بیان کردیا ہو اور ان کے اسباب سے روگردانی کی ہو؛ بلکہ کلام مجید کا خاصہ یہ بھی ہے کہ وہ برائیوں کے ساتھ ان کی وجوہات کا بھی ذکر کرتا ہے، وہ بتلاتا ہے کہ کو. سے امراض تھے جن کی وجہ سے قومیں تباہ ہوئیں؛ تاکہ آئندہ لوگ اس سے بچیں، اپنے انجام کی فکر کریں، چنانچہ قوموں کی موت کی وجہ اگر جاننا چاہیں تو اس آیت سے قبل والی یہ آیت پڑھیں:قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ__”آپ فرمادیجئے! کہ میرے پروردگار نے تو کھلی اور چھپی ہوئی بے حیائی کی باتوں کو، گناہ کو، ناحق ظلم کرنے کو،اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے کو…. جس پر اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری ہے…. اور بغیر جانے بوجھے اللہ پر جھوٹی باتیں گڑھنے کو حرام قرار دیا”( اعراف:٣٣)، غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ان سب کے حرام ہونے کی وجہ یہی ہے کہ ان سے قومیں مٹ جاتی ہیں، فحش و عریانیت اور ظلم انسانی برادری کیلئے ایک ایسا زہر ہے جو اسے موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے، اس کی جڑیں خواہ کتنی ہی مضبوط ہو انہیں اکھیڑ کر رکھ دیتا ہے.

*حقیقت یہ ہے کہ امتیں بھی مبعوث ہوتی ہیں، وہ ایک جان اور روح ہے، جس کی شہ رگ عبادت و طاعت اور خدا تعالیٰ کے احکام کو بجالانا ہے؛ لیکن اگر اس کی اطاعت کے بجائے شرک کا بول بالا ہوجائے، انصاف زمین سے اٹھا لیا جائے، لوگ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں اور انسانیت دبے دباؤ رخصت ہو کر نفس ہر کسی پر حاوی ہوجائے تو یقیناً اس قوم کی موت آجاتی ہے، اسے صفحہ ہستی سے مٹادیا جاتا ہے، اور ایسے ختم کردیا جاتا ہے کہ اسے بطور عبرت یاد کرتے ہیں، قرآن کریم میں بہت سی قوموں کا تذکرہ آیا ہے، ان کی داستانیں دراصل اسی بات کا پتہ دیتی ہیں؛ کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی سرزمین میں فساد کا ذریعہ بن گئے تھے، انسانی خصائص سے دور ہوگئے تھے، وہ خود فراموش اور خدا فراموش ہوگئے تھے، جاہلیت کے دلدل میں دھنس گئے تھے، نتیجتاً انہیں ایسی سزا دی گئی کہ زمین بوس ہوگئے، ان کا نام و نشان ختم کردیا گیا، اور زمانہ کا پہیہ یوں گھوما کہ اپنے آخری نقطہ کو جا لگی، چنانچہ افق انسانی کی آخری قوم بھی مبعوث کردی گئی، اور واقعہ یہ ہے کہ اس تاریک ترین جہالت ہی کی کوکھ سے اسلام کا نور پھوٹا ہے، پیغام و رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنم لیا ہے اور عالم انسانی کو ایک نظام و قانون دے کر سیدھی راہ کا راہ رو بنایا ہے؛ لیکن جب اس امت کی نافعیت بھی کم ہوگئی، اس کے اندر بھی پچھلی قوموں کی برائیاں سرایت کرنے لگیں تو ان کے ساتھ بھی وہی ہوا جو سابقہ قوموں کے ساتھ ہوچکا تھا، انہیں دنیا کی سرداری سے محروم کر کے ایک آزمائش میں ڈال دیا گیا، اور بطور عبرت دوسری قوموں کو ان پر مسلط کردیا گیا؛ تاکہ لوہا پھر سے شعلہ میں تپ کر نکلے، سونا پھر پکے اور کھرا ہوجائے، چونکہ یہ امت آخری امت ہے، چنانچہ جس دن اس کی میعاد پوری ہوجائے گی، اس دن قیامت آجائے گی، اس سے قبل امت مسلمہ کے ہاتھ میں ہی باگ ڈور رہنا ہے، بس آزمائشوں کا دور بھی رہے گا، مصائیب بھی آئیں گے اور سچے و جھوٹے کا فرق بھی کیا جاتا رہے گا، منافق و مومن کی تمیز بھی ہوتی رہے گی، کھرا اور کھوٹے کو الگ کیا جاتا رہے گا، اور ایک وقت آئے گا کہ صرف خلوص رہے، شفافیت باقی ہو اور دنیا اپنے انجام کو پہونچے.*

✍ *محمد صابر حسین ندوی*

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

09/06/2020

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے