مغربی نظامِ تعلیم کے اثرات

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺(938)

*مغربی نظامِ تعلیم کے اثرات*

*مفکر اسلام حضرت مولانا سیدی ابوالحسن علی ندوی فرماتے ہیں: “یہ مغربی نظامِ تعلیم درحقیقت مشرق اور اسلامی ممالک میں ایک گہرے قسم کی لیکن خاموش نسل کشی کے مرادف تھا، عقلاء مغرب نے ایک پوری نسل کو جسمانی طورپر ہلاک کرنے کے فرسودہ اور بدنام طریقہ کو چھوڑ کر اسکو اپنے سانچے میں ڈھال لینے کا فیصلہ کیا اوراسکام کیلئے جابجا مراکز قائم کئے جن کو تعلیم گاہوں اور کالجوں کے نام سے موسوم کیا۔” (مسلم ممالک میں مغربیت اوراسلامیت کی کشمکش: ۲۴۷) دراصل جن تعلیم گاہوں اور نظام کا تذکرہ ہے، ان مراکز و یونیورسٹیز کا ثمرہ اب کوئی ناپید نہیں ہے، بلکہ اس کے مضرات کھلی نگاہوں سے دیکھے جا سکتے ہیں، مغربی نظام تعلیم سے سیر یافتہ طلبہ و طالبات جن سے اب پورا معاشرہ اور ملک بن چکا ہے ان کے مابین تعلقات کی کمی، محبت و انسیت سے دوری، انسانیت نوازی اور انسانیت پروری سے بعد اور آپسی رواداری کا ثبوت مٹ چکا ہے، اس تعلیم کا نتیجہ صرف شکم پرستی، بوالہوس اور نفس پرستی کی صورت میں نظر آرہا ہے، ان کے مابین اب بھی وہی بھید بھاؤ نسل پرستی اور نسل کشی کے مراسم پائے جاتے ہیں، امریکہ میں سیاہ فام کو سفید فام کے ہاتھوں قتل کرنے کے حالیہ واقعہ کے بعد یہ کھائی کس قدر گہری اور مہلک ہے اسے بھی سمجھنا آسان ہوگیا ہے.*

*ایک سیاہ فام کو سفید فام نے کس بے دردی سے قتل کردیا اور اس کی آگ جب ملک میں پھیلی تو کس قدر اخلاقی و انسانی حقوق پامال کئے گئے (جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے) یہ سب کوئی پوشیدہ بات نہیں ہے، آتش زنی اور لوٹ مار کی وارداتوں نے سب کو حیران کردیا، ایک مہذب و تعلیم یافتہ طبقہ جس معاشرے کی اکثریت ہو اور جہاں سے تعلیم کا سر چشمہ یوں بہتا ہو کہ انہیں اپنے نصاب اور اپنے نظام پر فخر ہو، ان کا حال یہ ہے کہ وہ بنیادی حقوق کا بھی پاس و لحاظ نہیں رکھتے، کرونا وائرس اور ایک شخص کے حادثے نے پورے نظام کے کھوکھلے پن کو سامنے لاکر رکھ دیا ہے، لوگوں میں عجیب و غریب افراد تفری اور بے اطمینانی ہے، ان کی تعلیم گاہوں نے انہیں سرکش بنا دیا، وہ حقوق کی بازیابی کیلئے حقوق تلفی کا ارتکاب کر رہے ہیں، وہ کو سوسائٹی اور انسانیت کے لطیف جذبات سے محروم ہوگئے ہیں، دل کی گرماہٹ اور سینہ کی حرارت ختم کردی، اگر پیٹ بھرا نہ ہو اور نفس کو کچلنے کی نوبت آجائے یا کسی بھی مصیبت سے انہیں آزما لیا جائے تو سب سے زیادہ کھوکھلے اور سب سے زیادہ بے سود ثابت ہوتے ہیں، تعلیم اور نظام تعلیم کی اس سے زیادہ ناکامی کیا ہوگی کہ انسان اپنی انسانیت کے عناصر سے ہی دور ہوجائے!!!!*

*غالباً ان سب کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے نظام تعلیم میں انسان کو اپنے دل سے دور کیا جاتا ہے، اپنے خالق و مالک سے اجنبیت پیدا کردی جاتی ہے، وہ اپنے رب کے وجود کو مشکوک سمجھنے لگتے ہیں، ان کے اندر عمومی طور پر لوگ الحاد و دہریت یا کم از کم دین و مذہب کے بارے میں تشکیک و تذبذب کا شکار ہو تے جاتے ہیں، تو وہیں دنیا کا سچا دھرم اور سب کو انسانیت و رحمت کا پیغام دینے والا، دنیا کی آخری امید اور نسل انسانی کی لاج اسلام اوراس کی تعلیمات پر حملے کرنے میں بھی کوئی باک محسوس نہیں کرتے، چنانچہ علامہ شبلی نعمانی نے اپنے خطبات میں فرمایا ہے کہ: “جدید تعلیم میں مذہبی اثر نہ ہونے کا یہ نتیجہ ہے کہ سینکڑوں تعلیم یافتہ مذہبی مسائل کو تقویم پارینہ سمجھتے ہیں، اخباروں میں آرٹیکل نکلتے ہیں کہ اسلام کا قانون وراثت خاندان کو تباہ کردینے والا ہے، اسلئے اس میں ترمیم ہونی چاہئے، ایک صاحب نے مضمون لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے، پیغمبر تھے، مدینہ جاکر بادشاہ ہوگئے اور اسلئے قرآن مجید میں جو مدنی سورتیں ہیں وہ خدائی احکام نہیں بلکہ شاہانہ قوانین ہیں، ایک موقعہ پر مجھ سے لوگوں نے لکچردینے کی درخواست کی، میں نے پوچھا کس مضمون پر لکچردوں؟ ایک گریجویٹ مسلمان نے فرمایا کہ اور چاہے جس مضمون پر تقریر کیجئے لیکن مذہب پر نہ کیجئے، ہم لوگوں کو مذہب نام سے گھن آتی ہے (نقل کفرکفر نہ باشد)یہ صرف دوچار شخص کے خیالات نہیں، مذہبی بے پروائی کی عام وبا چل رہی ہے، فرق یہ ہے کہ اکثر لوگ دل کے خیالات دل ہی میں رکھتے ہیں اور بعض دلیر طبع لوگ انکو ظاہربھی کردیتے ہیں۔”(خطبات شبلی : ۵۸-۵۹).*

*علامہ اقبال جو انہی کالجوں کے پروردہ اور یورپی دنیا اور وہاں کے لوگوں کی عیاریوں و مکاریوں سے خوب واقف تھے، انھوں نے انہی حالات کے مطالعہ و مشاہدہ کے بعد کہا تھا کہ:*

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم

کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

*اس شعر کی تشریح کرتے ہوئے شارحِ اقبالیات پروفیسر یوسف سلیم چشتی نے لکھا ہے کہ: “تعلیم حاصل کرکے نوجوانوں کو سرکاری ملازمت تو بیشک مل جاتی ہے، لیکن اس مغربی تعلیم کی وجہ سے ان کے اندر الحاد کا رنگ بھی تو پیدا ہوجاتا ہے، مسلمان کے گھر میں دولت آرہی ہے، لیکن کفر کی لعنت بھی اس کے ساتھ ساتھ داخل ہورہی ہے، تو ایسی دولت کس کام کی؟ واضح ہو کہ مغربی تعلیم کے مضر ہونے پراقبال نے فیصلہ ۱۹۱۳/ میں صادر کیا تھا،اور قوم اس وقت سے لیکر تا ایں دم اسی سم قاتل کو نوشِ جانِ ناتواں فرمارہی ہے، تو ناظرین خود اندازہ کرلیں کہ مریض اب کس منزل میں ہوگا؟” (بانگ درا مع شرح، ص: ۵۵۷ تا ۵۵۸).*

✍ *محمد صابر حسین ندوی*

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

08/06/2020

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے