آسماں  ان  کی  لحد  پر  شبنم افشانی  کرے

آہ مولانا ڈاکٹر ولی اختر ندوی نہیں رہے

محمد قمر الزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

شوسل میڈیا کے ذریعہ کل شام یہ خبر ملی کہ ڈاکٹر ولی اختر ندوی مختصر علالت کے بعد اللہ کو پیارے ہوگئے، ڈاکٹر ولی اختر اسم بامسمٰی تھے، نیک دل نیک صفت ، خلیق ملنسار، متواضع، مخلص،متشرع، غیرت ملی و دینی سے سرشار انسان تھے، علم و عمل اور صلاح و صلاحیت کے جامع تھے۔ ان کا پورا گھرانہ علمی و دینی تھا، ان کے والد مرحوم مولانا امان اللہ فیضی جود بڑے عالم دین اورشریعت کے بے حد پابند انسان تھے، مدرسہ ریاض العلوم میں ایک مدت تک شیخ الحدیث رہے، انہوں نے اپنی تمام اولاد کو پہلے عالم بنایا اور ان کی بہت اچھی تربیت کی، ان کے دو لڑکے ریاض العلوم میں استاد ہیں، ایک صحافت سے جڑے ہیں،ڈاکٹر ولی اختر ندوی ان کے منجھلے صاحبزادے تھے جو کل شام اللہ کو پیارے ہوگئے ۔

خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں

موت تو ایک اٹل حقیقت ہے، اس سے کسی کو مفر نہیں، دنیا میں موت ہی وہ واحد حقیقت ہے، جس کا کسی نے آج تک انکار نہیں کیا ، ورنہ تو تمام حقیقتوں کا انکار کرنے والے کچھ نہ کچھ موجود رہے ہیں، اس دنیا میں جو بھی آیا ہے سب کو جانا ہے، موت برحق ہے اور اس عالم آب و گل سے جدائی یقینی ہے۔ موت ٹل نہیں سکتی، ملک الموت اہنی قلعوں میں بھی دبے پاؤں پہنچ جاتا ہے۔ جو یہاں سے جاچکے ہیں، ہم بھی ان کے پیچھے آرہے ہیں، جانا بہر حال ناگزیر ہے، بس آگے پیچھے کی بات ہے۔

ندوہ میں داخلہ کے بعد جن نئے فارغین کا ساتھیوں میں تذکرہ تھا اور جن کی صلاحیتوں کا اور صلاح و نیکی کا چرچا تھا ، ان میں نمایان نام ولی اختر صاحب کا بھی تھا، طارق شفیق بھائی اور برادرم نیاز عطاء ندوی بہت محبت اور عقیدت سے ان کا اور ان کے خاندان کا تذکرہ کرتے تھے، جس سال (۱۹۸۸ء) میں ندوہ میں داخل ہوا اس سال وہ ندوہ سے فارغ ہوچکے تھے، میں مدرسہ انوار الاسلام مادھو پور سے جس سال ثانویہ رابعہ کا سالانہ امتحان دینے ندوہ گیا، وہ اس سال تخصص سال دوم کا امتحان دے رہے تھے، اس لیے ان کے بارے میں دیدہ کچھ بھی نہیں ہے، جو کچھ ہے وہ شنیدہ ہے۔

صرف ایک بار چند سال پہلے ان سے دلی یونیورسٹی میں ملاقات ہوئی ہے ، جہاں الحوار بین المذاہب کے عنوان پر ڈی یو اور اسلامک فقہ اکیڈمی کے اشتراک سے سیمنار ہوا تھا، بہت مختصر اور سرسری ملاقات اور تعارف ہوا ، ڈاکٹر صاحب پروگرام کے سلسلہ میں اور اپنے معاصر ساتھیوں افتاب عالم دھنبادی اور مولانا عبد الباسط ندوی وغیرہ سے ملاقات اور باتوں میں اس قدر مصروف اور محو تھے، کہ ہم صرف دور دور سے ان کو دیکھتے رہے اور دل دل میں یہ شعر گنگناتے رہے۔۔۔۔۔۔

ممکن نہیں تعین منزل پہ اتفاق

تم آسماں سے دیکھ رہے ہو، زمیں سے ہم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک وقت وہیں یاد پڑتا ہے کہ ان کے خاص ساتھیوں کے ساتھ کھانا بھی کھایا۔ عبد الباسط ندوی صاحب نے میرا تعارف کرایا۔

دنیا سے جانے والوں کی خوبیاں، نیکیاں،اچھائیاں بیان کی جائیں یہ آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، اذکروا محاسن موتاکم۔اور جو شخص باکمال ہو علم و عمل اور صلاح و صلاحیت ہر دو اعتبار سے جامع ہو، جن کی زندگی لوگوں کے لیے نمونہ ہو ان کا ذکر خیر تو خوب ہونا چاہیے تاکہ خلف سلف سے کچھ سیکھ سکے اور اپنی زندگی میں مہمیز دے سکے۔ ۔۔۔۔۔۔

آج تو غلو اور مبالغہ کا زمانہ ہے لوگ تعریف اور مدح میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں، زرہ کو پہاڑ بناتے ہیں جو خوبیاں ممدوح میں نہ ہو وہ بھی ثابت کرتے ہیں، جس فن میں ماہر نہ ہو اس میں بھی طاق بتاتے ہیں۔ اس لیے اب کسی حقدار کے بارے میں لکھنے میں بھی ڈر لگتا ہے کہ لوگ کہیں اس کو بھی مبالغہ اور افراط و تفریط پر محمول نہ کرلیں۔

مولانا ڈاکٹر ولی اختر مرحوم کے بارے میں ان کے اساتذہ، طلبہ،دوست و احباب، معاصرین اور گھر والے سب گواہی دین گے کہ ولی صاحب اسم بامسمٰی تھے وہ جبہ و دستار میں تو نظر نہیں آتے تھے، لیکن اخلاق کریمانہ نرم دلی،شفقت و محبت اور خیر خواہی ، علم دوستی ان کا وطیرہ اور شعار رہا ۔ کہتے ہیں کہ ناموں کا انسان کی زندگی پر بہت حد تک اثر پڑتا ہے۔ ان کے والد محترم نے بہت سوچ سمجھ کر اور غور و فکر کے بعد ہی ان کا نام ولی اختر رکھا ہوگا، اس ہونہار بچہ اور لاڈلہ کا نام رکھتے وقت ان کے دل کی ایک خاص کیفیت رہی ہوگی ، نیک اچھے سچے اور پاکیزہ جذبے سے انہوں نے یہ نام رکھا ہوگا۔ اس میں شک نہیں کہ ان کا خواب شرمندئہ تعبیر ہوا، انہوں اپنے سامنے نکھرتے ہوئے ان کی صلاحیت اور صالحیت کو اور علم و عمل کو دیکھا اور دل سے دعائیں نکلیں۔

بقول شخصے اتنی مصروفیت کے باوجود انہوں نے والدین کی حیات تک ، ان کی جو بے مثال خدمت کی اور جس طرح وہ ان کے سامنے سعادت مندانہ بچھے رہے، وہ ہم جیسے ناکارہ کی عبرت کے لیے،ایک بہترین سبق، نمونہ اور مثال ہے۔

بچوں کی تربیت پر ان کی خاص توجہ تھی اس میں میں وہ کسی طرح کی روا روی،لچک اور روا داری کے قائل نہیں تھے۔ ڈاکٹر ایوبی صاحب نے صحیح کہا ہے وہ دنیا کے گنے چنے اور منتخب پروفیسر تھے، جنہوں نے اپنی تمام اولادوں کو پہلے دینی تعلیم دلائی۔ وہ قدیم صالح اور جدید نافع کے جامع اور داعی تھے، اور اپنی اولاد کو بھی ان صفات کا حامل بنانا چاہتے تھے۔ ندوہ اور تمام دینی مدارس کی نافعیت کے قائل تھے اور ان اداروں کے قدرداں تھے۔

اب تو حال یہ ہے کہ مدرسہ سے فارغ ہونے کے بعد جیسے ہی طلبہ یونیورسٹی کی طرف قدم بڑھاتے ہیں، پہلے تو وضع قطع بدل ڈالتے ہیں، بعض تو کہنے لگتے ہیں مدرسہ میں تو زندگی برباد ہوگئی، یونیورسٹی آنے کے بعد آنکھ کھلی ہے کہ دنیا کیا ہے علم اور تحقیق کیا ہے؟ یہ وہ لوگ ہیں جو احساس کمتری و کہتری کے شکار ہوتے ہیں، جن کا کوئی خاندانی بیگراونڈ نہیں ہوتا نئی نئی دولت خاندان میں آئی ہوتی ہے، پرکھے ناخواندہ ہوتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ مدارس کی ناقدری کرتے ہیں اور اپنی اولاد کو پھر مدارس کے سایہ سے بھی دور رکھتے ہیں اور آگے چل کر خود بے نام نشان اور بے وقعت ہوکر رہ جاتے ہیں۔

ولی صاحب ندوی مرحوم اپنے اسلامی وضع و قطع، رنگ و آہنگ، چہرہ و بشری اور خودی و خوداری کے ساتھ ہر جگہ نمایاں رہے، اور دونوں میکدے کی بھرپور ترجمانی کرتے رہے، احساس کمتری کو اپنے قریب نہ پھٹکنے دیا۔

ایسا کہاں سے لاوں کہ تجھ سا کہوں جسے

ان کی علمی قابلیت بھی سب کے درمیان مسلم تھی، وہ ندوہ میں نمایاں اور مثالی لڑکوں میں تھے اساتذہ ان کی صلاحیت اور صالحیت کے معترف اور قدردان تھے ، وہ اردو، عربی اور انگریزی کے ماہر تھے۔ ادب اسلامی ان کا اختصاص تھا، معلوم ہوا کہ ان کی عربی اور انگریزی کی کتابیں ملک کی متعدد یونیورسٹیوں میں داخل نصاب ہے۔

ولی اختر صاحب مرحوم اصلا بکو راہر سیتھا مڑھی بہار کے رہنے والے تھے لیکن والد صاحب اور تمام برادران نے دہلی کو ہی وطن ثانی بنا لیا، ممکن ہے اگر بہار میں رہتے تو ان کی ولایت بجھی رہتی اور گمنام ہوجاتے کیونکہ مشہور ہے کہ بہار کی زمین جتنی مردم خیز ہے اتنی مردم خور بھی ہے۔ دہلی کے قیام کو اللہ نے اس لیے مقدر کیا کہ ولی کلی بن کر پھول بنے اور اپنی خشبو سے خلقت کو معطر کرے، لیکن اللہ کی مصلحت کہ جب تیز خشبو بکھیرنے کا وقت آیا فضا کو خوب معطر کرنے کا وقت آیا یہ پھول دنیا کے اعتبار سے مرجھا گیا لیکن رب کی نظر میں وہ شاد کام ہوگیا۔ اور یہ کہہ کر پیام اجل آگیا کہ۔ یا ایتھا النفس المطمئنة *ارجعی الی ربک راضیة مرضیة * فادخلی فی عبادی و ادخلی فی جنتی۔

ایسے شریف، نیک طبع، خوش مزاج اور علم و عمل کا جامع اور صالح شخص کا اس طرح رخصت ہوجانا یقینا ان کے اہل خانہ، متعلقین،دوست و احباب اور تمام ملنے جلنے والوں کے لیے ایک زبردست صدمہ ہے۔ اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے متعلقین اور تمام ورثہ کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔

آسماں ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے

سبزئہ نورستہ اس گھر کی نگہ بانی کرے

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے