کیا تابعی علم و عمل میں صحابی سے بڑھ سکتا ہے

*⚖️سوال و جواب⚖️*

*مسئلہ نمبر 1175*

*کیا تابعی علم و عمل میں صحابی سے بڑھ سکتا ہے*

*سوال:* ایک سوال ہے کہ صحابہ مقام ومرتبہ کے اعتبار سے پوری امت میں افضل ہیں، لیکن کیا بعض تابعین علمی اعتبار سے بعض صحابہ پر فائق ہیں؟ اس سلسلہ میں علمائے متقدمین کی کوئی کتاب یا تحریر یا متاخرین کی کوئی تحقیق آنجناب کی نظر سے گزری ہو تو مطلع فرمائیں گے۔

والسلام

محبکم

(حسان اختر ندوی

سابق خادم جامعہ اسلامیہ مظفر پور اعظم گڑھ ۔۔

حال مقیم العین متحدہ عرب امارات)

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*

*الجواب وباللہ التوفیق*

انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد روئے زمین پر جن حضرات کا سب سے اونچا اور بلند تر مقام ہے وہ صحابہء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ذات والا صفات ہے، درجہ و فضیلت کے اعتبار سے کوئی تابعی خواہ کتنے ہی کمالات کا مالک ہو ادنی سے ادنی تر صحابی کے برابر نہیں ہوسکتا، یہ فضیلت قرآن مجید احادیث نبویہ اور اجماع امت سے ثابت و مسلم ہے(١)، البتہ مقام و مرتبہ اور درجہ و فضیلت سے ہٹ کر یہ بات کہ کیا کوئی تابعی کسی صحابی سے علم و عمل میں بڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میں سب سے زیادہ مفصل بسیط اور مدلل کلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ہے، علامہ ابن تیمیہ نے اس بحث کو زیر قلم لانے سے پہلے بنیادی مقدمہ یہ قائم کیا ہے کہ ان کا مقصود کیا ہے، پھر آپ نے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ تمام چیزوں کا مقصود ایمان اور ایمان کی کیفیت میں مطلوب درجہ ہے، اور ظاہر ہے کہ صحاپہ کرام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت بابرکت سے جو روحانی فیض ملا اور ایمان کا جو رتبۂ بلند ملا وہ ہر مدعی کے واسطے نہیں ہوسکتا، چنانچہ یہ ممکن ہے کہ کوئی تابعی یا بعد کی کوئی شخصیت بظاھر کمیت کے اعتبار سے کسی صحابی سے بڑھ جائے؛ مگر حقیقت و کیفیت اور مقصود کے اعتبار سے ادنی صحابی بھی اس سے مقدم رہے گا(٢)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

*📚والدليل على ما قلنا📚*

(١) لَٰكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ وَأُولَٰئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (التوبة 88)

( وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (التوبة 100)

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيَقُولُونَ : فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ : هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ : هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ “. (صحيح البخاري رقم الحديث ٣٦٤٩ كِتَابٌ : فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ | بَابُ فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ)

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ (صحيح البخاري رقم الحديث ٣٦٥٠ كِتَابٌ : فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ | بَابُ فَضَائِلِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ)

(٢) وذلك أن الإيمان الذي كان في قلوبهم حين الإنفاق في أول الإسلام وقلة أهله وكثرة الصوارف عنه وضعف الدواعي إليه لا يمكن أحدا أن يحصل له مثله ممن بعدهم، وهذا يعرف بعضه من ذاق الأمور وعرف المحن والابتلاء الذي يحصل للناس وما يحصل للقلوب من الأحوال المختلفة. (منهاج السنة ٢٢٦/٦ السبب الثالث)

العلماء متفقون على أن جملة الصحابة أفضل من جملة التابعين، لكن هل يفضل كل واحد من الصحابة على كل واحد ممن بعدهم ويفضل معاوية على عمر بن عبد العزيز؟ ذكر القاضي عياض وغيره في ذلك قولين وأن الأكثرين يفضلون كل واحد من الصحابة وهذا مأثور عن ابن المبارك وأحمد بن حنبل وغيرهما، ومن حجة هؤلاء أن أعمال التابعين وإن كانت أكثر وعدل عمر بن عبد العزيز أظهر من عدل معاوية وهو أزهد من معاوية لكن الفضائل عند الله بحقائق الإيمان الذي في القلوب، وقد قال النبي صلى الله عليه و سلم لو أنفق أحدكم مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه، قالوا فنحن قد نعلم أن أعمال بعض من بعدهم أكثر من أعمال بعضهم لكن من أين نعلم أن ما في قلبه من الإيمان أعظم مما في قلب ذلك والنبي صلى الله عليه و سلم يخبر أن جبل ذهب من الذين أسلموا بعد الحديبية لا يساوي نصف مد من السابقين، ومعلوم فضل النفع المتعدي بعمر بن عبد العزيز فقد أعطى الناس حقوقهم وعدل فيهم فلو قدر أن الذي أعطاهم ملكه وقد تصدق به عليهم لم يعدل ذلك مما أنفقه السابقون إلا شيئا يسيرا وأين مثل جبل أحد ذهبا حتى ينفقه الإنسان وهو لا يصير مثل نصف مد، ولهذا يقول من يقول من السلف غبار دخل في أنف معاوية مع رسول الله صلى الله عليه و سلم أفضل من عمل عمر بن عبد العزيز. انتهى. (منهاج السنة ٢٢٦/٦ السبب الثالث)

*كتبه العبد محمد زبير الندوى*

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مؤرخہ 15/10/1441

رابطہ 9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے