بھانجی کی بیٹی سے نکاح کا حکم

*⚖️سوال و جواب⚖️*

*مسئلہ نمبر 1176*

(کتاب النکاح باب المحرمات)

*بھانجی کی بیٹی سے نکاح کا حکم*

کیا بھانجی کی بیٹی سے نکاح درست ہوسکتا ہے؟ شریعت اسلامی کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟ (عبید الرحمٰن، رامپور یوپی)

*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*

*الجواب وباللہ التوفیق*

قرآن مجید میں جہاں محرمات ابدیہ یعنی وہ خواتین جن سے ہمیشہ کے لیے آدمی کے لئے نکاح کرنا حرام ہے ان میں بہن کی بیٹی یعنی بھانجی بھی شامل ہے، بھانجی کے ضمن میں اس کی تمام فروعات یعنی اس کی بیٹیاں بھی داخل ہیں، قرآن و حدیث کے شناور فقہاء کرام نے بڑی باریک بینی اور شرعی اصولوں کی روشنی میں اس مسئلہ کو بصراحت تمام لکھا ہے اس لیے بھانجی کی بیٹی سے نکاح درست نہیں ہے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب

*📚والدليل على ما قلنا📚*

(١) {ﻭﺑﻨﺎﺕ اﻷﺥ ﻭﺑﻨﺎﺕ اﻷﺧﺖ} [ اﻟﻨﺴﺎء: 23]

{ﻭﺑﻨﺎﺕ اﻷﺥ ﻭﺑﻨﺎﺕ اﻷﺧﺖ} [ اﻟﻨﺴﺎء: 23]

ﻭﺑﻨﺎﺕ ﺑﻨﺎﺕ اﻷﺥ ﻭاﻷﺧﺖ ﻭﺇﻥ ﺳﻔﻠﻦ ﺑﺎﻹﺟﻤﺎﻉ. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ٢٥٧/٢ كتاب النكاح فصل أن تكون المرأة محللة)

*كتبه العبد محمد زبير الندوي*

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 16/10/1441

رابطہ 9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے