بے عمل دل ہو تو جذبات سے کیا ہوتا ہے

محمد قمر الزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

نقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیر

نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر

کوئی دعوت بھی اگر صرف لفظی دعوت ہو اور اس کے ساتھ اخلاقی زور موجود نہ ہو، تو کیسی ہی زریں کیوں نہ ہو اور تھوڑی دیر کے لیے دلوں پر کتنا ہی سحر کیوں نہ طاری کرلے۔۔۔۔۔ آخر کار دھوئیں کے مرغولوں کی فضا میں تحلیل ہوجاتی ہے، تاریخ پر الفاظ سے کوئی اثر نہیں ڈالا جاسکتا، اور اکیلی زبان کبھی انقلاب نہیں اٹھا سکتی۔ الفاظ جبھی موثر ہوتے ہیں جبکہ عمل کی لغت میں ان کے کچھ معنی ہوں، زبان کا جادو صابن کے سے خوشنما جھاگ اور رنگین بلبلے پیدا کرسکتا ہے، مگر یہ بلبلے کسی ایک ذرئہ خاک کو بھی اس کی جگہ سے ہلا نہیں سکتے، اور ساتھ کے ساتھ مٹتے چلے جاتے ہیں، دلیل جب کردار کے بغیر آئے، اپیل جب اخلاص سے خالی ہو، تنقید جب اخلاقی لحاظِ سے کھوکلی ہو، تو انسانیت اس سے متاثر نہیں ہوا کرتی۔ کردار کی اخلاقی طاقت ہی کسی دعوت میں اثر بھرتی ہے۔ عمل کی شہادت کے بغیر زبان کی شہادت بیکار ثابت ہوتی ہے۔ (محسن انسانیت /۲۵۳)

مذکورہ اقتباس سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ کسی بھی دعوت، مہم اور مشن کے لیے اخلاص اور جس کی دعوت دی جائے اس پر پہلے خود عمل ضروری ہے، اس کے بغیر کوئی بھی دعوت اور کوئی بھی تحریک اور مشن کامیاب ، مفید اور موثر نہیں ہوسکتا ہے۔ آج تقریروں، تحریروں، اور کتابوں کی کمی نہیں ہے، آج جس قدر مضامین اور تحریریں گردش کر رہی ہیں، جس طرح کتابیں، چھپ رہی ہیں،کہ بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے، کہ پڑھنے والے کم ہیں اور تحریریں اور کتابیں زیادہ ہیں، تقریروں کی ویڈیو اور آڈیو کلپ کی اس قدر بھر مار ہے کہ جب اور جس وقت جس واعظ اور مقرر و خطیب کی شعلہ بیانی سننا چاہیں، حضرت گوگل سامنے لیے حاضر ہے۔ لیکن ذرائع ابلاغ اور شوسل میڈیا اور نیٹ و گوگل نے ان ذرائع کو جس قدر آسان کردیا ہے ، اس کا فائدہ اور اثر نہیں دکھ رہا ہے، بات کیا ہے؟ جواب ہے اخلاص و خلوص کی کمی اور صرف الفاظ و بیان کا زور عمل کا نام نہیں۔پہلے کتابیں کم تھیں ، وعظ و نصیحت کی مجلسیں کم تھیں، مقرر و واعظ کم تھے ، ترسیل اور ابلاغ کے ذرائع نہیں تھے، لیکن سننے اور سنانے والے، لکھنے اور پڑھنے والے اکثر مخلص ہوتے تھے، عام اور سادی سی تقریر سے اور عام فہم تحریر، مضمون اور اشعار سے دلوں کی دنیا بدل جاتی تھی، لوگوں میں انقلاب آجاتا تھا۔

آج کا زمانہ اور آج کا دور بس گفتار کا زمانہ ہے، قول و فعل کے تضاد کا دور ہے، خود را فضیحت اور دوست را نصیحت کا محاورہ سب پر صادق آتا ہے۔ ہر شخص بس دوسروں کو نصیحت کرنا چاہتا ہے، دوسروں کی زندگی میں تبدیلی اور انقلاب کا خواہاں ہے ، دوسروں کی اصلاح ہی پیش نظر ہے، صرف قال ہے، حال کا دور دور ➖تک پتہ نہیں۔۔۔ اس لیے ان نصیحتوں، وعظوں اور تقریروں سے کما حقہ فائدہ نہیں ہو رہا ہے اور نہ ان مضامین اور کتابوں سے سماج اور معاشرے میں جیسی تبدیلی آنی چاہیے آرہی ہے۔

واعظ کی خوش بیانی اور ان کی تقریر و وعظ ، اور لکھنے والے کی تحریر دل پذیر اسی وقت موثر ہوتی ہے جب وہ صرف قال کا ترجمان نہ ہو بلکہ حال کا عکاس ہو، یعنی کہنے والے کی زبان نے وہی کہا ہو اور قلم نے وہی لکھا ہو، جس پر وہ خود بھی عمل پیرا ہو۔۔۔۔۔ سارے صحابہ کا اس پر عمل رہا،تابعین اور تبع تابعین نے اسی راہ کو اپنایا اور بعد کے اسلاف اسی روش پر قائم رہے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں خاص طور پر آتا ہے کہ وہ تقریر و وعظ سے پہلے اس پر عمل کرتے پھر لوگوں کو اس پر عمل کی دعوت دیتے تھے۔

مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب نے بہت اچھا لکھا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔

“مقرر و واعظ کی خوش بیانی اور مضمون نگار اور قلم ✒ کار کی سحر نگاری، اسی وقت دو آتشہ ہوتی ہے جب بقول جگر وہ سرور و عشق سے سرشار ہو، اور اس کے چہرے سے ایمان و یقین کی روشنی💡 پھوٹی پڑتی ہو، علامہ اقبال نے معجزہ فن کی نمود کے لیے خون جگر کی آمیزش کو شرط قرار دیا ہے، خود ان کے کلام کی معجزانہ تاثیر کی اصل وجہ یہی خون جگر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خون جگر ایسا کیمیا ہے کہ اس کی وجہ سے نہ صرف چنگ و رباب اور حرف و صوت میں جادو کی تاثیر پیدا ہوجا تی ہے بلکہ سنگ جیسی بے جان و بے آواز 🔊 اشیاء میں بھی دلکشی و دلربائی کی بھرپور صلاحیت عیاں ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ نقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیر، نغمہ، ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر۔ خلاصہ یہ کہ واعظ کا ہر ارشاد بجا ہونے کے باوجود اور نویسندہ کی تحریر بہت دلچسپ ہونے کے باوصف، اسی وقت دل و جگر میں سماتی ہیں اور عقل و خرد کو شکار کرتی ہیں، جب ان دونوں کا سرچشمہ اخلاص ہو اور دل و زبان کے اتحاد کا نتیجہ ہوں۔ جو تقریر یا تحریر اس شرط یا وصف سے خالی اور عاری ہوتی ہے، وہ کسی ٹھوس انقلاب حال کا ذریعہ نہیں بنتی، وقتی طور پر کچھ موثر بھی ہو تو دل و نگاہ کے بگاڑ کو باقاعدہ طور پر دور کرنے میں ممدد و معاون نہیں ہو پاتی۔۔۔۔۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر انسانی دنیا کے تمام عقلاء، دانشوران اور مفکرین کا اتفاق ہے، کسی مذہب و ملت اور مسلک و فرقہ کے صحیح المزاج، امام، یا مفتی اور مجتہد کا اس حوالے سے کوئی اختلاف آج تک میری نظر سے نہیں گزرا”

غرض اخلاص اور عمل یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں ان کے بغیر ہماری تحریر و تقریر عمل و منصوبہ اور مشن اور پروگرام کامیاب، نتیجہ خیز اور موثر نہیں ہوسکتا،۔۔۔۔۔

لیکن یہ بھی یاد رہے کہ اخلاص دیر سے آتا ہے، وہ بھی مخلصین اور اہل اللہ سے تعلق قائم کرنے سے آتا ہے، دل کا رخ اللہ کی طرف ہوجائے، کہ بس آخرت سامنے ہو اور جب اخلاص دلوں میں آجاتا ہے تو پھر انسان ماحول سے متاثر نہیں ہوتا، ہر حال میں وہ کام کرتا ہے، حالات سے گھبراتا نہیں، وہ زمانہ کا شکوہ نہیں کرتا وہ افراد سے شاکی نہیں ہوتا، اسے تو بس لگن ہے اپنے کام اور منصوبہ کی تکمیل کا، اسے فکر رہتی ہے اپنی مفوضہ ذمہ داری کو ادا کرنے کی، جس ذمہ کو پوری کرنے کے لیے اللہ نے اس کو یہاں بھیجا ہے اور یہ دنیا گزارنے اور برتنے کے لیے دی ہے۔

نوٹ دوسروں تک ضرور پوسٹ کریں اور تمام ذرائع ابلاغ کا سہارا لے کر فرد فرد تک پہنچائیں۔ کیونکہ یہ بھی صدقہ جاریہ ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے