لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

*محمد قمرالزماں ندوی*

*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*ڈاکٹر* علامہ محمد اقبال مرحوم نے ہمیشہ اپنی شاعری کے ذریعہ *امت مسلمہ* کو بیدار کرنے کی کوشش کی،ان کو ان کے مقام و مرتبہ اور فرض منصبی کا احساس دلایا،اور خاص طور پر امت کے نوجوانوں کو اپنا مخاطب بنا کر ان سے امت کی قیادت و سیادت سنبھالنے اور خواب خرگوش سے بیدار ہونے کی، دردمندانہ اپیل کی ،نیز ان کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افرنگی صوفے اور ایرانی قالین پر یہ آرام کرنے کا وقت نہیں ہے، تن آسانی، اور عیش پسندی چھوڑو اور اپنے فرض منصبی کو اچھی طرح نبھاو ۔ اقبال علیہ الرحمہ نے کہا :

تیرے صوفے افرنگی تیرے قالیں ہیں ایرانی

لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی

امارت کیا ،شکوہ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل

نہ زور حیدری تجھ میں نہ استغنائے سلمانی

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

نہ ہو نومید نومیدی زوال علم و عرفاں ہے

امید مرد مومن ہے خدا کے راز دانوں میں

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

*علامہ اقبال رح* نے مسلمانوں سے اور خاص طور پر نوجوانوں سے اس کا مطالبہ کیا ہے، کہ وہ اپنے اندر صداقت عدالت اور شجاعت پیدا کریں کیونکہ ان پر عالم کی قیادت اور دنیا کی سیادت کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے اور بغیر سچائ، عدل و انصاف، اور شجاعت و بہادری اور جرآت رندانہ پیدا کئے قوموں کی قیادت و سیادت اور امامت ناممکن اور محال ہے ۔ *علامہ اقبال* نے کہا تھا ۔

سبق پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

*علامہ اقبال* نے اسلاف کی زندگی، قربانیاں، کارنامے اور کردار کا حوالہ دے کر نوجوانوں کو خطاب فرمایا اور کہا کہ

تھے تو آباء ہی تمہارے مگر تم کیا ہو

ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو

تجھے آباء سے اپنے کوئ نسبت ہو نہیں سکتی

کہ تو گفتار وہ کردار تو ثابت و سیارہ

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

*علامہ اقبال رح* نے اپنی شاعری میں نوجوانوں سے جگہ جگہ اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کیا ہے ۔ وہ نوجوانوں سے محبت کرتے تھے، ان پر رشک کرتے تھے وہ چاہتے تھے کہ نوجوانوں میں آفاقیت، جہاں بینی، دور اندیشی،اور دور بینی ہو ان کے اندر ستاروں پر کمندیں ڈالنے کا حوصلہ ہو۔ *علامہ اقبال* نے کہا تھا کہ :۔

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے

ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

نوجوان کسی بھی قوم کی طاقت و قوت کا اصل سرچشمہ ہوتے ہیں، جس قوم کو فعال اور مخلص نو جوان مل جائے وہ قوم دین و دنیا دونوں اعتبار سے ترقی کرتی ہے، اور جس قوم کے جوان عیش و عشرت کے دلدادہ ہوجاتے ہیں، عیش و راحت، آرام پسندی، غفلت، لاپرواہی بے کاری اور فضول خرچی اور اپنی قوم کے بارے میں بے حسی اور لاابالی بن کا شکار ہوجاتے ہیں، وہ قوم زوال پذیر اور جاں بلب ہوجاتی ہے۔

قرآن و حدیث میں نوجوانوں کی اہمیت اور اس کے مقام و کرادر کو جابجا تسلیم کیا گیا ہے۔ سورہ کہف میں نوجوانوں کے قصہ کو قرآن نے نوجوانوں کے لیے بطور خاص آیڈیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

*یہ* حقیقت ہے کہ زندگی کا سب سے قیمتی دور جوانی ہے جب کے انسان کی تمام خفیہ اور پوشیدہ قوتیں اور فطری صلاحیتیں عروج و بلندی پر ہوتی ہیں اور وہ ہر طرح کی تنگ نظری،تنگ ذھنی،مصلحت کوشی اور خوف ہراس سے دور ہوتا ہے ۔ اسی لئے اس طبقہ کو سوسائٹی کا سب سے مضبوط عنصر سمجھا جاتا ہے، بلکہ یہ سماج کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتا ہے ۔اگر سماج کا یہ کریم، اور قیمتی طبقہ تعمیر اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے اور انسان اور انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا ایک حصہ بنا لے، تو اس سماج اور سوسائٹی کو ترقی اور بلندی پر لے جانے سے کوئی روک نہیں سکتا ۔ لیکن اگر یہ طبقہ بگڑ جائے اور اپنی صحیح اور درست روش سے ہٹ جائے تو پھر اس سماج اور سوسائٹی کو زوال و پستی اور انحطاط و تنزلی سے کوئی روک نہیں سکتا ۔

اس لئے ہر دور میں اس طبقہ پر سب سے زیادہ محنت کی گئی اور آج بھی مہذب اور تعلیم یافتہ سماج اور سوسائٹی اس طبقہ پر زیادہ توجہ مبذول کرتی ہے، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان کی اصلاح ہی سے سماج صحیح معنی میں صحیح سماج بن سکتا ہے ۔

لیکن بدقسمتی سے آج اوروں کی طرح مسلم نوجوانوں بگاڑ و فساد کے سب سے زیادہ شکار ہو گئے ہیں ۔ بے راہ روی آزاد خیالی مادہ پرستی بے یقینی و بے چینی غیر ذمہ دارانہ طرز اور روش، آج کے نوجوانوں کی پہچان اور علامت بن چکی ہے ۔ لا مقصدیت اور مایوسی و ناامیدی نے تو صورت حال اور سنگین بنا دی ہے ۔ کم نوجوان ایسے ملیں گے جنہیں اپنے مقصد زندگی کا صحیح شعور و ادراک ہو اور جو اپنے ہدف اور منزل کو پانے کے لیے بے چین و بے قرار ہو ،۔

آج ضرورت ہے کہ اقبال مرحوم جن شاہین صفت اور عقابی روح والے نوجوانوں کا خواب دیکھتے تھے اور جن سے وہ مستقبل میں بہت کچھ امیدیں وابستہ کئے ہوئے تھے، ایسے ہی نہج اور ڈگر پر نوجوانوں اور نئی نسل کی ہم تربیت کریں ۔ اس کے لئے فکر مند ہوں ۔ اس کے لئے ہم کوشش کریں ۔ خالص دینی و تربیتی ادارے قائم کریں ۔ یہ وقت کی صدا بھی ہے اور وقت کی ضرورت بھی ہے۔

علامہ اقبال مرحوم کے یہ اشعار آج بھی نوجوانوں کو دعوت فکر و عمل دے رہے ہیں۔

کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے

وہ کیا گردوں تھا، تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارہ

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں

کچل ڈالا تھا جس نے پاوں میں تاج سر دارا

غرض میں کیا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشین کیا تھے

جہاں گیر و جہاں دارا جہاں بان و جہاں آرا

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا سے زمیں پر آسمان نے ہم کو دے مارا

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے