ڈوبی ہوئی رقم کو زکوٰۃ میں منہا کرنا

*⚖️سوال و جواب⚖️*

*مسئلہ نمبر 1180*

(کتاب الزکاۃ باب الاداء)

*ڈوبی ہوئی رقم کو زکوٰۃ میں منہا کرنا*

سوال: ایک شخص کچھ چیزیں خریدنے کے لئے کسی کو کچھ رقم دیتا ہے اور وہ شخص رقم لے کر فرار ہوجاتا ہے تو کیا وہ شخص اپنے دی ہوی رقم پر زکوٰۃ وغیرہ کی نیت کرسکتا ہے یا نہیں؟ (مفتی اقبال کرناٹک)

*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*

*الجواب وباللہ التوفیق*

زکوۃ کی ادائیگی کی ایک اہم شرط تملیک ہے، تملیک کا مطلب یہ ہے کہ مستحق زکوۃ کو زکوٰۃ کی رقم یا سامان کا زکوۃ کی نیت کے ساتھ بالکلیہ مالک بنا دیا جائے، مذکورہ بالا صورت میں چونکہ مال دیتے وقت زکوۃ کی نیت نہیں تھی؛ اس لیے وہ تملیک معتبر نہیں ہوئی، اور جب تملیک غیر معتبر ہوئی تو اس کو زکوٰۃ میں منہا کرنا درست نہیں ہوگا(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

*📚والدليل على ما قلنا📚*

ويشترط أن يكون الصرف تمليكا لا إباحة. (الدر المختار مع رد المحتار ٢٩١/٣ كتاب الزكاة، باب الصرف، زكريا)

ویُشْتَرَطُ أنْ یَکُوْنَ الصَّرْفُ تَمْلِیْکاً لَا ابَاحَةً (در مختار) فَلَا یَکْفِيْ فِیْہا الْاطْعَامُ الاّ بِطَرِیْقِ التَّمْلِیْکِ․ (رد المحتار ۳/۲۹۱ زکریا دیوبند)

*كتبه العبد محمد زبير الندوى*

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مؤرخہ 20/10/1441

رابطہ 9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے