غزوہ بدر جنگ اب بھی جاری ہے

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺(910)

       *غزوہ بدر__ جنگ اب بھی جاری ہے!!!*

        *غزوہ بدر سے اسلام کی جڑیں شہداء کے خون سے سیراب ہونے لگیں، وہی موقع تھا جب یہ طے پایا کہ اسلام اور مسلمان شہید ہونے کیلئے پیدا کئے گئے ہیں، وہ حق کیلئے کمربستہ رہیں گے اور باطل کیلئے تلوار بن جائیں گے، اگرچہ کہ ان کی تعداد نہ کے برابر ہو، وہ ہواؤں میں سوکھے پتے کی طرح اڑ جانے کی کیفیت میں ہوں، دشمنوں کا جمگھٹا آجائے، پہاڑ ٹوٹ پڑے، دریا ان پر انڈیل دیا جائے، سمندر کا قہر چھا جائے، طوفان انہیں زد میں لے لے، ان کے جسم میں نیزے اور برچھے کے نشانات پیوست ہوجائیں، ان کے بازو کاٹ لئے جائیں، ان کا سر کچل دیا جائے؛ لیکن جب تک ان کی سانسوں میں سانس میں ہوگی، ان کے جسم میں ایک قطرہ بھی خون کا باقی ہوگا، وہ اسلام کیلئے ڈھال بن جائیں گے، ان کے سینہ میں ایمان کی گرمی بنی رہے گی، اور وہ انگارہ بن کر خرمن دشمن کو خاکستر کردے گی، یہ روایت بھی اسی دن سے قائم ہوگئی کہ اس امت کا خاتمہ ناممکن ہے، پوری دنیا ان پر برس پڑے تب بھی انہیں مٹایا نہیں جاسکتا، یہ حق کی صدا ہے، جو فضاؤں میں گونجتی رہے گی، انفاس کو منور کرتی رہے گی، روحوں کو جلا بخشتی رہے گی، اگر یہ قوم برباد ہوجائے، اگر انہیں صفحہ ہستی سے مٹادیا جائے، اگر انہیں زمین دوز کردیا جائے، تو دنیا تباہ ہوجائے گی، اس کا نظام معطل ہوجائے گا، قیامت کی گھڑی آجائے گی.*

       *حقیقت میں عزوہ بدر ہی اس بات کا پیش خیمہ ہے کہ اسلام کا مطلب شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے، یہاں محبوب کی گلی رب کی رضامندی ہے، اس کے دل میں عشق الہی کا شعلہ ہے، اور وہی دنیا و آخرت کا سرتاج ہے، اسلامی تاریخ میں اس جنگ کی اہمیت جتنی بیان کی جائے کم ہے، یہ خشت اول ہے جس پر اسلامی عمارت کی دلکش تعمیر پورے آب وتاب کے ساتھ اب تک کھڑی ہے، اس کے سالار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس کا دستور قرآن اور اس کی آرامگاہ تلواروں کے سایہ میں ہے، وہ مٹھی بھر جماعت ہی درحقیقت اسلام کی نمائندہ جماعت ہے، جنہوں نے کفار مکہ کا غرور خاک آلود کردیا، چودہ سالہ ظلم پر مٹی ڈال دی، تلواروں کی جھنکار، میدان جنگ کی فنکاری، مہارت و شجاعت، دولت و ثروت سب کچھ فضا میں دھواں بن کر اڑ گئے، چند لوگوں نے ہزاروں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا، باطل کی چولیں ہلا دیں، ظالموں کی دنیا میں کہرام مچا دیا، جو لوگ اسلام کی جڑیں کاٹنا چاہتے تھے جنہوں نے سازشوں کے جال بنے، اعزا و اقارب کو بھی دور کرکے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا، اور حتی المقدور اسلام و مسلمانوں کو اکھاڑ پھینکنے کی قسمیں کھائیں وہ سب اپنی قسموں کے ساتھ ایک کنویں میں دفن کردیئے گئے، ماہر جنگجوؤں نے غیر مجرب جوانوں سے شکست کھائی، اونٹ، گھوڑے، تلوار اور نیزے کی کثرت کے باوجود نہتھے اور مجبور و مقہور لوگوں کے ہاتھوں جہنم رسید ہوگئے، شراب نوشی اور موج مستی میں پڑے لوگوں نے تلوار کی نوک پڑتے ہی سب کچھ بھول گئے اور تاریخ کا ایک باب بن گئے.*

        *یہ حق و باطل کی جنگ کا اعلان تھا، اس جنگ کو محض میدان بدر تک محدود سمجھنا نادانی کی بات ہے، دراصل اسلام اور مسلمان کبھی بھی جنگ سے دور نہیں رہ سکتے، وہ ہر وقت ایک جنگی محاذ پر ہیں، تو وہیں باطل ان کے سامنے ہمیشہ ایک نئی سازش اور ایجنڈے کے ساتھ کھڑا ہوا ہے، وہ بھی کسی لمحے کو گنوانا نہیں چاہتا؛ کیونکہ وہ شیطان کا حامی ہے، جس نے انسان کو خدا کی نافرمانی پر ابھارنے کا عہد لیا ہے؛ چنانچہ اسی جنگ سے موحدین اور ملحدین کی کشمکش شروع ہوتی ہے، اور خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھائیس یا انتیس غزوات کرتے ہیں، اور سلسلہ یوں چلتا ہے کہ پوری اسلامی تاریخ میں کوئی صدی ایسی نہیں جس میں شہادت  کا موقع نہ آیا ہو، مسلمانوں نے ہمیشہ اپنی تلوار کمر سے لگائے رکھی، اپنی نگاہیں کھلی اور ہوش ٹھکانے پر رکھے، اور باطل کی ہر ممکن کوشش کا جواب دیتے رہے، اب دنیا بدل چکی ہے تلوار کے بجائے ٹکنالوجی کا ہتھیار ہے، مسلمان خلافت سے محروم ہیں، ان کا شیرازہ بکھر چکا ہے، اس کے برعکس مشرکین کی قوت روز افزوں بڑھتی جاتی ہے، وہ ترقی کر گئے، ممالک کے مالک ہوگئے ہیں؛ بلکہ اسلامی دنیا کے بھی سردار بن گئے، حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں نے صلیبی جنگوں کے بعد ایک لمحہ سستی کیا دکھائی کہ دنیا بہت آگے نکل گئی، اب پھر وہ کافروں کے نرغے میں ہیں، ان سے جنگ کرنا اور ان کے سامنے ڈٹ جانے پر بے بس ہیں، ہر کوئی انہیں اچک لینے کو تیار بیٹھا ہے، مگر یاد رکھیں!! غزوہ بدر کی جماعت کا خاصہ تم میں بھی موجود ہے، اگر ایمان کی قوت حاصل ہوجائے، حق کیلئے اٹھ کھڑے ہونے کی طاقت پالی جائے، انصاف اور عدل کیلئے سربکف ہولیا جائے تو آج بھی ہزاروں کی تعداد کو شکست دی جا سکتی ہے، باطل کے دانت کھٹے کئے جاسکتے ہیں، بدمعاش اور بدقماش کفار کو انسان دشمنی کا سبق سکھایا جاسکتا ہے،اس لئے دل ہارنے کی ضرورت نہیں، بلکہ سینہ ایمانی جوش، دینی حمیت اور غیرت پیدا کرنے کی ضرورت ہے، جو ہے وہ سب کچھ اللہ کی جانب سے ہے اور ہر ایک کو اسی کی طرف لوٹ جانا ہے.*

       ✍ *محمد صابر حسین ندوی*

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

11/05/2020

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے