درد و آہ سے چور انسانیت کو بچا لیجئے

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺(912)

*درد و آہ سے چور انسانیت کو بچا لیجئے!!!*

*انسانیت زخمی ہوتی جارہی ہے، اس کے بدن پر تیر و نشتر مارے جارہے ہیں، وہ لہو لہان ہے، جسم کا رواں رواں تر ہے، بے بسی اور لاچاری روح تک اتر گئی ہے، دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ہے، کرونا وائرس کا قہر جاری ہے، لوگ مر رہے ہیں، جو بیماری سے نہ مرے وہ ناامیدی، اداسی اور نفسیاتی مریض بن کر موت کو گلے لگا رہے ہیں، ایک بیماری کے سامنے یومیہ دو کڑور لوگوں کی بیماری کا حال کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، سنگین ترین بیماری ہارٹ اٹیک، کڈنی ٹرانسپلانٹ، شوگر، ٹی بی، ایڈس جیسے امراض سے جوجھ رہے لوگوں کو اسپتالوں سے چھٹی دے دی گئی ہے، ان کا کوئی علاج نہیں ہورہا ہے، کتنے ہی لوگ دوا اور علاج کے بنا مر گئے، تو وہیں بھوکے پیٹ، سوکھتی رگ کی وجہ سے سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے زندگی کھوئی ہے، بھارت میں چہار جانب افسردگی کا ماحول ہے، حکومت نے خزانے کھولے مگر یہ بہت دیر کردی مہرباں آتے آتے کے مانند ہے، بیس لاکھ کروڑ اگرچہ ایک خطیر رقم ہے، اگر واقعی میں خزانہ کا منہ صحیح جانب کھلا اور اس کی سمت مناسب رہی تو عوام کو کوئی دقت نہ ہوگی؛ لیکن ماہرین کی آراء کچھ مختلف ہیں، مستقبل میں اس کی حقیقت بھی عیاں ہوگی، رویش کمار نے پرائم ٹائم پر یہ خلاصہ کیا ہے کہ بیس لاکھ کروڑ میں ریزروبینک پہلے ہی آٹھ لاکھ کروڑ دے چکا ہے، پانچ لاکھ کروڑ کسانی یوجنا کے تحت ویسے بھی آنے والے تھے، گویا سب کو ملا کر اگر بیس لاکھ کروڑ ثابت کیا جائے تو ان میں اصل رقم پانچ یا چھ لاکھ کروڑ ہی بنتی ہے.*

*بہر حال وقت بہت بلوان ہے، سب کچھ کھل جائے گا، تو وہیں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اس وائرس سے جنگ میں صوبائی حکومتوں نے خود مورچہ سنبھال رکھا ہے، کیرلا کے ہیلتھ منسٹر نے باقاعد اس کی شکایت بھی کی ہے، لیکن کوئی سننے کو تیار نہیں ہے، امریکہ نے بیس ٹریلین کی جی ڈی پی میں ایک بڑا حصہ اس وبا کیلئے خاص کردیا ہے؛ مگر بھارت میں ڈاکٹروں اور اسپتالوں کی تعظیم میں ہیلی-کاپٹر سے گلاب کے پھول تو برسائے جاتے ہیں؛ لیکن ان کیلئے بنیادی سہولیات جن سے وہ خود کو چھپائیں اور علاج ان کا بندو بست نہیں کیا جاتا، مزید یہ کہا جاتا ہے کہ لاک ڈاؤن کا اعتبار رکھیں، اس کی پابندی کریں، ودیسی نہیں دیسی بنیں، ملک کی معیشت کو سہارا دیں، ملک کے پروڈکٹ ہی خریدیں، مگر یہ قطعا نہیں کہا جاتا کہ غریب کہاں سے کھائے گا، کیسے اس کی بھوک مٹے گی، کون اس کے درد کا درماں کرے گا، جو لوگ دور دراز شہروں میں پھنسے ہوئے ہیں، جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں وہ گھر جانا چاہتے ہیں، پیدل ہی سفر پر نکل گئے ہیں، دوہزار کلیو میٹر چل رہے ہیں، بیوی، بچے اور بزرگ ساتھ ہیں، تصاویر دیکھ کر رونا آتا ہے ہماری بے بسی پر ماتم کرنے کو من کرتا ہے، لیکن مزاق یہ ہے کہ حکومت ان کی بے کسی کو قربانی کا نام دیتی ہے، ان کیلئے ٹرینیں چلائی گئیں؛ مگر ڈیڑھ مہینے کے بعد اور اس پر ان کے کرایہ کو لیکر حیران کن رویہ اختیار کیا گیا، اب عام پیسنجر ٹرینیں بھی چل رہی ہیں تو وہ بھی امیروں کیلئے ہیں، کیونکہ ان میں راجدھانی کا ٹکٹ ہے، تھرڈ اے سی کا کم سے کم کرایہ پندرہ سو ہے جو بڑھتے بڑھتے پانچ ہزار تک ہوجاتا ہے، سوچنے کی بات ہے کہ کون مزدور اس میں سفر کرے گا، جب انسان کھانے کو ترس رہا ہو تو اس کے پاس اتنی رقم کہاں سے آئے گی؟*

*جب لاک ڈاؤن کا دوسرا دور شروع ہونے والا تھا، اس کے اعلان کے ساتھ ہی ممبئی میں عوام نے اس کی مخالفت کی اور یہ مطالبہ کیا کہ وے گھر جانا چاہتے ہیں، گجرات میں خواتین نے بھی اس کا مطالبہ کیا، اور اس کے بعد لگاتار مزاحمت ہورہی ہے، ہر دن کہیں نہ کہیں ایک بھیڑ جمع ہوجاتی ہے اور وہ لاک ڈاؤن اٹھانے اور گھر جانے کا مطالبہ کرتی ہے؛ لیکن انہیں پولس کی بر برتا برداشت کرنی پڑتی ہے، ہر صوبے کی پولس ان مزدوروں پر ڈنڈے لہراتی ہے، کسی کا سرپھوڑتی ہے تو کسی کے پیرو توڑ دیتی ہے، یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ ہر صوبے کی سرحد پر پولس کھڑی ہوجاتی ہے اور دور سے آنے والے مزدوروں کو وہیں روک مارتی ہے، سرکار نے لاک 4 کا بھی اعلان کردیا ہے، تو وہیں اسے رنگین کرنے کی تمنا بھی ظاہر کردی ہے؛ مگر اب تک جن غرباء و فقراء کی زندگی بے رنگ پڑی ہے، جو نوکریاں گنوا چکے ہیں، جو کسان کھیت برباد کرچکاہے، پھلوں کے موسم میں پھل برباد کر چکے ہیں، جن کے جیب خالی ہیں، جن کی آنکھوں کے سامنے ایک تاریک مستقبل ہے ان کیلئے کوندا رنگ عنایت کریں گے؟ کہنے کو بھارت کے پاس اناج کی کوئی کمی نہیں ہے، یہ کسانوں کا ملک ہے، یہاں کی سب سے بڑی اکانامی یہی ہے، اس کے باوجود اس اناج کو کون پہنچائے گا، عوام کے گھر تک کیسے رسائی ہوگی، اس کا کوئی. ناسب لائحہ عمل نہیں ہے، سرکار یہ دوعے کرتی رہتی ہے کہ اس نے لوگوں کے کھاتے میں اتنی یا اتنی رقم جمع کروادی ہے، مگر وہ یہ ڈاٹا کبھی نہیں دیتی کہ کن کے کھاتے میں جمع کروائے ہیں، کون لوگ ہیں، کتنے لوگ ہیں، اور کتنے لوگ رہ گئے ہیں؟*

*یہی وجہ ہے کہ اخبارات میں دلخراش عناوین پڑھنے کو ملتے ہیں، جیسے: ایک خاتون نے اور اس کے شوہر نے بچے کو مار کر پھانسی لگا لی، ایک عورت نے اپنے چار بچوں کو گنگا ندی میں پھینک دیا؛ کیو کہ وہ بھوک سے بلبلا رہے تھے، اور ماں ان کی بے بسی کو نہیں برداشت کر پارہی تھی، بلکہ اب تو وہ لوگ جنہوں نے کچھ پیسے رکھے تھے جنہیں امید تھی کہ اکیس دن کے بعد کچھ راحت مل جائے گی، یا چالیس دن کے سب ختم. ہوجائے گا، ان کے پیسے بھی ختم ہونے لگے ہیں، ایسے لوگوں کی زبان پر بھی شکایت ہے، ان میں بہت سے وہ بھی ہیں جن کے پاس اگرچہ پیسے ہیں؛ لیکن بینک میں ہیں، مگر بینک تو بند ہے، اور اگر کھلے بھی ہیں، تو پولس گھر سے باہ نکلنے نہیں دیتی، ان میں بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جن کے پاس نہ تو اے ٹی ایم ہے اور نہ کوئی آن لائن ٹرانزیکشن کا راستہ ہے، بلکہ وہ تو اس بارے میں جانتے تک نہیں ہیں، ان کے چہروں پر فکروں کی لکیریں صاف نظر آتی ہیں، وہ مدد بھی مانگیں تو کس سے؟ کون ہے جو اس کسمپرسی میں ان کا ساتھی بنے گا؟ شاید کوئی نہیں ہے، خدا تعالیٰ ان کی روحوں کو تقویت پہونچادے؛ ممکن ہے کہ کوئی معجزہ ہو اور ان کی بھوک بھی ختم ہوجائے؛ لیکن ایسے معجزات کے بھروسے عمومی زندگی نہیں کاٹی جاتی اور نا ہی یہ قدرت الہی ہے تو پھر کیسے انسان بچے گا، کیسے انسانیت بچے گی؟ کوئی اور نہیں صرف آپ نچات کا ذریعہ بن سکتے ہیں، اگر آپ متمول ہیں تو جیب کھول دیجئے! اگر آپ متوسط ہیں تو اپنا کچھ حصہ ان کیلئے خاص کر دیجئے! اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو تو کم از کم ایسے لوگوں کو ترغیب دیجئے! یقین جانیں اگر آپ نے قدم نہ اٹھایا تو انسانیت گر جائے گی، انسان ٹوٹ جائے گا، اور ہوسکتا ہے کہ اگرآج آپ نے ایک دوسرے کا ساتھ نہ دیا تو آپ کے ساتھ بھی کل کوئی بھی کھڑا نہ ہوگا.*

✍ *محمد صابر حسین ندوی*

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

13/05/2020

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے