روزہ کا مہینہ دینی دولت ہے

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺(913)

*روزہ کا مہینہ دینی دولت ہے_*

*روزہ کا مہینہ کوئی عام. مہینہ نہیں ہے، بلکہ اس سے امت مسلمہ کی روش بدلتی ہے، ان کے شب و روز بدل جاتے ہیں، انگریزی میں کہتے ہیں Game changer یعنی ایک ایسا ذریعہ جس سے پورا تماشہ ہی بدل جائے، جب مسلمان پورے گیارہ مہینہ کھانے پینے اور معمول کی زندگی میں گزارتا ہے، تو یقیناً ایک ہی طرز زندگی انسان کو غافل بھی کردیتی ہے، وہ نسیان کا مرض پال لیتا ہے، اپنے خالق و مالک کا حقیقی بندہ بننے کے بجائے بس ایک عام مسلمان جسے صرف اپنے نام سے پہچانا جائے، شکل و شباہت سے جانا جائے، وہ اسی حد تک محدود ہوکر رہ جاتا ہے؛ لیکن روزہ کا مہینہ اسے پھر سے یاد دلاتا ہے کہ تم احکام الہی کے پابند ہو، تمہارے سینہ میں ایک دل ہے جو صرف اللہ کی اطاعت اور رسول اللہ صلی کی محبت پر دھڑکتا ہے، تمہاری جان رب ذوالجلال کی مقروض ہے، تم عہد الست کے پاسدار ہو، تمہاری زندگی کوئی عام زندگی نہیں ہے، اگر صرف کھانے پینے اور سونےو جاگنے کیلئے ہی مسلمان ہونا ہوتا، تو دوسرے لوگ بھی موجود تھے؛ لیکن تمہاری تخلیق اور بعثت خدا کے احکام کو بجالانے کیلئے ہوئی ہے، چنانچہ اسی کے حکموں اور فرماؤں کے مطابق خود کو ڈھال لینا ہے، وہ جب کہے کہ تم کھاؤ تو کھانے لگو، وہ جب کہے کہ تم رک جاؤ تو تمہیں رک جانا ہے، یہی وجہ ہے کہ فجر کی اذان کے بعد کوئی لقمہ منہ کو نہیں لگتا اور مغرب افطار کے ساتھ منہ بند کئے رہنے کی اجازت نہیں ہے، اگر اسے نہیں مانا جائے تو وہ سچا مسلمان نہیں کہلایے گا، اسلام اور مسلمان کی حیثیت یہی ہے کہ وہ سر تسلیم خم کردے، اپنے آپ کو رب کے سامنے جھکا دے، وہ اس کے اشاروں کا غلام بن جائے، اپنی مادیت سے اٹھ کر آفاقی زندگی اور معاد کی فکر میں گم ہوجائے، وہ رب کا ہوجائے تاکہ رب اس کا ہوجائے، یہی رمضان کا کورس ہے، اس کی برکت ہے، یہ ایک مسلمان کے اسلام کو جانچنے کا آخری پیمانہ ہے، اگر کوئی مسلمان اس پیمانے پر بھی کھرا نہ اتر سکے تو اسے مسلمان کہلانے کا حق نہیں، سوائے یہ کہ وہ مجبور ہو، مرشد الامت استادِ گرامی قدر حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم نے رمضان کی اس حیثیت کو نمایا کیا ہے، اطاعت الی اللہ اور رمضان کے تعلق کی وضاحت کی ہے، ایک عام مسلمان کی زندگی میں اس کے کردار پر روشنی ڈالی ہے، آپ رقمطراز ہیں:*

*” روزوں کا یہ ایک مہینہ مسلمانوں کی ایسی دینی دولت ہے، جس سے اسے مختلف النوع فوائد حاصل ہوتے ہیں، عبادت کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کے متعدد گوشے اصلاح و درستگی کے عمل سے گزرتے ہیں، آپ کی ہمدردی، غمخواری، تعاون اور انسانی احساسات کی صحیح کارفرمائی کا یہ بہترین موقع ہوتا ہے، چنانچہ رمضان کے زمانے کو صحیح طریقے سے گزارنے کے بعد ایک مسلمان عبادت کی شاندار ادائیگی کے ساتھ غفلتوں، انسانی کدورتوں اور ترشی مزاج کی کیفیت سے پاک ہوکر نکل سکتا ہے، روزہ دار کو ایک ماہ تک ان باتوں سے پرہیز کرنا ہوتا ہے، جو انسان کے نفس کو موٹا اور اس کی طبیعت کو اچھے انسانی اخلاق سے برگشتہ بناتی ہیں، اس کو ایک طرف پروردگار کے سامنے بندگی کی ذمہ داریو کو انجام دینے کا بھرپور موقع ملتا ہے، دوسری طرف اپنی انسانی برابری کے ساتھ ہمدردی اور دلداری کے حقوقِ بھی ادا کرنے ہوتے ہیں، بندگی کے اظہار میں عمل عبادت کے ساتھ اپنے پروردگار کے حکم کے سامنے اپنی راحت اور اپنی مرضی کو قربان کرنا ہوتا ہے، اس قربانی میں نفس کی قربانی بھی ہوتی ہے، اور بدنی راحت کی بھی قربانی بھی ہوتی ہے، اس کے اختیار کردہ معمولات میں فرق لے آیا جاتا ہے، کھانے پینے کے وقفے کو طویل کردیا جاتا ہے، اور ان کے اوقات میں بھی تبدیلی کردی جاتی ہے، وہ جس وقت کھانا کھاتا ہے، اس وقت اس کو روک دیا جاتا ہے، اور جس وقت وہ عموماً نہیں کھاتا اس وقت اس کو کھانے کا وقت بتایا جاتا ہے، اس کیلئے طلوع فجر سے قبل جب کہ اس کے بیدار ہونے سے کم از کم گھنٹہ دو گھنٹہ قبل کا وقت ہوتا ہے آٹھ کر کھانا کھانا تجویز کیا جاتا ہے، اور جب وہ دن کے اوقات میں اپنی راحت کے مطابق کھانا کھایا کرتا ہے ان اوقات میں اس کو منع کردیا جاتا ہے، پھر سورج غروب ہوتے ہی اس کو کھانے کی صرف اجازت ہی نہیں ملتی؛ بلکہ اس وقت اس کیلئے یہ کام اجر و ثواب کا کام قرار دیا جاتا ہے، پھر یہ سلسلہ پورے ایک ماہ چلتا ہے، اس سلسلے میں کھانے کے علاوہ پانی پینے کو بھی شامل کیا جاتا ہے، اس طرح روزہ دار کو اپنے پروردگار کے حکم پر بھوکا پیاسا رہنا ہوتا ہے اور پھر اسی کے حکم سے کھانا پینا اختیار کرنا ہوتا ہے، روزہ کی یہ پابندیاں اپنی نوعیت کی خاص قسم کی پابندیاں ہوتی ہیں “( قرآن مجید_ انسانی زندگی کا رہبر کامل:٢٨٠/٢٨١).*

✍ *محمد صابر حسین ندوی*

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

14/05/2020

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے