روزہ کے اسرار و ثمرات

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺(914)

*روزہ کے اسرار و ثمرات__!!*

*روزہ کے اسرار و مقاصد کا خلاصہ یہی ہے کہ انسان کا دل سنور جائے، اس کے جسم میں پڑا گوشت کا وہ لوتھڑا جو پورے بدن پر قابض ہے، جس کی درستگی پر ہی ہر چیز کا انحصار ہے اسی حصہ کی تربیت ہوجائے، صحیح معنوں میں روزہ ہی ہے جو انسان کو فرشتوں کی صف میں کھڑا کردیتا ہے، وہ اگرچہ ان سے اعلی و برتر ہے، اس کی بندگی کا کوئی جواب نہیں؛ لیکن دنیاوی غلاظتوں میں اس کی فوقیت گرد آلود ہوجاتی ہے، شیطانی چالوں اور مکر وفریب میں اس کی شفافیت پر گرد پڑجاتی ہے، چنانچہ یہی وہ روزہ ہے جو اس سے گرد کو صاف کرتا ہے، اس کا سینہ آئینہ سے زیادہ چمکا دیتا ہے، اس کے قلب میں خشیت الہی کے پھول کھلتے ہیں، عشق الہی اور حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شعلے جلتے ہیں، وہ آسمانی دنیا کا ایک مخلوق بن جاتا ہے، اس کی روحانیت میں اتنی زیادہ ترقی ہوتی ہے کہ فرشتے بھی اس پر رشک کرنے لگتے ہیں، وہ عالم بالا کی وادیوں میں ٹہلتا ہے، رب سے سرگوشیاں کرتا ہے، نگاہیں اگرچہ زمین پر ہوں مگر رب ذوالجلال کی رحمتوں سے سرشار ہوتی ہیں، اس کا باطن اس قدر اجلا، سفید، سر سبز و شاداب ہوجاتا ہے؛ کہ وہ حقیقت میں انسان اور انسانیت کا عکس ہوجاتا ہے، اس پر مستزاد یہ کہ قرآن کریم کی عظیم دولت، اس کی روح پرور قرأت اور تسکین بخش صدائیں انسانی روح و جان کو اطمینان بخشتی ہیں، اسی لئے اسے قرآن کا مہینہ بھی کہا گیا ہے، بلکہ مجموعی طور پر اسے دل اور اس کی ستھرائی کا مہینہ کہا جاسکتا ہے، اگر کسی نے حقیقت میں رمضان اور روزہ کے اسراس و مقاصد پالئے تو یقین جانیں!! وہ شخص دنیا و آخرت کا سب سے خوش نصیب ہے، وہ رب العالمین کا سب سے پیارا بندہ ہے، رمضان کی حقیقت جاننے کیلئے ذیل میں چند اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں، ملاحظہ ہو:*

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں : “روزہ جوارح ظاہری اور قوائے باطنی کی حفاظت میں بڑی تاثیر رکھتا ہے، فاسد مادے کے جمع ہوجانے سے انسان میں جو خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں، اس سے وہ اس کی حفاظت کرتا ہے، جو چیز مانع صحت ہیں، ان کو خارج کر دیتا ہے اور اعضاء و جوارح میں جو خرابیاں ہوا وہوس کے نتیجے میں ظاہر ہوتی ہیں، وہ اس سے دفع ہوتی ہیں، وہ صحت کیلئے مفید اور تقوی کی زندگی اختیار کرنے میں ممد و معاون ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم الصام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون __ اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسا کہ ان لوگوں پر فرض کئے گئے تھے جو تم سے قبل ہوئے ہیں عجب نہیں کہ تم. متقی بن جاؤ__ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :الصوم جنۃ__ روزہ ڈھال ہے، چنانچہ ایسے شخص کو جو نکاح کا خواہشمند ہو اور نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو روزہ رکھنے کی ہدایت کی گئی اور اس کو اس کا تریاق قرار دیا گیا، مقصود یہ ہے کہ روزہ کے مصالح و فوائد چونکہ عقل سلیم اور فطرت صحیحہ کی رو سے مسلم تھے اس لئے اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی حفاظت کی خاطر محض اپنی رحمت اور احسان سے فرض کیا ہے”(زاد المعاد:١/٥٢). اس ماہ کا تعلق قرآن کریم سے بہت اہم. ہے، اس مہینہ میں قرآن نازل ہوا، اللہ تعاکی کا ارشاد ہے، شهر رمضان الذي أنزل القرآن _(بقرۃ:١٨٥)، چنانچہ حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:” اس مہینہ کو قرآن مجید کے ساتھ بہت خاص مناسبت ہے، قرآن مجید اسی مہینہ میں نازل کیا گیا، یہ مہینہ ہر قسم کی خیر و برکت کا جامع ہے، آدمی کو سال بھر میں مجموعی طور پر جتنی برکتیں حاصل ہوتی ہیں، وہ اس مہینہ کے سامنے اس طرح ہیں، جس طرح کے سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ، اس مہینہ میں جمعیت باطنی کا حصول. پورے سال جمعیت باطنی کیلئے کافی ہوتا ہے، اور اس میں انتشار اور پریشان خاطری بقیہ تمام دنوں بلکہ پورے سام. کو اپنے لپیٹ میں لے لیتی ہے، قابل مبارکباد ہیں وہ لوگ جن سے یہ مہینہ راضی ہو کر گیا اور ناکام اور بدنصیب ہیں، وہ جو اس کو ناراض کر کے ہر قسم کے خیر و برکت سے محروم ہوگئے”__ ایک دوسرے مکتوب میں لکھتے ہیں :” اگر اس مہینے میں کسی آدمی کو اعمال صالحہ کی توفیق مل جائے تو پورے سال اس کے شامل حال رہے گی، اور اگر یہ مہینہ بےادبی، فکر و تردد اور انتشار کے ساتھ گزرے تو پورا سال اسی حال میں گزرنے کا اندیشہ ہے “( مکتوبات امام ربانی: ١/٨_٤٨).

*حضرت مولانا عبدالماجد دریابادی علیہ الرحمہ اپنے خاص اسلوب میں روزہ کے مختلف ثمرات و فوائد پر یوں روشنی ڈالتے ہیں:”یہ پر بہار موسم جب کسی کے شوق و ارمان میں گزرے گا، یہ متبرک گھڑیاں جب کسی کی یاد میں بسر ہوں گی ، یہ مبارک دن جب کسی کے اشتیاق میں بغیر بھوک پیاس کے صرف ہوں گے، یہ برکت والی راتیں جب کسی کے انتظار میں آنکھوں ہی میں کٹیں گی تو نا ممکن ہے کہ روح میں لطافت ، قلب میں صفائی اور نفس میں پاکیزگی پیدا نہ ہو جائے۔ حیوانیت دور ہوگی۔ ملکوتیت نزدیک آئے گی اور انسان خود اپنی ایک جدید زندگی محسوس کرے گا، ایسی حالت میں بالکل قدرتی ہے کہ سوز دل اور تیز ہوجائے، قرب و وصل کی تڑپ اور بڑھ جائے، تزکیہ و مجاہدہ کے اثر سے زنگ دور ہوکر کسی کا عکس قبول کرنے کے لئے آئینہ قلب بے قرار اور مضطر ہونے لگے۔ نماز میں جس طرح عبدیت کی تکمیل ہوتی ہے ٹھیک اسی طرح روزہ دار کو اخلاق الٰہی کے ساتھ کسی درجہ مناسبت و شباہت پیدا ہوجاتی ہے۔ بھوک اور پیاس سے بے نیازی، صبر و ضبط ، قوت و اختیار، حلم و تحمل ، عفو و درگزر یہ سب شانیں بندہ کی ہیں یا مولیٰ کی؟ عبد کی یا معبود کی؟ پھر یہ کیوں کرہے کہ جو شئی کچھ ہی دیر کے لئے سہی آپ میں اس کیفیت سے مناسبت پیدا کررہی ہو، جوشئی ذرہ میں آفتاب کا پر توڈال رہی ہو، جو شئی آئینہ میں جلا پیدا کرکے اسے نورانیت کا ملہ کا عکس قبول کرنے کے قابل بنارہی ہو آپ اس نعمت عظیم کی جانب لپکنے میں تامل کرر ہے ہیں۔( تفسیر ماجدی ۱؍۵۲۷ ۔ ۵۲۸).*

🌺 *محمد صابر حسین ندوی*

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

15/05/2020

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے