استعمال کی اشیاء پر زکوۃ

*پیام شریعت*

25شعبان المعظم١٤٤١ھ

20اپریل2020

بروز۔ *پیر*

*مسئلہ*

استعمال کی اشیاء پر زکاۃ ۔۔

گھر میں استعمال کی جانے والی چیزیں مثلاً کپڑے، الیکٹرانک آئٹم اور برتن بڑی بڑی دیگیں وغیرہ پر زکاۃ واجب نہیں، اگرچہ یہ چیزیں سالوں بعد استعمال میں آتی ہوں۔واللہ اعلم بالصواب۔

(مستفاد: فتاوی بنوریہ

الفتاوى الهندية (5 / 36):”( ومنها فراغ المال ) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة ، وكذا طعام أهله وما يتجمل به من الأواني إذا لم يكن من الذهب والفضة

حدیث النبیﷺ۔عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أَرْضٍ بَيْضَاءَ عَفْرَاءَ كَقُرْصَةِ النَّقِيِّ لَيْسَ فِيهَا عَلَمٌ لأحدٍ» . مُتَّفق عَلَيْهِ

حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لوگوں کو روزِ قیامت سفید سرخی مائل زمین پر جمع کیا جائے گا ، وہ (زمین) میدے کی روٹی کی طرح ہو گی اس میں کسی کے لیے کوئی نشان نہیں ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔۔عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أَرْضٍ بَيْضَاءَ عَفْرَاءَ كَقُرْصَةِ النَّقِيِّ لَيْسَ فِيهَا عَلَمٌ لأحدٍ» . مُتَّفق عَلَيْهِ

حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لوگوں کو روزِ قیامت سفید سرخی مائل زمین پر جمع کیا جائے گا ، وہ (زمین) میدے کی روٹی کی طرح ہو گی اس میں کسی کے لیے کوئی نشان نہیں ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

أوکماقال النبی ﷺ۔

(مشکوةشریف حدیث نمبر ٥٥٣٢ )

ناقلہدایت اللہ قاسمی

خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار

HIDAYATULLAH

TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA

نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں

Whatsapp.NO

6206649711

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے