کرونا وائرس کی وجہ سے فوت شدہ غیر مسلم کو مسلمانوں کے لیے کفنانے دفنانے کا حکم

*⚖سوال و جواب⚖*

*مسئلہ نمبر 1108*

(کتاب الصلاۃ باب الجنازۃ)

*کرونا وائرس کی وجہ سے فوت شدہ غیر مسلم کو مسلمانوں کے لیے کفنانے دفنانے کا حکم*

*سوال:* ان حالات میں جیسا کہ کورونا واٸرس Corona Virus پھیلا ہوا ہے، کسی غیر مسلم کی موت ہوجائے اور اسکے رشتہ دار میت کو کورونا کے ڈر کی وجہ سے شمسان نہ لے کر جائیں، تو کیا ایسے میں مسلم لوگ میت کو شمسان پہنچاکر اور کریا کرم کا جو بھی کام ہو اسے انجام دے سکتے ہیں یا نہیں؟

(المستفتی: فیض قاسمی، چمن پارک مصطفی آباد دہلی)

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*

*الجواب وباللہ التوفیق*

کرونا وائرس کی موجودہ وبا نہایت خطرناک ہے اللہ تعالیٰ اپنے اس غیر مرئی عذاب سے تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائے آمین۔

ماہرین کے مطابق اس بیماری کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ پھیلتی رہتی ہے، اسی لیے لوگوں اس بیماری سے فوت شدہ شخص کے قریب ہونا گوارا نہیں کرتے بلکہ عموما حکومتیں ایسی لاشیں دیتی بھی نہیں ہے، اپنے سرکاری کارندوں کے ذریعے ٹھکانے لگانے کا خود انتظام کردیتی ہے، تاہم اگر حکومت ایسی لاشیں دے دے تو مسلمانوں کو تو ان کے مذہبی و شرعی امور کے تحت غسل یا مسح اور کفن دفن کا معاملہ کیا جایے گا، لیکن اگر غیر مسلم لاش ہو اور کفار اس لاش کے قریب بھی نہ جاتے ہوں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ اس لاش کو بغیر نہلائے کسی کپڑے میں لپیٹ کر کہیں گڑھا کھود کر پاٹ دیں، احادیث مبارکہ میں مذکور ہے کہ جناب ابوطالب کی وفات کے موقع پر انکی تدفین میں شرکت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا، غالباً یہ ایسے ہی ناگفتہ بہ مواقع پر بیان جواز کے تھا، اسی طرح فقہاء کرام کے یہاں بھی صریح ایسی جزئیات موجود ہیں جن سے اس مسئلہ پر روشنی پڑتی ہے، البتہ یہ یاد رہے کہ کفن و دفن کے سلسلے میں ان امور کی پابندی اور لحاظ نہیں کیا جائے گا جو ایک مسلم کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے(١) اور نہ ہی غیر مسلموں کے طور طریقے پر کریا کرم کیا جائے گا؛ کیوں کہ اس میں کفار کی مشابہت لازم آتی ہے جو کہ شرعاً منع ہے(٢)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

*📚والدليل على ما قلنا📚*

(١) عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ. قَالَ : ” اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ، ثُمَّ لَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي “. فَذَهَبْتُ فَوَارَيْتُهُ وَجِئْتُهُ، فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ، وَدَعَا لِي. (سنن أبي داود رقم الحديث ٣٢١٤ كِتَابٌ : الْجَنَائِزُ | بَابٌ : الرَّجُلُ يَمُوتُ لَهُ قَرَابَةٌ مُشْرِكٌ)

كافر مات و له ولي مسلم قال يغسله و يكفنه و يدفنه و في الفتاوى العتابية و يجهزه و في الولوالجبة و لا يصل عليه…. و لا يغسل كما يغسل المسلم… و كذلك لا يراعى في حقه سنة الكفن. (الفتاوى التاتارخانية ٧٧/٣ كتاب الصلاة باب الجنازة زكريا جديد)

“لو لم یدر اَ مسلم ام کافر ولا علامۃ فان فی دارنا غسل وصلی علیہ والا لا، (رد المحتار علی الدر المختار ٢/ ٢٠٠ باب صلاۃ الجنازۃ)

و من لا یدری انہ مسلم او کافر؟ فان کان علیہ سیما المسلمین او فی بقاع دار الاسلام یغسل والا فلا” (ھندیہ١/ ١٥٩)

(٢) عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ “.
حكم الحديث: حسن (صحيح سنن أبي داود رقم الحديث ٤٠٣١ كِتَابٌ : اللِّبَاسُ | بَابٌ : فِي لُبْسِ الشُّهْرَةِ)

قال المناوي والعلقمي: أي: تزيى في ظاهره بزيهم، وسار بسيرتهم وهديهم في ملبسهم وبعض أفعالهم. انتهى (عون المعبود شرح سنن أبي داود رقم الحديث ٤٠٣١ كِتَابٌ : اللِّبَاسُ | بَابٌ : فِي لُبْسِ الشُّهْرَةِ)

*كتبه العبد محمد زبير الندوي*
دار الافتاء و التحقیق مدرسہ ہدایت العلوم بہرائچ یوپی انڈیا
مورخہ 6/8/1441
رابطہ 9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے