منکر نماز کا شرعی حکم

*⚖سوال و جواب⚖*

*مسئلہ نمبر 1106*

(کتاب العقائد باب الارتدار)

*منکر نماز کا شرعی حکم*

*سوال:* ایک شخص سے کہا گیا چل نماز پڑھنے تو اس نے کہا میرے مذہب میں نہیں ہے، یا یوں کہا میرے مذہب میں نماز وماز نہیں ہے۔ ایسے شخص کے ایمان کا کیا حکم ہوگا؟ (اشفاق احمد مالیگاؤں مہاراشٹر)

*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*

*الجواب وباللہ التوفیق*

نماز شریعتِ اسلامی کا نہایت اہم ستون اور مہتم بالشان عبادت ہے، اس کی فرضیت قرآن مجید اور صحیح، صریح و مستند احادیث سے ثابت ہے، اس لئے مطلقاً نماز کا انکار کفر ہے، ایسے آدمی پر توبہ و استغفار کے ساتھ تجدید ایمان واجب ہے، ورنہ وہ شخص خارج از اسلام مانا جائے گا(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب

*📚والدليل على ما قلنا📚*

(١) ﴿أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِدُلُوكِ ٱلشَّمۡسِ إِلَىٰ غَسَقِ ٱلَّیۡلِ وَقُرۡءَانَ ٱلۡفَجۡرِۖ إِنَّ قُرۡءَانَ ٱلۡفَجۡرِ كَانَ مَشۡهُودࣰا (٧٨) وَمِنَ ٱلَّیۡلِ فَتَهَجَّدۡ بِهِۦ نَافِلَةࣰ لَّكَ عَسَىٰۤ أَن یَبۡعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامࣰا مَّحۡمُودࣰا (٧٩)﴾ [الإسراء ٧٨-٧٩]

فَعَلَى هَذَا تَكُونُ هَذِهِ الْآيَةُ دَخَلَ فِيهَا أَوْقَاتُ الصَّلَاةِ الْخَمْسَةِ فَمِنْ قَوْلِهِ: ﴿لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ﴾ وَهُوَ: ظَلَامُهُ، وَقِيلَ: غُرُوبُ الشَّمْسِ، أُخِذَ مِنْهُ الظُّهْرُ وَالْعَصْرُ وَالْمَغْرِبُ وَالْعَشَاءُ، وَقَوْلُهُ [تَعَالَى] ﴿وَقُرْآنَ الْفَجْرِ﴾ يَعْنِي: صَلَاةَ الْفَجْرِ. (تفسير القرآن العظيم — ابن كثير الإسراء ٧٨-٧٩]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” إِنَّ لِلصَّلَاةِ أَوَّلًا وَآخِرًا، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ صَلَاةِ الظُّهْرِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَآخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُهَا، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَصْفَرُّ الشَّمْسُ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَنْتَصِفُ اللَّيْلُ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ ” (سنن الترمذي رقم الحديث١٥١ الصَّلَاةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ | بَابٌ : مَا جَاءَ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ عَنِ النَّبِيِّ)

حكمه (الفرض) لزوم التصديق بالقلب و العمل بالجوارح و جحوده كفر. (الموجز في أصول الفقه ص ٣٥ عبيد الله الأسعدي)

*كتبه العبد محمد زبير الندوي*
دار الافتاء و التحقیق مدرسہ ہدایت العلوم بہرائچ یوپی انڈیا
مورخہ 4/8/1441
رابطہ 9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے