زکوة میں قمری سال کا اعتبار ہے

🌻 *تاریخ* 🌻
_*☪ ٦شعبان المعظم١٤٤١ھ*_
_*🔆1 اپریل2020*_
🌤 بروز۔ *بدھ*
📓 *مسئلہ* 📙
✒ زکوة میں قمری سال کا اعتبار ہے۔
📙 ادا ٕزکوۃ کے وجوب کے لئے قمری سال کا اعتبار ہوگا نہ کہ شمسی سال کا۔واللہ اعلم بالصواب۔
(مستفاد: کتاب المساٸل
📚 وسبه ملک نصاب حولى نسبة للحول، و قال الشامي: أي الحول القمرى لا الشمسي. (شامیکراچی ۲۵۹۷۲، شامی زکریا ۱۷۵/۳ ، الدر المنتقی ۱۹۳/۱ ) العبرة في الزكاة للحول
القمرى كذا في القنية. (هندية ۱۷۵/۱ ) 📚
حدیث النبیﷺ۔عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: جَاءَ ابْنُ النَّوَّاحَةِ وَابْنُ أُثَالٍ رَسُولَا مُسَيْلِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمَا: «أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟» فَقَالَا: نَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَلَوْ كُنْتُ قَاتِلًا رَسُولًا لَقَتَلْتُكُمَا» . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَمَضَتِ السُّنَّةُ أَنَّ الرَّسول لَا يُقتَلُ. رَوَاهُ أَحْمد
حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، ابن نواحہ اور ابن اثال مسیلمہ کے قاصد بن کر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا :’’ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟‘‘ انہوں نے کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے ۔ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں ، اگر میں کسی قاصد کو قتل کرنے والا ہوتا تو میں تمہیں قتل کر دیتا ۔‘‘ عبداللہ ؓ نے فرمایا : یہ سنت بن گئی کہ قاصد کو قتل نہیں کیا جائے ۔ ضعیف ،رواہ احمد أوکماقال النبی ﷺ۔
(مشکوةشریف حدیث نمبر ٣٩٨٤)
ناقل✍ہدایت اللہ قاسمی
خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار
HIDAYATULLAH
TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA
نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں
CONTACT NO
6206649711
🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے