اپریل فول تاریخی پس منظر اور شرعی نقطہ نظر

از: مفتی صدیق احمد

جوگواڑ نوساری گجرات

موبائل نمبر: 8000109710
shaikhhsiddique@gmail.com

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہمارا معاشرہ آجکل جن بیماریوں سے دوچار ہے ان میں سر فہرست برے رسم و رواج اور مغربی تہذیب کی تقلید بھی ہے،جس نےمعاشرہ کوتباہ وبربادکر رکھا ہے، چونکہ مغرب کی تمام تر سازشوں کامقصد مسلمانوں کو اسلام سے ہٹا کر انکو شریعت کےخلاف زندگی گذارنے پر آمادہ کرناہے،چنانچہ ان ہی مقاصد کی خاطر طرح طرح کی سازشیں اور مختلف ہتھکنڈے استعمال کرنےکےلیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں،اورانکی کوششیں بار آور بھی ہوتی ہے، جسکا نتیجہ یہ ہوتا ہےکہ ایک مسلمان اپنے مذہب کی تمام تعلیمات کو پس پشت ڈال کر کسی کی پرواہ کیے بغیر ان ہی کی اندھی تقلید کرنےلگتا ہے،یہ سب دیکھ کر بڑا دکھ ہوتا ہے، ان ہی رسم ورواج میں سے ایک رسم ” اپریل فول” کی بھی چل پڑی ہے جو ایک وباءبن کر ایسی پھیل گئ ہے کہ اسکو برا سمجھنا تو دور کی بات نہ منانے والوں کو جاھل اور بے وقوف سمجھا جاتا ہے، چنانچہ یکم اپریل کو لوگ ایک دوسرے کو بے وقوف بنانے اور دھوکہ دینے یا مذاق اڑانے میں لگے رہتے ہیں، اورجو جتنا زیادہ اسمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لے اسکو اتنا زیادہ دانشور اور عقلمند سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اگر آپ اسکی اصل حقیقت تک پہنچیں گے تو پتہ چلے گا کہ یہ دراصل توہم پرستی،بت پرستی، اور حضرت عیسی علیہ السلام کےساتھ گستاخی اور تمسخر پر مبنی ہے،جو بہت سارے منھیات پر مشتمل ہے، اور اسکے بڑے مضر اثرات ہیں،جنکاشمار نہیں کیا جاسکتا،اسلیے اس سے بچنا اور اپنے دوست و احباب اعزہ واقارب کوبچانا ازحد ضروری ہے؛

اپریل فول کی ابتداءکب اور کیسے ہوئ؟

اسکے متعلق تین طرح کی باتیں ملتی ہیں
1) فرانس میں 17صدی سے پہلے سال کا آغاز جنوری کے بجائے اپریل سے ہوا کرتا تھا، اور اس مہینے کو رومی لوگ اپنی دیوی “وینس “کی طرف منسوب کرکے مقدس سمجھا کرتے تھے؛
2)1648ء میں فرانس کے حکمراں شارل نہم نے اپریل کے بجائے جنوری سے سال شروع کرنے کا حکم دیا تو فرانسیوں نے اسکا مذاق اڑایا؛
3)19صدی کے معروف انسائیکلو پیڈیا “لاروس”نے بیان کیا کہ در اصل یہودیوں اور عیسائیوں کی بیان کردہ روایت کے مطابق “یکم اپریل “وہ تاریخ ہے جسمیں یہودیوں اور رومیوں کی طرف سے حضرت عیسی علیہ السلام کو تمسخر اور استھزاء کا نشانہ بنایا گیاتھا؛
اگر یہ بات درست ہے تو غالب گمان کے مطابق اس رسم کو یہودیوں نے جاری کیا ہے (معاذ اللہ) حضر ت عیسی علیہ السلام کا مذاق اڑانے کے لیے؛
بہر صورت اس رسم کا تعلق توہم پرستی یا بت پرستی یا گستاخانہ نظریے سے جڑا ہواہے جن تمام چیزوں کی شریعت میں کوئ اصل نہیں ہے؛
مزید برآں اس رسم میں جھوٹ بولا جاتا ہے جو کہ کبیرہ گناہ ہے؛
چنانچہ: حدیث پاک میں ہے کہ جھوٹ انسان کو فسق و فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فسق وفجور انسان کو جہنم کی طرف لے جاتا ہے، اور انسان جھوٹ بولتا رہتاہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے پاس جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے؛( الحدیث)
اوردھوکہ بھی دیا جاتا ہے جسکے بارے میں حدیث پاک میں ہے کہ جو ہم (مسلمان) کو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے؛ (الحدیث)
اور دوسروں کوتکلیف دی جاتی ہے جوکہ سخت گناہ ہے، حدیث میں وارد ہے، کامل مؤمن وہ ہے جسکے ہاتھ اورزبان سے دیگر مؤمن محفوظ رہے؛ (الحدیث)
دوسروں کی تحقیر کی جاتی ہے جسکی ممانعت حدیث پاک میں موجود ہے، کہ آدمی کے برا ہونے کے لیے اتنی بات کافی ہےکہ وہ کسی مسلمان بھائ کو حقیر سمجھے؛(الحدیث)
اسمیں کفاروں سے مشابہت بھی ہے، جسکے بارے میں حدیث پاک میں ہے، جو بھی کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ ان ہی میں سے ہے؛(الحدیث)

خلاصہ کلام یہ ہیکہ “اپریل فول “شرعی نقطئہ نظر سے بہت سارے منہیات کو اپنے اندر لیے ہوا ہے،اور حدیث پاک میں اسکی بہت ساری وعیدیں وارد ہوئ ہیں، نیز اسکے مضر اثرات یہ ہوتے ہیں کہ جھوٹ کی وجہ سے نہ جانے کتنے حادثات رونما ہوتے ہیں، اورکتنی تلخیاں پیدا ہوجاتی ہیں، کتنے بنے بنائے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں، اور کتنے بسے بسائے گھر اجڑ جاتے ہیں،اسکے مرتکب افراد گنہگار تو بہر حال ہوہی جاتے ہیں، اور باطل اسلام دشمن طاقتوں کے در پردہ معین ومددگار بھی بن جاتے ہیں،
بریں بناء ان تمام تر برائیوں سے بچ کر اپنے معاشرہ کو برےرسم ورواج اور مغرب کی اندھی تقلید سے دور رکھ کرپورے طور پر اسلامی اور شرعی زندگی گذارنا ، اور اپنی زندگی کو شریعت کےمقرر کردہ اصول و ضوبط کا پابند بنانا، وقت کی پکار اور زندگی کی اہم ضرورت ہے، ورنہ صرف نام کے مسلمان رہ جائیں گے، اور نتیجہ شاید یہ ہوگا کہ نہ مرتے وقت کلمہ نصیب ہوسکےگا اور نہ ہی توبہ کی توفیق، اور زندگی بھر کی ساری کی کرائ محنت پانی میں مل جائے گی؛
اسلیے ابھی سے چوکنا ہوجائیے اور عقلمندی سے کام لیجے!
بُرے رسم ورواج کی ،جدید مغرب کی فیشن پرستیوں کو چھوڑ دیجیے !
مغرب کی تقلید کو
پس پشت ڈال دیجیے !
خدارا!
اب بھی آنکھیں کھولیے! اور اپنے آپ کو دستور حیات یعنی قرآنی تعلیمات میں ڈھال لیجیے!
کامیانی و کامرانی آپکے قدم چومے گی،آپ سرخرواور کامیاب ہونگے انشاء اللہ؛

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے