بے ہوش صاحب نصاب پر زکوة

🌻 *تاریخ* 🌻
_*☪ ٢شعبان المعظم١٤٤١ھ*_
_*🔆28 مارچ2020*_
🌤 بروز۔ *سینیچر*
📓 *مسٸلہ* 📙
✒ بے ہوش صاحب نصاب پر زکوة۔
📙 اگر کوئی شخص بے ہوش ہو مگر اس کی ملکیت میں نصاب کے بقدر مال موجود ہو تو اگر چہ وہ سال بھر بے ہوش رہے پھر بھی اس کے مال میں زکوۃ واجب ہوگی۔واللہ اعلم بالصواب۔
(مستفاد: کتاب المسائل
📚 وتجب على المغمى
عليه وإن استوعب الإغماء حولا كاملا. (عالمگیری ۱۷۲/١ ، شامی زکریا ۱۷۶/۳ )والمغمى عليه كالصحيح. (تاتارخانية زکریا ۲۳۶٫۳، البحر الرائق زکریا ۲/ ۳۰۰) 📚 حدیث النبیﷺ۔وَعَن أنسٍ: أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ مُتَسَلِّحِينَ يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَأَخَذَهُمْ سِلْمًا فَاسْتَحْيَاهُمْ. وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَعْتَقَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى (وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ ببطنِ مكةَ)
رَوَاهُ مُسلم
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اہل مکہ کے اسّی آدمی مسلح ہو کر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے صحابہ پر اچانک حملہ کرنے کی غرض سے جبلِ تنعیم سے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر اتر آئے ، آپ نے انہیں مغلوب کر کے گرفتار کر لیا ، لیکن آپ نے انہیں زندہ چھوڑ دیا ۔ ایک دوسری روایت میں ہے : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں آزاد کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ وہی ذات ہے جس نے وادئ مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے روکے رکھے اور تمہارے ہاتھ ان سے روکے رکھے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔۔
أوکماقال النبی ﷺ۔
(مشکوةشریف حدیث نمبر ٣٩٦٦ )
ناقل✍ہدایت اللہ قاسمی
خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار
HIDAYATULLAH
TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA
نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں
CONTACT NO
6206649711
🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے