اصل تصوف تو خدمت خلق ہے

✍️: شکیل منصور القاسمی

مذہب اسلام کا خلاصہ
ومقصد ہی دوسروں کو نفع پہنچانا ہے. اسلام کے علاوہ دنیا کے کسی مذہب نے بھی خلق خدا کی داد رسی  کو عبادت قرار نہیں دیا۔یہ مذاہب کی تاریخ کا خاص امتیاز ہے کہ اسلام نے انسانیت کے رشتہ کی بنیاد پہ انسانوں کی خدمت کو عبادت کا درجہ دے کر سب سے بہتر اس شخص کو قرار دیا ہے جو ذاتی منفعت کے لئے نہیں ، بلکہ اجتماعی مفاد کے لئے جیتا ہو۔
فقال: خيرُ الناسِ من ينفعُ الناسَ فكن نافعًا لهم.(عن خالد بن الوليد  مجموع فتاوى ابن باز –  الرقم: 26/330 )
محبوبیت خداوندی کے حصول کا سب سے  “شارٹ کٹ” اور مختصر راستہ”خدمت خلق” ہے۔۔۔۔۔
اس کی اتنی ترغیب دی گئی ہے کہ جو شخص دنیا میں کسی کے دکھ درد دور کرے ۔اللہ اس کے بدلہ قیامت میں اس کی مشکلات دور فرمائیں گے۔
(مَن نفَّس عن مُؤمِنٍ كُربةً مِن كُرَبِه نفَّس اللهُ عنه كُرَبَه يومَ القيامةِ ومَن ستَر على مُؤمِنٍ عورةً ستَر اللهُ عَوْرتَه ومَن فرَّج عن مُؤمِنٍ كُرَبَه فرَّج اللهُ عنه كُرْبَتَه ۔ عن كعب بن عجرة . الطبراني في المعجم الأوسط – الصفحة  : 6/12 ).
ہاتھ میں تسبیح ، بدن پہ گڈری ودرویشانہ لباس کا نام تصوف نہیں۔۔۔بلکہ اصل تصوف تو
خدمت خلق ہے !

زتسبیح وسجادہ ودلق نیست
طریقت بجز خدمت خلق نیست

اسی لئے اسلام نے ” بیت المال ” کا تصور دیا ہے تاکہ حالات گزیدہ لوگوں کی راحت رسانی کا کام بآسانی انجام پاتا رہے۔اور کوئی کسی شخص واحد کا دست نگر بن کے نہ رہ جائے۔
خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس  “رفاہی سسٹم” میں جو توسیع فرمائی تھی اسے آج چودہ سو سال بعد اسلام کی سخت مخالف حکومتیں بھی  نہ صرف رول ماڈل کے بطور  دیکھ رہی ہیں بلکہ اسے  غربت و افلاس کی موجودہ ناہمواریوں میں نجات دہندہ تصور کر رہی ہیں ۔۔۔۔
جہانگیر بادشاہ جیسا بھی تھا !
لیکن شاہی محل کے سامنے مجبوروں ولاچاروں کی داد رسی کے لئے گھنٹی آویزاں کرنے کی وجہ سے تاریخ کے صفحات میں “عدل جہانگیری” ایک استعارہ کے طور پہ محفوظ ہوگیا۔۔۔۔
انہی فضائل وترغیبات کی وجہ سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی ذوات قدسیہ مشکل ترین لمحات میں بھی اس عالی تصور کا خیال ملحوظ رکھا۔ خود بھوکے رہتے لیکن اوروں کا پیٹ بھرنا ان کی ترجیح ہوتی۔
اس وقت ہمارا ملک کورونا وائرس کی لپیٹ میں کراہ رہا ہے ، لاک ڈائون کی وجہ سے غریب و مفلوک الحال لاچار وبے بس لوگ گھروں میں پہنس کے رہ گئے ہیں
اصحاب خیر اور متمول طبقہ باہر آئیں *”ذات،  مذہب، برادری، علاقائی، وطنی، لسانی تنگنائیوں “* سے اوپر اٹھ کر محض انسانی رشتوں کی بنیادپر حالات گزیدہ دُکھی انسانیت کی مدد کریں ، راحت رسانی اور فلاح انسانیت کے کاموں میں بیش بہا خدمات میں جُٹ جائیں اور خیر امت ہونے کا عملی ثبوت پیش کریں ! ہمارے مذہب کی یہ بنیادی تعلیم ہے۔محبوبیت خداوندی کے حصول کا یہ اقرب ترین ذریعہ ہے۔۔۔
الحمد للہ ملک کے علماء وملی تنظیمیں راحت رسانی میں اپنی بساط کی حد تک مصروف عمل ہیں، ہر فرد اپنے طور پر اس عمل خیر میں لگ جائے تو غریب ومحنت کُش طبقہ فقر و افلاس کے باعث ہلاکتوں سے بچ سکتا ہے ۔
*شکیل منصور القاسمی *
بیگوسرائیوی
4 شعبان
1441ہجری

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے