اجتجاج کے مقصد کا تعین کیجئے

فہرست چھپائیں
3 بہر حال اصل بات یہ ہے کہ یہ قانون جس بنیاد پر پورے ملک کے عوام پر تھوپہ گیاہے اس کی بنیاد ہی مسلم دشمنی پر منحصر ہے اور موجودہ حکومت کی تمام تر کاروائیوں کو بھی دیکھا جائے تو اس کی اہم بنیاد اسلام دشمنی پر منحصر ہے۔اسلئے اس قانون سے مسلمانوں کو چھوڑ کر تمام مذاہب کے لوگوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہے کہ اس اجتجاج میں پورے ملک کے مسلمان بچے بوڑھے جوان مرد عورتیں انتہائی جوش و خروش سے شرکت کر رہی ہے اور یہ ہونا بھی چاہیے لیکن اس جوش و خروش کے ماحول میں عموما چند باتیں نظر سے گزررہی ہے جو قابل مذمت ہے ہم کو یہ سمجھنا ہے کہ یہ قانون کی بنیاد صرف اور صرف مسلم دشمنی پر ہے اور اسے اسی لئے لایا گیا ہے تاکہ مسلمانوں کو پریشان کیا جائے اور کمزور ایمان والے مسلمانوں کو گھر واپسی کے نام پر مرتد کردیا جائے جیسے کے اس متعلق دہلی میں باقاعدہ بینر بھی لگ چکے ہے۔ اس کے علاوہ بھی اس کے اور بھی بہت سے نقصانات ہے اس سے بلکل انکار نہیں بے شک اس سے دستور ہند کی خلاف ورزی ہورہی ہے بے شک یہ زات پات پر مبنی ہے اس سے ووٹ بینک بٹورنے کی کوشش کی جارہی ہے ایسسےاور بھی بہت کچھ لیکن اصل مسئلہ مسلمان سے اور اسلام سے ہے

(از قلممحمد معاویہ شریف پوسد )

الحمد للہ ہمارے ملک ہندوستان میں جب سے ظالم اور ڈکٹیٹر حکمرانوں نے انتہائی سیاہ قانون شہریت ترمیمی بل کو پارلیمنٹ میں اکثریت کی بنیاد پر منظور کرایا اسی کے ساتھ پورے ملک میں اجتجاج کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوچکا ہے جہاں اس انقلاب میں کچھ انصاف پسند غیر مسلم بھائیوں کی محنتوں ہے وہی اس کو بام عروج پر لانے میں ملت اسلامیہ کے ان شاہین صفت ماؤں بہنوں اور طلبہ کی محنتیں بھی نا قابل فراموش ہے ۔اور الحمداللہ اج یہ اجتجاج ملک کے چپے چپے میں پھیل چکا ہے ایک رپورٹ کے مطابق تقریبا ملک بھر میں 150 کے قریب شاہین باغ کا قیام عمل میں آچکا ہے ۔

بہر حال اصل بات یہ ہے کہ یہ قانون جس بنیاد پر پورے ملک کے عوام پر تھوپہ گیاہے اس کی بنیاد ہی مسلم دشمنی پر منحصر ہے اور موجودہ حکومت کی تمام تر کاروائیوں کو بھی دیکھا جائے تو اس کی اہم بنیاد اسلام دشمنی پر منحصر ہے۔اسلئے اس قانون سے مسلمانوں کو چھوڑ کر تمام مذاہب کے لوگوں کو شامل کیا گیا ہے۔
ہم دیکھ رہے ہے کہ اس اجتجاج میں پورے ملک کے مسلمان بچے بوڑھے جوان مرد عورتیں انتہائی جوش و خروش سے شرکت کر رہی ہے اور یہ ہونا بھی چاہیے لیکن اس جوش و خروش کے ماحول میں عموما چند باتیں نظر سے گزررہی ہے جو قابل مذمت ہے
ہم کو یہ سمجھنا ہے کہ یہ قانون کی بنیاد صرف اور صرف مسلم دشمنی پر ہے اور اسے اسی لئے لایا گیا ہے تاکہ مسلمانوں کو پریشان کیا جائے اور کمزور ایمان والے مسلمانوں کو گھر واپسی کے نام پر مرتد کردیا جائے جیسے کے اس متعلق دہلی میں باقاعدہ بینر بھی لگ چکے ہے۔
اس کے علاوہ بھی اس کے اور بھی بہت سے نقصانات ہے اس سے بلکل انکار نہیں بے شک اس سے دستور ہند کی خلاف ورزی ہورہی ہے بے شک یہ زات پات پر مبنی ہے اس سے ووٹ بینک بٹورنے کی کوشش کی جارہی ہے ایسسےاور بھی بہت کچھ لیکن اصل مسئلہ مسلمان سے اور اسلام سے ہے

اسلئے اس لڑائی کو اسی بنیادوں پر لڑنا چاہیے تاکہ نصرت الہی ہمارے شامل حال ہو اور رب کی رضا اور دنیا آخرت کی بھلائی ہماری مقدر بنے ۔اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب ہم ہمارا قبلہ درست ہونگا ۔ہماری نیتیں صحیح ہو نگی جیسے کہ حدیث میں وضاحت کی گئ
(امیر المومنین ابو حفص عمر بن الخطاب ﷜ سے روایت ہے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اعمال کا دارومدار نیتوں ہی پر ہے۔ اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہےجس کی اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی جانب ہے تو اس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ ہی کی جانب ہے۔ اور جس کی ہجرت دنیا کےلیے ہے کہ اسےکمائے یا عورت کے لیے ہے کہ اس سے نکاح کرے تو اس کی ہجرت انہی کی جانب ہے)
(رواہ بخاری و مسلم)

*ہم ہماری نیتیں صحیح کرے کے بے شک ہمارے اس اجتجاج سے دیگر وہ تمام مسائل حل ہوجائے گے جو ملک کو درپیش ہے لیکن اصل مقصد ہمارا یہ ہے کہ اس قانون کے ذریعہ جو سازشیں دین اسلام کے خلاف کی جارہی ہے ہم اس کو ناکام کرنے کے لئے میدان میں اترے ہے۔ہم ہمارے نبی ﷺ کے اس فرمان پر عمل کرنے نکلے ہے کے ظالم کے خلاف حق بات کہنا افضل جہاد ہے ہم اس لئے نکلے ہے کے اسلام نے ہمیں یہ پیغام دیا ہے کے ظلم کو جب بھی دیکھو اسے حسب استطاعت روکو۔*

*اگر ہم قول و عمل سے اسی مقصد کے ساتھ میدان میں ائینگےتو یقین جانئے کے حاکموں کے حاکم کن فیکون کا مالک اللہ عزوجل ہمارے حق میں آسمانوں سے فیصلے نازل فرمائنگا اور وہ نصرت و مدد ہمیں حاصل ہونگی کے باطل از خود گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائیگا ساتھ ہی ہمارا سب بڑا فائدہ یہ ہونگا کہ ہماری نیتوں کی بنیاد ہر ہمارا گھر سے نکلنا ہمارا اجتجاج کرنا ہمارا بولنا لکھنا پڑھنا سب عبادت ہوجائے گا اور اس مقصد کی بنیاد پر ہم وہ دن بھی دیکھے گے کہ ایک طرف ظالم کا ظلم ہمارے جزبوں میں اور شدت پیدا کرینگا اور بچہ بچہ بول اٹھے گا کہ*
*تو تیر آزما ہم جگر آزماتے ہے۔۔*

*اسلئے اس اجتجاج میں پوری شدت کے ساتھ پورے اہل خانہ کے ساتھ شرکت کیجئے لیکن اپنی نیتوں اور مقصد کو پہلے مقرر کرلے کہ اگر آپ دستور کے کئے جان دے رہے ہے تو آپ اس ملک کے ہیروں تو کہلائنگے لیکن اگر آپ اسلام کے خاطر جان دینگے یا کسی قسم کی قربانی دینگے تو آپ کی دنیا بھی سورجائنگی اور اخرت میں بھی کامیابی ملے گی اور اس انقلاب کا فائدہ صرف ہم کو ہی نہیں پہنچے گا بلکہ پوری دنیا دیکھے گی کے اس انقلاب سے ہمارا ملک امن انصاف کا گہوارہ بن جائنگا ظلم زیادتی کا خاتمہ ہونگا غربت ختم ہونگی بنت ہوا محفوظ رہے گی اور نا جانے ان تمام مشکلات کا خاتمہ ہونگا جس آج انسانیت بلک رہی ہے انشاء اللہ*
اٹھے گا ھواللہ حق کا نعرہ
اور راج کرینگے خلفاء خدا
ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے ۔۔انشاءاللہ

نوٹ:- اس لڑائی میں ہمارا ساتھ دینے والے ان تمام با ضمیر انصاف پسندوں (موجودہ دور کے ابو طالب ) کا ہم استقبال کرتے ہے اور کرنا بھی چاہیے لیکن ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کے یہ کانٹا ہمارے پیر میں چباہے اسے ہم ہی کو نکالنا ہے ساتھ دینے والے بھائیوں کا ہم شکر تو ادا کرسکتے ہے لیکن انھیں اپنا پیر نہیں دے سکتے۔

الھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباع
و ارنا الباطل باطلا و ارزقنا اجتنابا۔ آمین

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے