الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

*الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا*

*محمد قمرالزماں ندوی*
*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*دہلی* میں *عام آدمی پارٹی* نے ۶۳ سٹیں جیت کر *بھارتیہ جنتا پارٹی* کو چاروں خانہ چت کر دیا ۔ *کانگریس* کے بارے میں یہی کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہار کر بھی جیت گئی ہے ۔ *جھارکھنڈ* کے بعد *دہلی* کا یہ چناو عام چناو کی طرح نہ تھا بلکہ یہ ملک کا مزاج ،سوچ، فکر بدلنے والا، اور سیاست کا رخ طے کرنے والا انتخاب اور چناو تھا ۔ تعلیم، وکاس اور نفرت و فرقہ پرستی کے درمیان ٹکراؤ کا چناو تھا ۔ ملک کے اصل پریمی اور جھوٹے پریمی کے پرکھنے کا مقابلہ تھا۔ اس الیکشن نے اور *عام آدمی پارٹی* کی جیت نے نفرت ہنسا اور فرقہ پرستی کو کراری شکست دی ہے۔ اس انتخاب کے نتائج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ ملک نفرت تعصب اور فرقہ واریت والا ملک نہیں ہے ، یہ ملک امن شانتی پریم اور بھائی چارے والا ملک ہے ۔ یہ ملک گنگا جمنی تہذیب والا ملک ہے، بلکہ یہ کہا جائے کہ یہ ملک مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں والا ملک ہے۔ ہندو مسلم اتحاد والا ملک ہے ۔ یہاں کی زمین انسانیت اور مانوتا کو فروغ دیتی ہے ۔ یہاں کی زمین زیادہ دنوں تک فرقہ پرستی اور نفرت کو قبول نہیں کرسکتی ہے، مذھبی رواداری آپسی بھائ چارہ یہاں کی روایات رہی ہے اور آج بھی ہے ۔
نفرت کی سیاست پر صرف اہل دھلی کا ہی طمانچہ نہیں لگا ہے، بلکہ نفرت کی سیاست کرنے والوں پر پورے ملک کے لوگوں نے طمانچہ لگایا ہے، کیونکہ *دلی* پورے ہندوستان کا *دل* ہے جہاں سے پورے ہندوستان کے لوگوں کی نمائندگی ہوتی ہے، وہاں ہندوستان کے ہر خطے سے لوگ آکر آباد ہیں۔
اس انتخاب میں بھاجپا نے تو شرافت انسانیت مروت اور اخلاق و انسانیت کی ساری حدیں توڑ دی ۔ اس نے اس انتخاب میں فرقہ پرستی اور نفرت و تعصب کو مدہ بنایا ۔ چناوی محفلوں میں زہر آلود زبان استعمال کی ۔ کھلے عام گولی مارنے کی دھمکی دی، دلی کی فضاؤں میں نفرت کا زہر گھولتے رہے ۔ دلی کے لوگوں کو مذھب کے نام پر بانٹنے کی کوشش کی ۔ شاہین باغ کو سب سے بڑا ایشو بنایا ۔ اس الیکشن کو جیتنے کے لیے بھاجپا نے وہ سب کچھ کیا جو آج تک نہیں ہوا تھا، اس نے سیکڑوں ممبران پارلیمنٹ، درجنوں کیبنٹ منتری متعدد وزیر اعلی کو پرچار اور تشہیر کے لئے متعین کیا،خود وزیر اعظم نے کئی جن سبھائیں کی، گرھ منتری جی تو گلی گلی پرچہ بانٹتے اور ووٹ مانگتے دیکھے گئے ۔ لوگوں کے ہاتھ پاؤں بھی جوڑتے نیتا لوگ دیکھے گئے ۔ الیکشن کے دوران ایسے کھوکھلے دعوے بھی کر رہے تھے کہ لوگوں کو ہنسی آرہی تھی ۔ غرض ہر طرح سے اس الیکشن کو جیتنے کے لئے ماحول بنایا گیا، مسلمانوں کا ڈر دیکھا کر پوری دہلی کو زعفرانیت میں بدلنے کی کوشس بھی کی گئی ۔ شاہین باغ کو پاکستان اور اسلامی اسٹیٹ کا ہوا بنا کر عوام کو ڈرایا ۔ لیکن انجام ناکامی،ہزیمت اور شکست و رسوائی ہی رہی ۔

*الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا*
*دیکھا اس بیماری دل نے آخر سب کام تمام کیا*

*دلی* ہندوستان کا *دل* ہے ملک کی راجدھانی ہے، اس میں فرقہ وارانہ ذھن رکھنے والوں کی کراری ہار اور شکست بہت بامعنی ہے ،اس میں بہت کچھ پیغام ہے ،مستقبل کے بارے میں بہت کچھ اشارے ہیں ۔ لیکن افسوس کہ بی جے پی نے ابھی تک اس کراری ہار سے کوئ سبق نہیں لیا ہے اور نہ اپنی سطحیت اور اوچھی حرکتوں سے باز آرہے ہیں ۔ ابھی بھی ان کے وزراء اور لیڈران الٹے سیدھے بیان دے رہے ہیں اور اپنی ہار اور شکست نہ مان کر مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں ۔ کاش اب بھی یہ لوگ ہوش کے ناخن لیں اور اپنی نیتی کو بدلنے کی کوشش کریں ۔
اس پارٹی کے اندر کمال عیاری یہ ہے کہ دوسری پارٹیوں کی کمزوری کو پہلے بھانپتی ہے پھر بہت آسانی سے اپنے دام میں اسے پھنسا لیتی ہے، اور اپنے مقصد اور مطلب کے لئے استعمال کرتی ہے ۔ نتیش کمار جی بری طرح سے اس جال میں پھنس گئے ہیں اب وقت آگیا ہے کہ وہ بھی اپنے کرتوت اور دورنگی کی سزا پائیں گے، بہار کے عوام جلد ہی ان کو مزا چھکائیں گے ۔
دو باتیں اور ہمیں کہنی ہیں، پہلی بات یہ ہے کہ کم وقت میں *اروند کیجری وال* نے سیاست میں جو مقام بنایا ہے، دیگر پارٹیوں کو اور خاص طور پر مسلم نیتاوں کو اس سے سبق لینے کی ضرورت ہے ۔ یقینا *عام آدمی پارٹی* میں کچھ خوبیاں اور سچائیاں ہیں جو اسے دوسری پارٹیوں سے ممتاز کرتی ہے، اس کے ممبران اور کارندے محنتی ہیں ،ان میں کچھ کر دکھانے کا جذبہ ہے ۔ اس پارٹی میں رشوت اور اقرباء پروری کم ہے ۔
اس الیکشن سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ تقریبا ساٹھ فیصد لوگ ہندوستان میں وہ ہیں جن کا ذھن و دماغ سیکولر ہے، وہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، اور امن و سلامتی پریم و ایکتا اور بھائ چارہ چاہتے ہیں، ان کو تعلیم وکاس اور بجلی پانی اور میڈیکل سے مطلب ہے وہ ہندو مسلم اتحاد چاہتے ہیں ۔ جب کہ چالیس فیصد لوگ اب بھی ایسے ہیں جن کے ذھن میں نفرت کی بیج بوئ گئی ہے، اور وہ اس سے متاثر ہیں ،ان کا ذھن صاف نہیں ہے، ہمیں ان لوگوں پر محنت کرنی ہے ۔ ان کے ذھن کو صاف کرنا ہے ۔ محبت،خدمت ، انسانیت اور مانوتا سے ان کا دل جیتنا ہے،ان کے سامنے ملک کی صحیح تصویر پیش کرنی ہے، انہیں سمجھانا ہے کہ ایک مخصوص طبقہ اور ذات کے لوگ ہیں جو اپنے فائدے کے لیے تمہیں استعمال کر رہے ہیں،وہ ہندو راشٹر نہیں بلکہ برہمن راشٹر بنانا چاہتے ہیں ۔
اس لئے اس وقت نوجوان قیادت اور نئ نسل کے قائدین کو اس ذمہ داری کو خاص طور پر سمجھنا ہے ،اور اس کے لئے پوری محنت کرنی ہے ،امید کہ ان باتوں ہم سب توجہ دیں گے، سانپ ابھی مرا نہیں ہے، زہر اب بھی باقی ہے، اب آگے بہار اور پھر بنگال کی باری ہے، ابھی سے ہم لوگ اس کی تیاری شروع کردیں، اور لوگوں کے اندر سیاسی شعور پیدا کرنا شروع کردیں، یہ بھی دین کی ہی خدمت ہے ،سیاست کوئ شجر ممنوعہ نہیں ہے، سیاست دین کا ہی حصہ ہے، شرط یہ ہے کہ وہ دین اور شریعت کے تابع رہے ورنہ تو، سچ یہی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟

*جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی*

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے