جس جانورکےسینگ جان بوجھ کرجڑسےنکالدۓگۓہوں اسکی قربانی کاحکم

جانور کے سینگ جڑ سے ایسے اکھاڑ دینا کہ اس کا اثر جانور کے دماغ تک جا پہنچتا ہو، منع ہے اور ایسے جانور کی قربانی بھی جائز نہیں ہے۔ تاہم اگر سینگ جڑ سے اکھڑنے کے بعد زخم بھرچکا ہو اور دماغ پر زخم کا کوئی اثر نہ ہو یا سینگ جڑ سے اکھاڑے بغیر جڑ کےپاس سے کاٹ دیا گیا ہو تو ایسے جانور کی قربانی درست ہوگی۔واللہ اعلم بالصواب۔
“فتاوی ہندیہ” میں ہے:ویجوز بالجماء التي لا قرن لها، و كذا مكسورة القرن، كذا في الكافي … وإن بلغ الكسر المشاش لا يجزيه، و المشاش ضرؤس العظام، مثل الركبتين، كذا في البدائع
ناقل✍ہدایت اللہ قاسمی
خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار
HIDAYATULLAH
TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA
نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں
CONTACT NO
6206649711
🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے