کرونا وائرس کی وجہ سے مساجد بند کرنے اذان میں تبدیلی کرنے کا حکم

⚖سوال و جواب⚖*

*مسئلہ نمبر 1094*

(کتاب الصلاۃ باب الاذان)

*کرونا وائرس (Corona Virus) کی وجہ سے مساجد بند کرنے اذان میں تبدیلی کرنے کا حکم*

*سوال* آج 17 مارچ 2020 سے متحدہ عرب امارات میں وبائی مرض کورونا وائرس کی وجہ سے احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے چار ہفتے کے لیے متحدہ عرب امارات کی ساری مساجد وقتی طور پر بند کردی گئی ہے، جو باجماعت نماز ادا نہیں کی جائے گی۔ صرف اپنے وقت پر اذان ہوگی۔ اور سارے لوگ اپنی جگہوں پر نماز ادا کریں گے فردا فردا،
اب اس سلسلے میں دو سوالات کے جواب مطلوب ہے:

1۔ اذان میں حی علی الصلوۃ کی جگہ پر *الا صلوا فی رحالکم* کہنا ہے۔ تو کیا اس طرح کہنا صحیح ہے؟

2۔ جمعہ کے دن بھی مساجد نہیں کھلیں گی، جمعہ کی نماز اور خطبہ نہیں ہوگا، تو اس صورت میں ظہر ادا کرنی ہوگی یا جمعہ کی نماز؟
اگر دو یا تین آدمی اپنے گھر یا کمرہ میں ایک ساتھ مل کر جمعہ کی نماز ادا کریں تو کیسا ہے؟

برائے کرم ہر ایک جز کا مفصل جواب مرحمت فرمائیں

(المستفتی:- مستقیم قاسمی، امام مسجد متحدہ عرب امارات)

*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*

*الجواب وباللہ التوفیق*

سوالنامہ میں مذکور آپ کے دونوں سوالات کے جوابات سے قبل یہ عرض کرنا مناسب ہوگا کہ کرونا وائرس (Corona Virus) کی وبا سے دہشت زدہ ہوکر مساجد میں قفل ڈال دینا اور باجماعت نماز پر سرکاری یا انفرادی پابندی کردینا نہایت خدا ناترسی اور ایمانی کمزوری کی علامت ہے، پورے پورے ملک میں مساجد کو اس طرح بند کردینا نہایت قابلِ افسوس اور تشویشناک ہے، بلکہ اقبال کی زبان میں

حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے

کا مصداق ہے، غور کیجیے کہ وہ جمہوری جن میں مسلمان پسماندگی کی زندگی گزار رہے ہیں اگر خدانخواستہ وہاں مساجد پر پابندی لگی تو مستقبل میں اس سلسلے میں نہایت خطرناک صورت حال ہوسکتی ہے، اس لئے ان ممالک سے گزارش ہے کہ ایسی پابندی کو جلد از جلد ختم کریں، اپنی ایمانی کمزوری کا جائزہ لیں اور خدا پر بھروسہ رکھیں، اور اس وائرس سے بچاؤ کی ممکنہ تدابیر بھی اختیار کریں۔ اور وہ افراد جو محقق طور پر اس کے شکار ہیں ان پر انفرادی طور پر مسجد میں آنے سے پابندی عائد کریں اسی طرح جماعت کی نماز میں قراءت بقدر فرض کریں اور سنن و نوافل اپنے گھروں میں ادا کریں، صفائی ستھرائی کا خصوصی خیال رکھیں، صابن کا بکثرت استعمال کریں وغیرہ(١)۔

اب رہا آپ کا پہلا سوال تو اس کا جواب یہ ہے کہ اذان کے کلمات میں سے “حی علی الصلوٰۃ’ ختم کرکے “الصلاۃ فی رحالکم” کہنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اذان کے کلمات تشریعی ہیں اور اس پر امت کا اجماع و تواتر رہا ہے؛ اس لئے اس میں کمی زیادتی یا اپنی طرف سے کلمات کے اضافے کی قطعاً گنجائش نہیں ہے، ہاں اگر ان کلمات کو کہنے کی ضرورت ہو تو اذان مکمل کرنے کے بعد بطورِ اعلان یہ کلمات کہے جاسکتے ہیں، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی وہ روایت جس سے اذان میں یہ کلمات کہنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے اس سے مراد بھی یہی ہے کہ اذان کے جمیع کلمات کہنے کے بعد یہ کلمات کہے جائیں، چنانچہ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے اس روایت کی شرح میں نہایت وضاحت سے یہ بات لکھی ہے(٢)۔

جمعہ کے دن اگر مساجد نہیں کھلیں گی تو اس دن آدمی کو ظہر کی نماز پڑھنے کا اختیار ہوگا اور اگر کسی گھر میں تین آدمی یا اس سے زیادہ ہوں تو جمعہ کی نماز بھی باجماعت پڑھ سکتے ہیں، البتہ اگر امام شافعی رحمہ اللہ کے مقلدین ہیں تو کم سے کم چالیس آدمیوں کا ہونا ضروری ہے، اس سے کم میں جمعہ کی جماعت ان کے نزدیک درست نہیں ہے(٣)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

*📚والدليل على ما قلنا📚*

(١) ۚ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا (الطلاق 3)

مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ ۚ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (التغابن (11)

{ﻭاﺭﻛﻌﻮا ﻣﻊ اﻟﺮاﻛﻌﻴﻦ} [ اﻟﺒﻘﺮﺓ: 43]
ﺃﻣﺮ اﻟﻠﻪ – ﺗﻌﺎﻟﻰ – ﺑﺎﻟﺮﻛﻮﻉ ﻣﻊ اﻟﺮاﻛﻌﻴﻦ ﻭﺫﻟﻚ ﻳﻜﻮﻥ ﻓﻲ ﺣﺎﻝ اﻟﻤﺸﺎﺭﻛﺔ ﻓﻲ اﻟﺮﻛﻮﻉ، ﻓﻜﺎﻥ ﺃﻣﺮا ﺑﺈﻗﺎﻣﺔ اﻟﺼﻼﺓ ﺑﺎﻟﺠﻤﺎﻋﺔ، ﻭﻣﻄﻠﻖ اﻷﻣﺮ ﻟﻮﺟﻮﺏ اﻟﻌﻤﻞ.

(ﻭﺃﻣﺎ) اﻟﺴﻨﺔ ﻓﻤﺎ ﺭﻭﻱ ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ – ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ – ﺃﻧﻪ ﻗﺎﻝ: «ﻟﻘﺪ ﻫﻤﻤﺖ ﺃﻥ ﺁﻣﺮ ﺭﺟﻼ ﻳﺼﻠﻲ ﺑﺎﻟﻨﺎﺱ ﻓﺄﻧﺼﺮﻑ ﺇﻟﻰ ﺃﻗﻮاﻡ ﺗﺨﻠﻔﻮا ﻋﻦ اﻟﺼﻼﺓ ﻓﺄﺣﺮﻕ ﻋﻠﻴﻬﻢ ﺑﻴﻮﺗﻬﻢ» ، ﻭﻣﺜﻞ ﻫﺬا اﻟﻮﻋﻴﺪ ﻻ ﻳﻠﺤﻖ ﺇﻻ ﺑﺘﺮﻙ اﻟﻮاﺟﺐ. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ٣٨٤/١ كتاب الصلاة، صلاة الجماعة)

و في الغاية قال عامة مشايخنا إنها واجبة (الفتاوى الهندية ٨٢/١ كتاب الصلاة الباب الخامس في الإمامة)

{ﻳﺎ ﺃﻳﻬﺎ اﻟﺬﻳﻦ ﺁﻣﻨﻮا ﺇﺫا ﻧﻮﺩﻱ ﻟﻠﺼﻼﺓ ﻣﻦ ﻳﻮﻡ اﻟﺠﻤﻌﺔ ﻓﺎﺳﻌﻮا ﺇﻟﻰ ﺫﻛﺮ اﻟﻠﻪ} [ اﻟﺠﻤﻌﺔ: 9]

ﺃﻣﺎ اﻷﻭﻝ ﻓﺎﻟﺠﻤﻌﺔ ﻓﺮﺽ ﻻ ﻳﺴﻊ ﺗﺮﻛﻬﺎ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ٥٧٧/١ كتاب الصلاة، صلاة الجمعة)

(٢) حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، قَالَ : أَذَّنَ ابْنُ عُمَرَ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ بِضَجْنَانَ، ثُمَّ قَالَ : صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، فَأَخْبَرَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ مُؤَذِّنًا يُؤَذِّنُ، ثُمَّ يَقُولُ عَلَى إِثْرِهِ : ” أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ، أَوِ الْمَطِيرَةِ فِي السَّفَرِ “. (صحيح البخاري رقم الحديث ٦٣٢ كِتَابُ الْأَذَانِ | بَابُ الْأَذَانِ لِلْمُسَافِرِ)

قوله: (ثم يقول على أثره ) صريح في أن القول المذكور كان بعد فراغ الأذان (فتح الباري بشرح صحيح البخاري رقم الحديث ٦٣٢ كِتَابُ الْأَذَانِ | بَابُ الْأَذَانِ لِلْمُسَافِرِ)

ﻭﺃﻣﺎ ﺑﻴﺎﻥ ﻛﻴﻔﻴﺔ اﻷﺫاﻥ ﻓﻬﻮ ﻋﻠﻰ اﻟﻜﻴﻔﻴﺔ اﻟﻤﻌﺮﻭﻓﺔ اﻟﻤﺘﻮاﺗﺮﺓ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺯﻳﺎﺩﺓ ﻭﻻ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻋﻨﺪ ﻋﺎﻣﺔ اﻟﻌﻠﻤﺎء (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ٣٦٥/١ فصل بيان كيفية الأذان)

(٣) {ﻳﺎ ﺃﻳﻬﺎ اﻟﺬﻳﻦ ﺁﻣﻨﻮا ﺇﺫا ﻧﻮﺩﻱ ﻟﻠﺼﻼﺓ ﻣﻦ ﻳﻮﻡ اﻟﺠﻤﻌﺔ ﻓﺎﺳﻌﻮا ﺇﻟﻰ ﺫﻛﺮ اﻟﻠﻪ} [ اﻟﺠﻤﻌﺔ: 9]

ﻭاﻟﻤﻌﺬﻭﺭ ﻣﺄﻣﻮﺭ ﺑﺈﺳﻘﺎﻃﻪ ﻋﻠﻰ ﺳﺒﻴﻞ اﻟﺮﺧﺼﺔ ﺣﺘﻰ ﻟﻮ ﺃﺩﻯ اﻟﺠﻤﻌﺔ ﻳﺴﻘﻂ ﻋﻨﻪ اﻟﻈﻬﺮ ﻭﺗﻘﻊ اﻟﺠﻤﻌﺔ ﻓﺮﺿﺎ، ﻭﺇﻥ ﺗﺮﻙ اﻟﺘﺮﺧﺺ ﻳﻌﻮﺩ اﻷﻣﺮ ﺇﻟﻰ اﻟﻌﺰﻳﻤﺔ ﻭﻳﻜﻮﻥ اﻟﻔﺮﺽ ﻫﻮ اﻟﻈﻬﺮ ﻻ ﻏﻴﺮ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ٥٧٨/١ كتاب الصلاة صلاة الجمعة)

ﻭﺃﻣﺎ اﻟﻜﻼﻡ ﻓﻲ ﻣﻘﺪاﺭ اﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﻓﻘﺪ ﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﺣﻨﻴﻔﺔ ﻭﻣﺤﻤﺪ: ﺃﺩﻧﺎﻩ ﺛﻼﺛﺔ ﺳﻮﻯ اﻹﻣﺎﻡ، ﻭﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﻳﻮﺳﻒ: اﺛﻨﺎﻥ ﺳﻮﻯ اﻹﻣﺎﻡ، ﻭﻗﺎﻝ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ: ﻻ ﺗﻨﻌﻘﺪ اﻟﺠﻤﻌﺔ ﺇﻻ ﺑﺄﺭﺑﻌﻴﻦ ﺳﻮﻯ اﻹﻣﺎﻡ. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ٦٠٠/١ الجماعة من شروط الجمعة)

*كتبه العبد محمد زبير الندوي*
دار الافتاء و التحقیق مدرسہ ہدایت العلوم بہرائچ یوپی انڈیا
مورخہ 22/7/1441
رابطہ 9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے