کرونا وائرس دعائیں اور احتیاطی تدابیر

                         کرونا وائرس 
              دعائیں اور احتیاطی تدابیر 
                    ظفر احمد خان ندوی
                چھبرا، دھرم سنگھوا بازار، 
         ضلع سنت کبیر نگر، یوپی 272154       zafarkabeeri@gmail.com 
     دنیا میں ہر انسان کو قانون قدرت کے تحت دکھوں،غموں اور پریشانیوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتا ہے، کیونکہ یہ دنیا دارالعمل اور امتحان گاہ ہے، انسان یہاں آزمائش کے لئے بھیجا گیا ہے۔ اسے پیغمبروں اور رسولوں کے ذریعے نیکی اور بدی کے راستے بتا دیئے گئے ہیں، جن پر عمل کرکے وہ فرماں بردارری کی صورت میں اجر و ثواب اور نافرمانی کی صورت میں عذاب و سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے، 
          اس وقت پوری دنیا گذشتہ تقریباً دوماہ سے عالم گیر سطح پر’کرونا‘ نامی وبائی بیماری کی زد میں ہے جو وائرس کی شکل میں انسانی معاشرہ پر حملہ آور ہے، جو جہاں ہے وہیں خوف وہراس میں مبتلا ہے، سارے ہی ممالک نے احتیاطی اقدامات کرتے ہوئے تعلیمی ادارے بند کر دیئے ہیں، ایک جگہ زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی لگادی ہے، طبی ہدایات پر عمل اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات جاری کرنے کے ساتھ ساتھ مسافرین کی آمد پر روک بھی لگادی ہے۔
            ایسی تکلیف دہ اور پریشان کن صورتحال کے حل کے لئے جب شریعت اسلامی کی طرف رجوع کرتےہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہادئ اعظم رہبر کامل معلم انسانیت جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی بھی پریشان ہوتے یا انھیں تکلیف دہ معاملہ سے واسطہ پڑتا تو آپ فورًا دو رکعت نماز پڑھتے اور اللہ تعالیٰ سے اس تکلیف کو رفع کرنے کے لیے مدد طلب کرتے، اس لئے غموں، پریشانیوں اور دکھوں میں مبتلا ہم سب کو بھی صلاة التوبه کی  دو رکعت پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ نمازوں کی پابندی کا اہتمام کرنا چاہئیے، اور اس کے علاوہ کثرت کے ساتھ توبہ واستغفار کریں، اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے پرور دگارعالم سے مغفرت طلب کریں، صدق دل سے توبہ کرکےگناہوں کو چھوڑنے کا عہد کرے کیونکہ انسان پر پڑنے والے اکثر مصا‏‏‏ئب و آلام اس کے اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔جس کی قرآن کریم نے بھی تائید کی ہے اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے : وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ (شوریٰ:30)، تم تک جو بھی مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے اور وہ بہت سی باتوں کو معاف بھی کر دیتا ہے. ایک دوسرے مقام پر فرمایا : ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ. (الروم:41)لوگوں نے اپنے ہاتھوں جو کمائی کی، اُس کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد پھیلا، تاکہ انہوں نے جو کام کئے ہیں اﷲ اُن میں سے کچھ کا مزہ اُنہیں چکھائے، شاید وہ باز آجائیں.
         ایک اور مقام پر اس طرح تنبیہ کی گئی ہے، وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ، (السجدہ:21) اور اُس بڑے عذاب سے پہلے بھی ہم اُنہیں کم درجے کے عذاب کا مزہ بھی ضرور چکھائیں گے، شاید یہ باز آجائیں. 
         ان آیات سے جہاں یہ پتہ چلتا ہے کہ مصیبت اور پریشانیاں ہماری بد اعمالیوں کا نتیجہ ہیں وہیں اللہ تعالیٰ کے اس انتہائی اہم قانون کی طرف اشارہ ہے جس کے تحت دنیا میں لوگوں کے کرتوتوں کے سبب ان پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجے جاتے ہیں ۔ اس کا مقصد انہیں خبردار کرنا ہو تا ہے کہ شاید اس طرح وہ خوابِ غفلت سے جاگ کر توبہ کی روش اپنا لیں اور بڑے عذاب سے بچ جائیں ۔
         چنانچہ موجودہ حالات کے تناظر میں ہم میں سے ہر ایک کو اس معاملے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ ایک بڑے عذاب سے پہلے جو مہلت ہمیں دستیاب ہے اس سے فائدہ اٹھا لیں اور توبہ کر کے اپنے اعمال کی اصلاح کر لیں، اللہ تعالی ہر قسم کے آلام و مصائب اور مشکلات سے ہماری حفاظت فرمائے، ہر طرح کی وبائیں اور بلائیں ہم سے دور فرمائے، بیماریوں سے شفائے کاملہ عطا فرمائے اور مشکل اوقات میں توبہ واستغفار اور رجوع الی اللہ کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین. 
                    چار چیزوں کا اہتمام 
         کرونا وائرس کے متعلق دعاؤں اور احتیاطی تدابیر سے پہلے مندرجہ ذیل چار امور کا اہتمام کرنا نہایت ہی مفید ثابت ہوگا، ان شاء اللہ تعالیٰ 
1. صبر و رضا: اس وبائی بیماری کو نوشتہ تقدیر اور قضائے الٰہی سمجھ کر اس پر صبر کریں اور اس فیصلے سے راضی رہیں، کیونکہ جو تقدیر میں لکھا جاچکا ہے وہ پہنچ کررہےگا،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نےارشاد فرمایا: قُلْ لَّنْ يُّصِيْبَنَآ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا ۚهُوَ مَوْلٰىنَا ۚوَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ. (التوبہ:51) ہرگز ہمیں نہیں پہنچے گا مگر وہ ہی جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے وہ ہی ہمارا کارساز ہے اور مومن اللہ ہی پر بھروسا رکھیں۔ اور فرمایا:مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا ۭ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ. (الحدید:22) نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ تمہاری جانوں میں مگر اس سے پہلے ہم اس کو پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے اور یہ (کام)اللہ تعالیٰ کے لئے آسان ہے۔
2. توکل علی اللہ: اللہ پر بھروسہ کریں ایسے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تعلیمات ہیں ان کی پیروی کریں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسۡبُہٗ: اور جو اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے الل اس کے لئے کافی ہے. (الطلاق:3)، یعنی ان امور کو اگر متقی اللہ پر چھوڑ دے تو اس کے لیے اللہ کافی ہو گا کسی کے درازے پر جانے کی ضرورت نہ ہو گی۔ اگر انسان ان امورکو اپنے ہاتھ میں لے اور اللہ پر توکل نہ کرے تو ہر دروازے پر جانا پڑے گا پھر بھی اس کی زندگی کے امور حل نہ ہوں گے کیونکہ اللہ کا وضع کردہ نظام علل و اسباب کا نظام ہے۔ یہ علل و اسباب انسان کی دسترس میں اس وقت آتے ہیں جب مسبب الاسباب پر بھروسہ کرے اور اگر انسان اپنی تدبیر پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔
3. خشیت الہی: اللہ کا تقوی اختیار کرنا ، یعنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی پیروی اور منہیات سے باز رہنا، ارشاد باری تعالیٰ ہے،  وَ مَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا: جو تقویٰ اختیار کرے گا اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دے گا۔(الطلاق:3)، یعنی متقی آلام و مصائب میں نہیں پھنسے گا۔  تقویٰ زندگی کے تمام مراحل اور شعبوں میں یہی اثر رکھتا ہے۔تقویٰ کی وجہ سے انسان کا ضمیر صاف، احساس زندہ اور عقل بیدار ہوتی ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر تقویٰ انسان کی رہنمائی کرتا ہے کون سا راستہ حق، صحیح اور آسان ہے اور کون سا راستہ باطل، غلط اور مشکل ہے۔ اس طرح متقی دین اور آخرت کے معاملات میں مشکل موڑ پر نہیں پھنستا۔حدیث میں میں آیا ہے: اللہ تقویٰ کی وجہ سے دنیا میں شبہات اور موت کی سختیوں سے اور قیامت کے شدائد سے نکلنے کا راستہ بناتا ہے۔
4. کثرت استغفار:  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :وَمَا كَانَ ٱللَّهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ يَسۡتَغۡفِرُونَ. (الانفال:33)، اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وه استغفار بھی کرتے ہوں، دوسری جگہ فرمایا : وَمَن يَعۡمَلۡ سُوٓءًا أَوۡ يَظۡلِمۡ نَفۡسَهُۥ ثُمَّ يَسۡتَغۡفِرِ ٱللَّهَ يَجِدِ ٱللَّهَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا. النساء:110)، جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ﻇلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے تو وه اللہ کو بخشنے واﻻ، مہربانی کرنے واﻻ پائے گا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ روئے زمین پر عذاب الٰہی سے امن کی دو ہی پناہ گاہیں تھیں ایک تو اُٹھ گئی دوسری باقی ہے لہٰذا اس دوسری پناہ گاہ کو اختیار کرو، جو پناہ گاہ اُٹھ گئی وہ تو نبی کریمؐ کی ذات گرامی تھی اور جو باقی ہے وہ استغفار ہے اللہ تعالیٰ کا رشاد ہے۔ ترجمہ: ’’اور اللہ تعالیٰ ان کو اس وقت تک عذاب میں مبتلا کرنے والا نہیں ہے جب تک کہ آپؐ ان میں موجود ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو اس حالت میں عذاب میں مبتلا کرنے والا نہیں ہے جب تک وہ استغفار کرتے ہوں۔(مشکوٰۃ)
 امراض سے حفاظت کی دعائیں 
1. کسی پریشانی و بیماری (یا کرونا) میں مبتلا شخص کو دیکھ کر یہ دعا پڑھیں: 
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا
سيدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی کو مصیبت میں مبتلا دیکھے پھر کہے: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا (سب تعریف اللہ کے لیے ہے کہ جس نے مجھے اس بلا و مصیبت سے بچایا جس سے تجھے دوچار کیا، اور مجھے اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی)، تو اسے یہ بلا نہ پہنچے گی۔ (ترمذی)
2. کسی بیماری یا کرونا میں مبتلا شخص کی شفایابی کے لئے یہ دعا پڑھیں: 
“أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بندہ کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا ابھی وقت نہ ہوا ہو اور سات بار یہ دعا پڑھے “أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ” (میں عظمت والے اللہ اور عظیم عرش کے مالک سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں اچھا کر دے) تو ضرور اس کی شفاء ہو جاتی ہے۔(ترمذی)
3. بیماری میں مبتلا شخص اس دعا کا اہتمام کرے:
رَبِّ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
اے میرے پروردگار، بیشک مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ ( الانبیاء:83) 
 
4. بری بیماریوں (اور کرونا) سے حفاظت کے لئے ان دعاؤں کا اہتمام کریں: 
اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئْ الْأَسْقَامِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے “اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئْ الْأَسْقَامِ” (اے اللہ! میں برص(جلد کی بیماری) جنون(پاگل پن کی بیماری) جذام(کوڑھ کی بیماری) اور تمام بری بیماریوں کی برائیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔(سنن ابو داؤد) 
اَللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اَللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اَللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اپنے والد سے کہا ابو جان! میں آپ کو ہر صبح یہ دعا پڑھتے ہوئے سنتا ہوں”اَللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اَللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اَللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ”  (اے اللہ! تو میرے جسم کو عافیت نصیب کر، اے اللہ! تو میرے کان کو عافیت عطا کر، اے اللہ! تو میری نگاہ کو عافیت سے نواز دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں)، آپ اسے تین مرتبہ دہراتے ہیں جب صبح کرتے ہیں اور تین مرتبہ جب شام کرتے ہیں؟، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی دعا کرتے ہوئے سنا ہے، اور مجھے پسند ہے کہ میں آپ کا مسنون طریقہ اپناؤں۔(سنن ابو داؤد)
لآإِلَٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبْحَٰنَكَ إِنِّى كُنتُ مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ.
الٰہی تیرے سواکوئی معبود نہیں ہے تویکتاہے،میں تیری پاکی بیان کرتاہوں بلاشبہ میں اپنے نفس پرخودہی ظلم کرنےوالا ہوں. (الأنبياء) 
بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ 
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص تین بار یہ کہے: ” بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ “(اللہ کے نام سے ، اس کے  نام سے زمین و آسمان میں کوئی چیز بھی نقصان نہیں دیتی، اور وہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے) تو اسے صبح تک کوئی اچانک پہنچنے والی تکلیف نہیں پہنچے گی  اور جو یہ کلمات صبح کے وقت کہے تو شام تک اسے اچانک پہنچنے والی تکلیف نہیں پہنچے گی.(ابوداؤد و ترمذی)
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، اور معوذتین تین مرتبہ صبح کے وقت، اور تین مرتبہ شام کے وقت
سیدنا عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بارش کی ایک سخت اندھیری رات میں نماز پڑھانے کے لیے تلاش کرنے نکلے، تو ہم نے آپ کو پا لیا، آپ نے فرمایا: ”کیا تم لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ نے فرمایا: کچھ کہو، اس پر بھی ہم نے کچھ نہیں کہا، آپ نے پھر فرمایا: کچھ کہو (پھر بھی) ہم نے کچھ نہیں کہا، پھر آپ نے فرمایا: کچھ تو کہو، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، اور معوذتین تین مرتبہ صبح کے وقت، اور تین مرتبہ شام کے وقت کہہ لیا کرو تو یہ تمہیں (ہر طرح کی پریشانیوں سے بچاؤ کے لیے) کافی ہوں گی۔(سنن ابوداؤد)
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح اور شام کرتے تو ان دعاؤں کا پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے”اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي” (اے للہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا طالب ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے عفو و درگزر کی، اپنے دین و دنیا، اہل و عیال، مال میں بہتری و درستگی کی درخواست کرتا ہوں، اے اللہ! ہماری ستر پوشی فرما۔ اے اللہ! ہماری شرمگاہوں کی حفاظت فرما، اور ہمیں خوف و خطرات سے مامون و محفوظ رکھ، اے اللہ! تو ہماری حفاظت فرما آگے سے، اور پیچھے سے، دائیں اور بائیں سے، اوپر سے، اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اچانک اپنے نیچے سے پکڑ لیا جاؤں، ابوداؤد کہتے ہیں: وکیع کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ زمین میں دھنسا نہ دیا جاؤں۔(سنن ابوداؤد)
أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے شام کے وقت تین مرتبہ “أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ”(میں اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے سے ہر اس چیزکے شرسے (اس کی )پناہ مانگتاہوں جو اس نے پیداکی ہے)  پڑھا، اسے اس رات کوئی بھی زہریلی(ڈنک مارنے والی) چیز تکلیف نہیں پہنچا سکتی ۔(ترمذی)
ماہرین صحت کے مطابق احتیاطی تدابیر
کرونا وائرس سے چین سمیت مختلف ممالک میں ہونے والی سیکڑوں ہلاکتوں کے بعد دُنیا بھر میں احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔
         بیماری کے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، ادویات استعمال کرنے اور ظاہری اسباب کو بروئے کار لانے کی بھی ترغیب دی گئی،نبی کریمﷺنے متعدد اشیاء کو بطور علاج استعما ل کرنے کا حکم فرمایا۔ آپﷺنے اپنی حیات میں جہاں روحانی اور باطنی بیماریوں کے حل تجویز فرمائے وہیں جسمانی اور ظاہری امراض کے لیے بھی اس قدر آسان اور نفع بخش ہدایات دیں کہ دنیا حیرت انگیز ترقیات کے باوجود اسے تسلیم کرنے پر مجبور ہے ۔ چنانچہ روزانہ کم ازکم پانچ مرتبہ وضو کرنا، جنسی عمل کے بعد لازماً غسل کرنا، بالوں او رناخنوں کی تراش خراش کرنا، منہ، ناک اور کان کی صفائی کرنا، صاف ستھرا لباس پہننا، کھانے سے پہلے اور بعدمیں ہاتھ دھونا، یہ سب وہ چیزیں ہیں جو ہزاروں سال سے ہمارے دین کا لازمی حصہ ہیں اور دور جدید کے ہائی جین کے اصول بھی انہیں باتوں کی تلقین کرتے ہیں۔
1. سب سے اہم چیز یہ ہے کہ خوف زدہ نہ ہوں۔
2. صرف اسی صورت میں خود کو یا کسی مریض کو علیحدہ کریں جب کرونا وائرس واضح ہو جائے۔
3. باقاعدگی سے ہاتھ دھوئیں ،  سہولت نہ ہونے کی صورت میں ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال کریں ۔
4. ماسک کا استعمال کریں
5. دن میں کئی بار صابون سے ہاتھ دھوئیں 
6. کھانسی اور چھینک کے وقت ٹشو پیپر یا رومال کا استعمال کریں 
7. عدم دستیابی کی صورت میں کہنی سے ناک کو ڈھانپ لیں
8. کرونا وائرس کے مشتبہ مریض سے بغیر حفاظتی اقدامات یعنی دستانے یا ماسک پہنے بغیر ملنے سے گریز کریں 
9. مچھلی گوشت اور انڈوں کو اچھی طرح پکائیں 
10. نزلہ اور زکام کی صورت میں پرہجوم مقامات پر جانے سے اجتناب کریں 
11. بیمار لوگوں سے فاصلہ رکھیں ۔
12. ہاتھ صاف نہ ہوں تو اسے آنکھوں، ناک اور منہ پر لگانے سے اجتناب کریں 
13. جو لوگ بہت زیادہ سگریٹ پیتے ہیں انھیں یا تو اسے کم کردینا چاہیے یا پھر چھوڑ دیں۔
14. جسم کی قوت مدافعت کو برقرار رکھنے والی اشیاء اور غذاؤں کا استعمال کریں
15. صبح نہار منھ شہد کا استعمال کریں 
16. شام کو کلونجی کا استعمال کریں 
17. کھانسی یا بخار کی صورت میں سفر نہ کریں 
18. سانس کی بیماری میں مبتلا شخص کے پاس جانے سے بچیں
19. صاف صفائی کا خصوصی اہتمام کریں 
20. سردی زکام کھانسی یا سانس لینے میں تکلیف ہونے پر ڈاکٹر سے رجوع کریں 
21. کسی طرح کے شک و شبہ کی صورت میں ڈاکٹر سے تفصیلی طبی معائنہ کرائیں.
22. جس جگہ یہ بیماری پھیلی ہو وہاں کے لوگ اُس بستی سے باہر نہ جائیں اور جو اُس بستی سے باہر ہوں وہ اُس میں داخل نہ ہوں. 
     اللہ تعالی ہر قسم کے آلام و مصائب اور مشکلات سے ہماری حفاظت فرمائے، ہر طرح کی وبائیں اور بلائیں ہم سے دور فرمائے، بیماریوں سے شفائے کاملہ عطا فرمائے اور مشکل اوقات میں توبہ واستغفار اور رجوع الی اللہ کی توفیق عطا فرمائے،  رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖإِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمِ، اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما ،بیشک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے۔ اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرما بیشک تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین.
سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے