کرونا وائرس حقیقت کے آئینہ میں

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺(853)
*کرونا وائرس: حقیقت کے آئینہ میں !!*

*دسمبر ٢٠١٩/ میں چینی ڈاکٹر لی ون یانگ نامی نے ایک وائرس تلاش کیا تھا، جو ہو بہو سارس کی طرح نظر آتا تھا، جس سے ٢٠٠٣/ میں ہزاروں لوگوں کی موت ہوگئی تھی، مگر چونکہ چینی سرکار اسے اپنی پالیسیوں کیلئے خطرہ سمجھ رہی تھی، اور اسے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں سرکار پر اثر پڑے گا؛ ایسے میں سرکاری اعتبار سے وہاں کی پولس نے انہیں گرفتار کر لیا اور ایک بیان یہ نقل کروایا یہ کہ ایسی تحقیق جھوٹ پر مبنی ہے، کچھ ہی دنوں کے بعد اس ڈاکٹر کا اسی وائرس سے انتقال ہوگیا، جب وہاں کی عوام کو معلوم ہوا تو پورے چین میں ہنگامہ برپا ہوگیا، ڈاکٹروں نے انہیں بڑی عزت دی اور ساتھ ہی سرکار سے سخت ناراضگی ظاہر کی تھی، رپورٹ کو اگرچہ پوشیدہ کردیا گیا تھا، لیکن اسی وقت سے وہ وائرس بڑی تیزی کے ساتھ پھیلتا گیا اور ملک کیلئے خطرہ بن گیا، اب بھی لاکھوں لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں، اور تقریباً پانچ ہزار لوگ مارے جا کے ہیں، چین کے بعد یورپ اس وقت سب سے زیادہ پریشان ہے، وہاں خاص طور سے اٹلی کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے، تقریباً ڈیڑھ کڑور لوگوں کو نظر بند کردیا گیا ہے، امریکہ اور پاکستان جیسے متعدد ممالک نے Health emergency کا اعلان کردیا ہے، سارے پروگرام رد کردئے گئے ہیں، اولمپکس کی تاریخ آگے کردی گئی ہے، ہندوستان میں IPL اور دوسری سیریز متاثر ہوئی ہیں، سنیما ہال بند ہیں، حتی کہ جیمس بانڈ کی فلم بھی ریلیز نہیں ہوسکتی، جس کیلئے دنیا دیوانی رہتی ہے، بہت سے صوبوں میں تعلیمی ادارے بند ہیں.*
*ہمارے وزیراعظم نے دل پر پتھر رکھ کر بیلجیئم کا ٹور رد کردیا ہے، فلائٹس لگ بھگ ساری بند کردی گئی ہیں، اس کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت تباہ و برباد ہوگئی ہے، شیر مارکیٹ اوندھے منہ گر پڑا ہے، بہر حال یہ سب کچھ صرف ایک وائرس کی وجہ سے ہے، اسے نوویل کرونا وائرس یا پھر کووڈ ١٩ کہا جاتا ہے، اسے ووہان وائرس بھی کہتے ہیں؛ کیونکہ اس کا سب سے پہلا کیس چین کے شہر ووہان میں ہی پایا گیا تھا، یہ ایک ہی قسم کا وائرس نہیں ہے، بلکہ کئی طریقے کا وائرس ہے، عموماً انسان کو جب یہ وائرس لگتا ہے تو تین علامتیں پائی جاتی ہیں، کھانسی، بخار اور سانس لینے میں دقت. یہ وائرس لنگس یعنی پھیپھڑے کے سطح پر جو پروٹین ہوتے ہیں، وہاں جمع ہوجاتے ہیں، اور لنگس کے سسٹم کو تہس نہس کر دیتے ہیں، انسان سانس لیتے وقت پریشانی کا احساس کرتا ہے، ایسا بھی نہیں ہے کہ جب کبھی یہ تینوں چیزیں پائی جائیں انہیں کووڈ ہی کہا جائے گا؛ بلکہ ماہرین نے اسے تین درجے میں رکھا ہے،اعلی. اوسط. ادنی. چنانچہ جن میں عام کھانسی کے علاوہ جب خطرناک صورت اختیار کر لے تو نمونیہ کا اثر ہوتا ہے، مگر ان میں زیادہ تر اوسط ہی ہوا کرتا ہے، جس سے انسان زیادہ مریض نہیں ہوتا، اور جلد ہی ٹھیک ہوجاتا ہے، مگر قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس وائرس کو ٢ سے ١٤ دنوں میں پہچانا جاتا ہے، اسی لئے ہوسکتا ہے کہ کسی کو یہ بیماری اوسط درجہ کی محسوس ہو، مگر اعلی درجے سے تعلق رکھتی ہو، اسی لئے ایسے متاثر کو چاہیے کہ فورا ڈاکٹر سے صلاح لے، اس بیماری کی سب خطرناک بات یہی ہے کہ اسے بہت لمبے وقفے کے بعد پہچانا جاتا ہے، اتنے دنوں تک عموماً غفلت برتی جاتی ہے، اور پھر انجام کرونا وائرس ہوتا ہے.*
*اس وائرس سے متاثر ہونے والے ایک قسم کے مریض وہ بھی ہوتے ہیں، جنہیں یہ مرض لگ چکا ہوتا ہے مگر اسے خود کو پتہ نہیں ہوتا، ایسے میں اس کی وجہ سے متعدد لوگ اس سے متاثر ہوجاتے ہیں، اسے میڈیکل کی زبان میں Asymptomatic patient __ سمپوٹیمیٹک مریض کہتے ہیں، چونکہ یہ ایک ایسا وائرس جو انسان کے اعصاب پر حملہ ور ہوتا ہے، ایسے میں اگر اس کے اندرون میں موجود دفاعی قوت مضبوط نہ ہو تو پھر ایسا مریض سنگینی کا شکار ہوجاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ سب سے زیادہ ٦٥ برس سے زائد عمر والے اشخاص کو جلدی لگتا ہے، اور ان ہی کی حالت تشویشناک ہوتی ہے، وفات کی شرح بھی انہیں میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہے، جوان اور خاص طور پر بچے بہت کم مرتے ہیں. یہ بھی جان لینا چاہیے کہ کوئی بھی وائرس دو طریقے سے پھیلتا ہے، ایک جسم کے بالواسطہ ملنے سے جیسے ایڈس وغیرہ ہے، دوسرا جرثومے کے لگنے سے جیسے کرونا وائرس ہے، چنانچہ جب انسان کھانستا ہے تو ہوا میں اس کے جرثومے تیرنے لگتے ہیں، مگر اچھی بات یہ ہے کہ جلد ہی زمین پر گرجاتے ہیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو فضائی طور پر اب تک پوری دنیا مریض ہوچکی ہوتی، بہر حال یہی وجہ ہے کہ جب کوئی اس وائرس سے متاثر کسی چیز کو چھو بھی دے اور اس کے بعد کسی تندرست نے اسے چھو لیا ہے، تو اسے بھی وائرس ہوجائے گا، غالبا چین میں ہی بعض لوگوں نے بودھ مندر میں مقدس کتابوں اور جگہوں کو چھو لیا تھا، انہیں بھی یہ وائرس لگ گیا؛ کیونکہ اس سے پہلے اس کے متاثرین اسے چھو چکے تھے.*
*اس کی ایک اور خطرناکی یہ ہے کہ یہ حیران کن ہندسے سے پھیلتے ہیں، جیسے اگر شروع میں کسی ٥ / کو تھا تو پھر ممکن ہے کہ اگلے ١٨/کو ہوجائے، ان سے ٥٢/ ١٤٠/ ٣٦٨/ تک ہو سکتے ہیں، مگر وہی اس میں قابل اطمینان بات یہ ہے کہ سو فیصد میں سے ایک فیصد ہی لوگ مرتے ہیں، بقیہ ریکور ہوجاتے ہیں، تاہم اسے ایک عالمی وبا کے طور پر اعلان کردیا گیا ہے، WHO نے اسے World pendant کہا ہے، ظاہر ہے اس کی وجہ سے دنیا رک سی گئی ہے، ہر چھوٹے بڑے کو یہ مرض لاحق ہورہا ہے، ٢٤/ فروری کو ایران کے نائب ہیلتھ منسٹر نے کہا کہ کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، معلوم ہوا کہ انہیں کو وائرس نے گلے لگا لیا ہے، اس وائرس کی ایک اور سب سے خطرناک چیز یہ ہے کہ میڈیکل دنیا نے اب تک اس کی دوا نہیں پائی ہے، اب تک جو علاج کئے جاتے ہیں، وہ عام بخار و درد کا علاج ہوا کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کا علاج گھر پر بھی کیا جارہا ہے، اس میں سب سے زیادہ اصل کام یہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹرس مریض کے اندرونی نظام کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے ایک مریض طاقت پاتا ہے اور وہ خود وائرس سے لڑ کر جیت جاتا ہے، اسی لئے میڈیکل کی طرف سے بہت سے احتیاطی تدابیر بتائے جاتے ہیں، جیسے صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا، چونکہ ہمیں معلوم نہیں کہ کسے وائرس ہے اور کسے نہیں ہے اس لئے اجتماعی جگہوں سے بچنا__*
*بیس سیکنڈ تک اپنے ہاتھ دھوئیں، جب کبھی کسی دوسری چیز کو ہاتھ لگائیں، یا کوئی کام کریں، چہرے کو زیادہ نہ چھوئیں، یہ ایک مشکل بات ہے کیونکہ ایک اسٹڈی کے مطابق ہر انسان ایک گھنٹے میں ٢٣/ بار چہرے کو چھوتا ہے، ماسک لگائیں، مگر یہ اس وقت زیادہ فائدہ مند ہے جب کسی کو وائرس ہو، یا پھر لگانے والے کے کوئی قریب جائے ____ اس وائرس کو روکنے کیلئے دو کام ضروری ہے، ایک تو یہ کہ میڈیکل سائنس جلد از جلد اس کی دوا تلاش کرے، ورنہ ماہرین کہتے ہیں کہ اگرچہ ہم اسے کنٹرول کر لیں گے؛ لیکن اسے جڑ سے ختم نہیں کر پائیں گے. دوسرا یہ کہ لوگوں میں بیداری پیدا کی جائے… خاص طور پر ضروری امر یہ ہے کہ عالمی اعتبار سے چین پر بھی دباؤ بنایا جائے؛ کہ وہ جانوروں کی بے تحاشا خرید و فروخت پر دائمی پابندی لگائے، جیسا کہ اس نے سارس کے وقت ٢٠٠٣/ میں کیا تھا؛ مگر پھر ملک کے مفادات کی خاطر ہٹادیا اور اب پھر پابندی عائد کردی گئی ہے، دراصل اس طرح کے وائرس زیادہ تر جانوروں سے پیدا ہوتے ہیں، ہر جانور کوئی نہ کوئی وائرس پایا جاتا ہے، اسی لئے انہیں جنگل میں رکھا جانا چاہیے، مگر انسان اسے گھر اور آبادی تک لے آئے، تو وہ خطرہ بن جاتا ہے جیسے MERS مرس نامی وائرس اونٹ سے، سارس soot cat ایک قسم کی بلی سے، ایبولا چمگادڑ سے، برڈ فلو پرندے اور مرغ سے، سوائن فلو خنزیر سے اور شاید موجودہ کرونا وائرس چمگادڑ اور پنگالن سے آیا ہے. اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر مسلمان اپنے ایمان و توکل کے ساتھ اس وبا سے لڑے، مومن کی شان نہیں کہ وہ گھبرائے، تدابیر اختیار کرے؛ لیکن توقع بس خدا کی ذات سے ہی لگائے.* (تحقیق ماخوذ از: سوچ Utube)

✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
15/03/2020

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے