کاشت و کاشتکار کی اہمیت اور کیفیت

*صدائے دل ندائے وقت*(1172)
*کاشت و کاشتکار کی اہمیت اور کیفیت*

https://t.me/joinchat/T78wo9HSWkM5dOhs

*”کاشت کاروں کی اہمیت کے پس منظر میں اسلام نے اس شعبہ کو بڑی اہمیت دی ہے، اللہ تعالیٰ نے کاشت کاری کی نسبت اپنی ذات کی طرف کی ہے: أنتم تزرعونہ أم نحن الزارعون (واقعہ: ۶۴) اور کہا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ ہی نے زمین کو کاشت کے لئے موزوں بنایا ہے” (ملک: ۱۵) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا کھیتی کرتا ہے، اس میں سے پرندہ، انسان یا جانور جو کچھ کھاتا ہے، یہ اس کے لئے صدقہ ہوتا ہے، (بخاری عن انس بن مالک، حدیث نمبر: ۲۳۲۰) بعض روایتوں میں درندوں کا بھی ذکر ہے کہ اگر درندے کھاتے ہیں تو اس میں بھی صدقہ کا ثواب ہے، (مسلم عن جابر بن عبداللہ، حدیث نمبر: ۱۵۵۲) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو صدقۂ جاریہ قرار دیا ہے، ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کو صدقۂ جاریہ قرار دیا ہے، ان میں ایک کھجور کا درخت لگانا بھی ہے، (البحرالذخار، حدیث نمبر: ۷۲۷۹) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ہی بلیغ تاکید کے ساتھ شجر کاری کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: اگر قیامت قائم ہو جائے اور تمہارے ہاتھ میں کوئی پودا ہو اور یہ ممکن ہو کہ قیامت آنے سے پہلے تم اس پودے کو لگا سکو تو اسے لگا دینا چاہئے، (الادب المفرد عن انس بن مالک، حدیث نمبر: ۴۷۹). زمینوں کو افتادہ چھوڑے رکھنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کے پاس زمین ہو، اس کو چاہئے کہ اسے کاشت کرے، اور اگر کاشت نہیں کر سکتا تو اپنے مسلمان بھائی کو زمین دے دے، اس کو کرایہ پر نہ لگائے، (مسلم عن جابر، حدیث نمبر: ۱۵۳۶) مقصد یہ ہے کہ زمین کو یوں ہی خالی نہ چھوڑ دے، یہ اللہ کی دی ہوئی نعمت کی ناقدری اور انسانیت کو اس کے نفع سے محروم رکھنا ہے؛ اس لئے اگر کسی کے پاس قابلِ کاشت زمین ہو تو اس کو ضرور کاشت کرنا چاہئے، یہ بات انصاف کے خلاف ہے کہ سماج میں کچھ لوگ اتنی زیادہ زمینوں پر قابض ہو جائیں کہ وہ ان کو کاشت نہ کر سکیں؛ اس لئے ایسے شخص کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ زائد زمین ان بھائیوں کو دیدیں، جو کاشت کرنے کے موقف میں ہوں؛ تاکہ اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ضائع نہ ہو جائے اور انسانیت اس کے نفع سے محروم نہ رہ جائے، سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں ایک صاحب آئے، انھوں نے عرض کیا کہ ایک ایسی زمین جو ویران ہو گئی تھی اور زمین کے مالکان خود اس کو آباد کرنے کے موقف میں نہیں تھے، میں نے اس کے لئے نہر کھودی اور اس میں کھیتی کی ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: خوش ہو کر کھاؤ، تم نے اصلاح کی ہے، فساد پیدا نہیں کیا ہے، آباد کیا ہے، ویران نہیں کیا ہے، (کتاب الخراج یحییٰ ابن آدم؍۷۵۹) بظاہر یہ ویران زمین سرکاری زمین رہی ہوگی، جو کسی شخص کو دی گئی ہوگی؛ تاکہ وہ اسے آباد کرے اور جب وہ آباد نہیں کر پایا تو دوسرے شخص نے آباد کیا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو اس زمین پر برقرار رکھا، بہر حال اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ خلافتِ راشدہ میں اس بات کی کوشش کی جاتی تھی کہ افتادہ زمینیں آباد کی جائیں اور وہ کسانوں کو دے دی جائیں۔”*(شمع فروزاں- ٨/١/٢٠٢١)
*یہ فضائل و اہمیت کسی مذہبی رو سے ہی نہیں ہے؛ بلکہ دنیاوی نظام پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ کاشت اور کاشتکار سے کوئی فرار ممکن نہیں ہے، ان سب کے باوجود آج نوبت یہ ہے کہ وہی سب سے زیادہ مظلوم ہیں، دنیا میں ہر میدان کے اندر کچھ نہ کچھ ترقی ہوئی ہے اور آمدنی دوگنی، سہ گنی اور چہار گنی تک پہنچی ہے؛ لیکن کھیتی باڑی والے آج بھی جو لگاتے ہیں اسی سے محروم رہ جاتے ہیں، اکثر فصل خراب ہوجاتی ہے، موسم کا ستم انہیں اپنا شکار بنا لیتا ہے، اگر کوئی بڑے پیمانے پر کام کرے تو الگ بات ہے ورنہ اکثر و بیشتر ان کی مظلومیت کی داستان سنائی دیتی ہے، بھارت میں جس شعبے کے لوگ سب سے زیادہ خود کشی کرتے ہیں ان میں کسانوں کا بڑا نام ہے، مہاراشٹر تو اس سلسلہ میں اول درجہ پر فائز ہے، طرفہ یہ کہ حکومتوں نے ہمیشہ جے جوان اور جے کسان کا نعرہ لگایا؛ مگر نہ تو جوان کو سہولیات دی گئیں اور ناہی کسانوں کے درد پر مرہم رکھنے کی کوشش کی گئی، مستزاد یہ کہ ان کے خلاف قوانین و پابندیاں عائد کر کے ان کی زمینوں پر قبضے کی کوشش جاری ہے، ان دنوں کاشتکاروں کا مسئلہ بہت سنگین ہوگیا ہے، حالت یہ ہے کہ وہ مہینوں سے اپنا حق مانگنے اور اپنی واجب کمائی و زمین کا تحفظ فراہم کرنے کی مانگ کر لیکر دہلی کی سرحدوں پر براجمان ہیں، سخت سردی، کہرا، پولس اور پروپیگنڈوں کے درمیان ان کی زندگی اَٹکی ہوئی ہے، بالخصوص ٢٦/جنوری ٢٠٢١ کی پریڈ اور ہنگامے کے بعد تو وہ کسمپرسی کے عالم میں ہیں، کسی بھی وقت ان پر کاروائیاں ہوسکتی ہیں، انہیں دھرنا استھل سے ہٹانے کی کوشش ہوسکتی ہے، ملک میں بدامنی اور بدانتظامی پھیلانے کے جرم میں گرفتار کیا جاسکتا ہے؛ حالانکہ سلسلہ شروع ہوچکا ہے، خبریں آرہی ہیں کہ یوگی آدتیہ ناتھ نے پیش قدمی کرتے 6پورے یوپی کسان آندولن کو ختم کرنے کا حکم جاری کردیا ہے، فورسز تیار ہیں، آہ- تیرے انجام پہ رونا آیا! سچ جانئے! اس وقت ملک بہت ہی نازک دور میں ہے، ملک کی ریڑھ کی ہڈی کہلانے اور سروں پر سجانے کا استحقاق رکھنے والی کسان قوم نشانے پر ہے، سرکاریں تو آئیں گی اور جائیں گی؛ لیکن اگر کسانوں کا مسئلہ درست نہ کیا، ان کی اہمیت کا خیال نہ رکھا گیا، ان کی محنت و جفاکشی کو سراہا نہ گیا تو ملک میں اَناج کی کمی، دانہ دانہ کی محتاجی، مہنگائی اور بے روزگاری کے ساتھ بدامنی کا تانڈو شروع ہوجائے گا، جو ملک کو کہیں دور تاریک راہ پر ڈال دے گا.*

*محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
28/01/2021

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے