نفلی صدقہ دے کر واپس لینا

*سوال وجواب*

مسئلہ نمبر 1329

(کتاب الزکاۃ، باب الصدقات)

*نفلی صدقہ دے کر واپس لینا*

سوال: کیا صدقہ نافلہ کے ذریعہ سے کسی کی مدد کرکے وہ رقم واپس لی جاسکتی ہے، نیز کچھ احباب نے ایک تنظیم بنائی ہے جس میں وہ سبھی احباب صدقہ نافلہ جمع کرتے ہیں پھر اسکے ذریعہ سے ایک شخص کو جو کہ مستحق ہے اسکو دیتے ہیں؛ تاکہ وہ اس کے ذریعہ سے کوئی کاروبار کرے پھر جب وہ دینے والا بن جائے تو وہ جو رقم ہے صدقہ کی وہ واپس لے لیتے ہیں کیا یہ رقم واپس لینا صحیح ہے؟

ایک دوسری صورت یہ ہے کہ اسکے ذریعہ سے کوئی میڈیکل کیمپ وغیرہ لگا تے ہیں جسمیں مستحقین بھی آتے ہے اور غیر مستحقین بھی کیمپ میں آتے ہیں کیا یہ صورت صحیح ہے؟

کیا صدقات واجبہ اور زکوٰۃ میں بھی ایسا کرسکتے ہیں؟ (عبید الرحمن، یوپی)

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*

الجواب بعون اللہ الوہاب

نفلی صدقہ دے کر واپس لینا یا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے، جس طرح ہدیہ دے کر واپس لینے کی شناعت احادیث مبارکہ میں ہے اسی طرح صدقہ دے کر واپس لینے کی بھی شناعت ہوگی، ہاں اگر کوئی شخص صاحب استطاعت ہونے کے بعد اپنی خوشی سے لوٹادے تاکہ دوسروں کا فائدہ ہو تو حرج نہیں ہے بلکہ بہتر ہے۔

نفلی صدقہ سے میدیکل کیمپ لگانا درست ہے، اور مستحق و غیر مستحق سب اس سے استفادہ کر سکتے۔ لیکن زکوٰۃ یا صدقات واجبہ کو اس مصرف میں استعمال نہیں کرسکتے ہیں، ان کا مصرف وہی ہے جو قرآن کریم میں مذکور ہے یعنی فقراء ومساکین کو دینا وغیرہ۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

*والدليل على ما قلنا *

عَنْ سَالِمٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَجَدَهُ يُبَاعُ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ، فَقَالَ : ” لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ ". فَبِذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَا يَتْرُكُ أَنْ يَبْتَاعَ شَيْئًا تَصَدَّقَ بِهِ إِلَّا جَعَلَهُ صَدَقَةً.(صحيح البخاري رقم الحديث 1489 | كِتَابٌ : الزَّكَاةُ | بَابٌ : هَلْ يَشْتَرِي الرَّجُلُ صَدَقَتَهُ)

إِنَّمَا ٱلصَّدَقَـٰتُ لِلۡفُقَرَاۤءِ وَٱلۡمَسَـٰكِینِ وَٱلۡعَـٰمِلِینَ عَلَیۡهَا وَٱلۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمۡ وَفِی ٱلرِّقَابِ وَٱلۡغَـٰرِمِینَ وَفِی سَبِیلِ ٱللَّهِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِیلِۖ فَرِیضَةࣰ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِیمٌ حَكِیمࣱ﴾ [التوبة ٦٠]

و….. كما هو المقرر في صدقة الفطر (الفقه ٤٩٤/٣ كتاب النذر)الاسلامي و ادلته للزحيلي

و مصارف الفدية و النذور المطلقة و الكفارات و الصدقات الواجبة: هي مصارف الزكاة. (الفقه الاسلامي و ادلته ١٧٥٤/٣ كتاب الصوم، المبحث الثامن، المطلب الثالث)

*كتبه العبد محمد زبير الندوي*
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مورخہ 1/4/1442
رابطہ 9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے