مسلمانوں کے خون کی لذت

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺(855)
*مسلمانوں کے خون کی لذت !!*

*١٣/ اگست ١٩١٣ کے الہلال میں اداریہ کے طور علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ کا ایک مضمون شائع ہوا تھا، جو کانپور کے ایک جان گسل حادثہ پر نثری مرثیہ خوانی کی حیثیت رکھتا ہے، مچھلی بازار میں لب سڑک ایک مسجد اور اس کے قریب ہی ایک مندر تھا، کانپور کی میونسپلٹی اس کے پاس سے ایک نئی سڑک نکالنا چاہتی تھی اور مندر کو بچانے میں مسجد کا وضوخانہ اس سڑک کی راہ میں حائل ہوتا تھا، مقامی حکام نے اس کو مسلمانوں کی مرضی کے خلابجبر منہدم کرادیا، اس واقعہ سے مسلمانان ہند میں غم و غصہ کی ایک عام لہر دوڑ گئی، اور پھر مولانا آزاد سبحانی کی سربراہی میں جوان، بوڑھے اور بچے احتجاج کرتے ہوئے وضو خانے کی گری ہوئی اینٹیں اٹھا، اٹھا کر منہدم دیوار پر چننے لگے، یہ دیکھ کر مسٹر بٹلر ڈپٹی کمشنر کانپور نے مسجد پر متعین فوج کو ان نہتے مسلمانوں پر حملہ کرنے کا حکم دیدیا، فوجی پولس کے سپاہیوں نے ان پر نہایت بے رحمی سے فائرنگ کی ،قریب سے برچھے بھی مارے، جن میں بہت سے مسلمان شہید ہوئے، لاشوں کی صحیح تعداد بھی معلوم نہ ہوسکی، شہیدوں اور زخمیوں میں ننھے منے بچے بھی شامل تھے، اس خونی واقعہ کو ذکر کرتے ہوئے علامہ نے مشہد اکبر کے عنوان سے لکھا تھا، جس نے بڑی شہرت پائی تھی، آپ بھی پڑھ لیجیے:*
*” زمین پیاسی ہے، اس کو خون چاہیے؛ لیکن کس کا؟ مسلمانوں کا! طرابلس کی سرزمین کس کے خون سے سیراب ہے؟ مسلمانوں کے. ایران پر کس کی لاشیں تڑپتی ہیں؟ مسلمانوں کی. سرزمین بلقان میں کس کا خون بہتا ہے؟ مسلمانوں کا. ہندوستان کی سرزمین بھی پیاسی ہے خون چاہتی ہے، کس کا؟ مسلمانوں کا. آخر کار سرزمین کانپور پر خون برسا اور ہندوستان کی خاک سیراب ہوئی-” ( علامہ سید سلیمان ندوی، شخصیت اور ادبی خدمات :٣٥٦)___ یہ پرجوش عبارت صرف الفاظ تک محدود نہیں ہے، ایسا بھی نہیں ہے کہ کانپور کے مشہد اکبر کے بعد مسلمانوں کا خون رک گیا ہو، نہیں بلکہ اس وقت مسلمانوں کے خون کی لذت ان بھیڑیوں کو لگ رہی تھی، ان کے جبڑوں کو مسلمانوں کے گوشت کا ذائقہ لگ رہا تھا، ان درندوں کو مسلمانوں کے سرخ رنگ کی بو لگ رہی تھی، وہ اس کے عادی ہوتے جارہے تھے، پھر وہ اس ذائقہ کو بار بار چکھنا چاہتے تھے، کانپور کا وہ واقعہ مشہد اکبر اگرچہ کہلایا؛ لیکن اس کے بعد نہ جانے کتنے مشہد اکبر کی فہرست میں کھڑے ہوئے، بلکہ کہنا تو یہ چاہیے کہ وہ مشہد اکبر کہیں پچھڑ گیا اور اس سے بڑھ کر مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہائی گئیں، سیلاب آیا اور سمندر امنڈ پڑا، جم جم برسا اور سرزمین ہند سیراب ہوتی رہی، مگر اس کی پیاس کبھی نہ بجھ سکی، چنانچہ کوئی صدی ایسی نہ گزری جس میں مسلمانوں کے خون سے سرزمین ہند نے اپنی پیاس نہ بجھائی ہو، اس کے حیوانوں نے مسلمانوں کے گوشت و پوست سے اپنی بھوک نہ مٹایی ہو، یہاں کے درندوں نے زور دستی کر کے درندگی کی حد پار نہ کی ہو__!!*
*یوں تو پوری دنیا مسلمانوں کے خون کی پیاسی ہے، جہاں بھی نظر دوڑائیں صاف طور پر دکھائی دے گا؛ کہ بس بازار مشہد میں صرف ایک رنگ غالب ہے، دیوانے بس ایک ہی رنگ کے دلدادہ ہیں، ہر جگہ بس ایک ہی طبقہ کے خون کی خوشبو ہے، اسی کا ذائقہ پایا جاتا ہے، مغرب سے مشرق ہو یا جنوب سے شمال ہو، کہاں نہیں ہے کہ مسلمانوں نے اپنی رگوں کا خون دشمنان اسلام کے سامنے نہ بہایا ہو اور ان کی پیاس بجھانے کے کام نہ آیا ہو، آج عراق میں کس کا خون بہہ رہا ہے، شام، سیریا، فلسطین، پاکستان، افغانستان یا کبھی کبھی یورپی ممالک میں بھی کس جسم کے خون سے سڑکیں سرخ کی جارہی ہیں، یقیناً مسلمانوں ہی کا خون ہے، جو کبھی بندوق کی گولیوں سے تو کبھی ایٹم بموں اور ڈرون حملوں سے مسلسل بہتا جارہا ہے، ہمارا ملک ہندوستان بھی اسی کا عادی ہے، تقسیم ہند کے وقت سب سے زیادہ کس کا خون بہا تھا؟ اور اس کی مملکت جمہوریت کے نام پر ہر دو سال، پانچ سال میں قتل عام کن لوگوں کا کیا جاتا ہے؟ صحیح بات تو یہی ہے کہ مسلمانوں کیلئے زمین کی ہر وادی لال رنگ چاہتی ہے، وہ شہادت کا خواہاں ضرور ہے، مگر مظلومیت کی موت بھی اسی کے نصیب میں لکھ دی گئی ہے، ابھی تازہ واقعہ دہلی کا ہے، سوچئے___! اکیسویں صدی میں دہلی جو ہندوستان کی راجدھانی ہے اس میں تین دنوں تک مسلم کشی ہوسکتی ہے، تو پھر ملک آخر کس منشاء پر گامزن ہے، کانپور واقعہ پر علامہ نے یہ بھی لکھا تھا، اور بہت خوب لکھا تھا کہ__” مسلم ہستی تو اب کہاں بسے گی؟ کہ تیرے لئے اب ہندوستان بھی امن کا گھر نہیں رہا، جس کو تو سب سے بڑی اسلامی حکومت کہتی تھی، وہ بھی تیرا خون مانگتی ہے، لیکن دشمنی سے نہیں محبت سے، وہ تیری محبت اور وفاداری کا امتحان لیتی ہے__*
سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی”…..
*”ہمالیہ تو دنیا کا سب سے بڑا پہاڑ ہے، تو تند و تیز ہوا کو روک لیتا ہے، تو پر غیظ وغضب بادل کو ٹھکرا کر پیچھے ہٹا دیتا ہے، کیا تو ہمارے شدائد و مصائب کا طوفان نہیں روک سکتا، کیا تو ہمارے خوف وغم کے بادل کو پیچھے نہیں ہٹا سکتا__” (علامہ سید سلیمان ندوی، شخصیت اور ادبی خدمات :٣٥٧) علامہ کی اس عبارت میں کتنی سچائی ہے، اب بھی وہ حرف بحرف صادق ہے، دوست بن کر دشمنی کی روداد اب بھی قائم ہے، جمہوریت کی بنیادیں مسلمانوں کے خون سے شرابور ہیں، ہر تاریخ پر انہی کے خون کے چھینٹے ہیں، ہر گلی، کوچے اور صوبے میں اسی کی مظلومیت کی کہانیاں ہیں __!!*

✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
17/03/2020

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے