محدّثات کا انسائیکلوپیڈیا؛ ایک تعارف ! "الوفا بأسماء النساء”

محمد مکرم بن معظم ندوی

دین اسلام میں خواتین کا مقام و مرتبہ بالکل واضح اور ظاہر ہے ، اسلامی حدود و قیود کی رعایت کرتے ہوئے انہیں ہر طرح کی علمی فکری اور دینی خدمات انجام دینے کی اجازت ہے ، تاریخ کا مطالعہ کرنے پر ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مردوں کی طرح خواتین نے بھی ہر صدی میں ہر محاذ پر علم وفن کی بزم سجائی ہے ، اور ان سے استفادہ اور نقل و روایت کرنے والے اصحابِ علم وفضل کی ایک بڑی کھیپ قرون اولی میں رہی ہے؛ لیکن اس کے برخلاف بہت سے مستشرقین اور مغربی مفکرین کا خیال ہے کہ خواتین پسماندہ اور علم و فن میں کوتاہ دست و کوتاہ بیں واقع ہوئی ہیں ، اور علمی سطح پر یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مردوں کی طرح عورتوں نے دین اسلام کی نشر و اشاعت اور اس کی تبلیغ و تجدید میں نمایاں کردار ادا نہیں کیا ، پھر طرفہ یہ کہ حدیث رسول سے اپنے اس خیال کی تائید کرنے لگتے ہیں ، جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک وعظ کے درمیان ان کو "ناقصات العقل والدين "سے تعبیر فرمایا ("ما رأيت من ناقصات عقل ودين أذهب لِلُبُّ الرجل الحازم من إحداكن ، قلن : وما نقصان ديننا وعقلنا يا رسول الله ؟ قال أوليس شهادة المرأة نصف شهادة الرجل ؟ قلن بلى ، قال فذلك من نقصان عقلها ، قال : أليس إذا حاضت لم تصلِّ ولم تصم ؟ قلن بلى ، قال فذلك من نقصان دينها . "دیکھیں : بخاری ، حدیث 304 )جس سے یہ سمجھا جانے لگا کہ خواتین اپنی عقلی و دینی نقص اور کمی کی وجہ سے علمی اور فکری خدمت اور اشاعت دین میں نمایاں کردار ادا کرنے میں فطری کوتاہ اور کمزور واقع ہوئیں ہیں ۔

اس حدیث میں اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعظ و نصیحت کا موقع تھا ، نہ کہ کوئی حکم اور قانون بیان کرنے کا موقع ؛ چنانچہ اسی حدیث کے شروع میں صحابیات کو صدقہ دینے کی ترغیب دی گئی ہے ۔ سياق هذا الحديث في خطاب النبي الكريم صلى الله عليه وسلم الذي قيل خلال عظة للنساء في يوم عيد ، وفي هذه المناسبة جاء إلى الناس وخصَّهن بالخطاب ، فعنى بالتحذير أنهن أكثر أهل النار ، وعلَّل ذالك ” تُكثِرن اللعن وتكفُرْن العشير ” ثم نصَحهن بالتصدُّق۔ثم قال "ما رأيت من ناقصات عقل ودين "، صياغة النص ليست صيغةَ تقرير قاعدة عامة أو حكم عام ، إنما هي أقرب إلى التعبير من تعجُّب رسول الله من التناقض القائم في ظاهرة تغلب النساء على الرجال ذوي حزم . ( دیکھیئے : سياق بعض الأحاديث حول المرأة مقاما ومقالا ، سمعية نازش ، 29)

پھر دوسری بات یہ کہ اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی فطری حالت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ عورتوں پر عقل کے مقابلے میں جذبات زیادہ غالب ہوتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ زندگی کے ایسے امور جہاں انسان کو فیصلہ لینے میں عقل کی ضروت اور اس کی راہنمائی پڑتی ہے عورت کے حوالے نہیں کیے گئے ؛ بل کہ ایسے بڑے امور مرد کے حوالے کیے گئے ہیں ؛ تاکہ وہ جذباتیت سے قطع نظر اللہ کی دی ہوئی عقل و خرد کی نعمت کو استعمال کرکے بروقت صحیح اور مناسب فیصلہ لے سکے ۔ ويحتمل بالتعبير النبوي "ناقصات عقل ودين "أن نقص عقل المرأة نقص في القدرات العقلية ، وقدرتها على التفكير أقل من قدرة الرجال ، فهي أقل منه وأنقص . ( مرجع سابق ، ص 29 ) خواتین اسلام کی علمی دلچسپی اور علم کی نسل در نسل منتقلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خواتین نے گھریلو مکانات ، باغات ، رباطات اور دیگر مساجد کے علاوہ مسجد اقصی ، مسجد حرام اور مسجد نبوی میں بھی اپنے علم وفن کی قندیلیں روشن کیں ، ان مقامات میں انہوں نے قرآن و حدیث کا کامیاب درس دیا ، بہت سے محدثین اور اصحاب علم وفن نے ان سے حدیث کی روایت کی ،مشہور محدث حافظ ابن عساکر کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے تقریباً 80 خواتین سے احادیث کی رویت کی ، حافظ ابو عمرو الازدی اور ابو الولید الطیالسی کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے 70 خواتین سے احادیث کی روایت کی ، علامہ سخاوی نے اپنی کتاب "الضوء اللامع لأهل القرن التاسع "میں ایک ہزار ستر خواتین کا تذکرہ کیا ہے ؛ جن مین بہت سی محدثات ، مفسرات ، اور فقیہات تھیں ۔ علم حدیث کی نشرو اشاعت اور اس کی تبلیغ و تجدید میں خواتین اسلام مردوں کے شانہ بہ شانہ نظر آتیں ہیں ، حدیث کی نقل و روایت میں ان کی احتیاط بینی تقوی شعاری ، ضبط و اتقان کی پاسداری مکرو فریب کذب بیانی اور دروغ گوئی سے کنارہ کشی و بے رخی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مردوں میں تو آپ کو ایسے حضرات ائمۂ جرح و تعدیل کے بیان کے مطابق ضعیف ، مجہول ، متروک ، کذاب اور دجال مل جائیں گے ؛ لیکن خواتین اسلام کا نام اس سلسلے میں بایں حیثیت ممتاز ہے کہ ائمہ جرح و تعدیل نے انہیں جرح و تعدیل کی کسوٹی پر پرکھا ، جانچا اور ان کو ہر زاویے سے آنکا ؛ لیکن علی الرغم انہیں کوئی ایسا نام نہ مل سکا جس پر کسی محدث نے ، یا امام نے جرح کی ہو ، اور اس پر کلام کیا ہو یا اس کی حدیثوں کو مشکوک اور متروک گردانا ہو ۔ فن جرح و تعدیل میں طاق علامہ ذہبی کی یہ شہادت ملاحظہ فرمائیں : "وما علمتُ في النساء من اتُّهمت ولا من تركوها” دیکھیے : (ميزان الاعتدال في نقد الرجال . ج 4 ص 604 ) خواتین اسلام کا یہ علم بیز ، روحانیت خیز ، زہد و تقوی سے لبریز کارواں جو کتاب و سنت کی قندیلیں روشن کرتا ہوا عہد بہ عہد ، خیر القرون سے لے کر اختلاف نوعیت کے ساتھ کر تاحال جاری و ساری ہے ، صدیوں سے اس بات کا مستحق تھا کہ کوئی محقق اسے اپنی تحقیق کا ذریعہ بنائے ، اور ان کی حدیثی اور روایتی کاموں کا تحلیل و تجزیہ کرے ، یہ عالمگیر و ہمہ جہت کام صدیوں سے کسی فرہاد کا منتظر تھا ، جو اگر ایک طرف علم و تحقیق کے صحرائے ناپید کنار کا راہی پرشوق ہی نہیں ؛ بل کہ مجنونِ حوصلہ بدوش ہو ، جس کے جسم میں شعلے کے طرح دماغ ، آئینے کے مانند صاف و شفاف اور سیماب کی طرح بے تاب دل ہو ، جس کے قلم میں دل کا درد ،نور کا سحر ، ایمان کی جانفشانی ہو ، جو وسعت علم ، کثرت مطالعہ اور دریائے علم وفن میں غواصی کے علاوہ سوز و سازِ دل اور تب و تابِ اخلاص سے پوری طرح منور ہو ، اور اس کا خمیر اسی سے اٹھا ہو اور بنا ہو ۔ ڈاکٹر مولانا محمد اکرم صاحب ندوی( ولادت 1964 ء ) پوری علمی دنیا کی طرف سے مبارکبادی اور تہنیت کے مستحق ہیں ، کہ جس قرض کا بار تمام علمی دنیا پر صدیوں سے تھا ، ڈاکٹر صاحب نے اس کام کو اپنے ذمے لیا اور پندرہ سالہ طویل جد و جہد ، عرق ریزی اور دور دراز شہروں کی خاک چھاننے کے بعد اس قرض کا تمام امت مسلمہ کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا ، یہ امر واقعی ہے کہ جو موسوعی کام اکیڈمیاں نہ کرسکیں ، وہ کام تنِ تنہا ملت اسلامیہ ہندیہ کے ایک فرد نے کر دکھایا ، جس پر وہ نہ صرف پوری ملت اسلامیہ ہندیہ کی طرف سے ؛ بل کہ پورے عالم اسلام اور بلاد اسلامیہ کی طرف سے مبارکبادی اور تہنیت کے بجا طور سے مستحق ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کی فراغت دارا العلوم ندوۃ العلماء سے 1980 ء میں ہوئی ، 1982ء میں حدیث سے تخصص کیا ، ان کی صلاحیت اور قابلیت کو دیکھے ہوئے ندوے ہی میں بطور استاذ تقر کر لیا گیا ، اسی درمیان "لکھنؤ یونیورسٹی ” سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کر لی ، 1990ء میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی ہدایت پر برطانیہ چلے گئے ، جہاں وہ "آکسفورڈ سینٹر اوف اسلامک اسٹڈیز "کے فیلو بن گئے ، چند برس کے بعد وہاں سے علیحدگی اختیار کرلی ، اب وہ "السلام انسٹی ٹیوٹ” کے پرنسپل اور "کیمرج اسلامک کالج "کے ڈین ہیں ۔ خواتین کی یہ علمی اور حدیثی روایات جو دنیائے اسلام کے مختلف کتب خانوں میں بھکری پڑی تھیں ، ڈاکٹر صاحب نے از خود ان مکتبات کی زیارت کی ، مخطوطات و مطبوعات کی دریافت کے لئے انہوں نے مصر ، ترکی ، دمشق ، برطانیہ ، جرمنی ، حجاز کے علاوہ دیگر بہت سے مغربی ممالک کا قصد کیا ، وہاں کے مشائخ اور اصحابِ علم سے استفادہ کیا ۔

اس عظیم الشان انسائیکلوپیڈیا کی تالیف کا خیال ڈاکٹر صاحب کی زبانی سنیئے ، وہ کہتے ہیں کہ 1995ء میں برطانیہ کے مشہور اخبار "ٹائمز "میں مسلم خواتین سے متعلق کئی ایسے مضامین چھپے ، جن میں اس بات پر خاصا زور دیا گیا تھا کہ مسلم خواتین انتہائی پس ماندہ ہیں ، اور ان کی پس ماندگی کی اصل وجہ اسلام ہے ، اسلام نے خواتین کو گھروں میں قید رکھا ہے ، اور حق تعلیم سے محروم کردیا ہے ، یہ مضامین کافی لمبے تھے ، ابتداء میں ارادہ تھا کہ احادیث کے طویل ذخیرہ میں بہت ساری خواتین کا تذکرہ آیا ہے ، اگر انہی کو جمع کر دیا جائے تو اس سے مسلم خواتین کی حوصلہ افزائی بھی ہو جائے گی اور "ٹائمز” میں چھپے مضامین کا جواب بھی ، میں اپنے کام میں لگا رہا ، پھر ایسا ہوا کہ 2005 ء یا 2006ء میں "ٹائمز "کے نامہ نگار نے خواتین سے متعلق میرا ایک انٹرویو لیا ، اور بہت ہی نمایاں انداز میں اس انٹرویو کو اپنے اخبار میں جگہ دی ، اس وقت تک اصل کتاب منظر عام پر نہیں آئی تھی ، صرف اس کا مبسوط مقدمہ چھپا تھا ، 2010 ء میں برطانیہ کے میرے ایک مستشرق دوست نے ایک دوسرے مستشرق کی ایک کتاب دکھائی ، جس میں بہت ڈھٹائی سے لکھا تھا ، کہ مسلمان اپنی پڑھی لکھی خواتین کے پانچ دس نام بھی پیش نہیں کرسکتے ، اگر وہ پیش کردیں ، تو ہم قائل ہو جائیں گے ؛ لیکن اب الحمد للّہ ان خواتین کی تعداد دس ہزار تک پہنچ چکی ہے ۔ اس کتاب کے مقدمے کا ڈاکٹر صاحب نے خود ہی انگریزی میں ترجمہ کیا ، جو al – muhaddithat : the women scholars in Islam کے نام سے Uk سے 2007 ء میں زیور طبع سے آراستہ ہوا ۔ ( انگریزی ترجمہ انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہے ۔ ) اسی وقت سے اس کتاب کی شہرت ہوچکی تھی ، اس کتاب کا غلغلہ اور زمزمہ پورے زور و شور سے بلاد عربیہ اور ہندوستان میں سنا گیا ۔

اس کتاب پر عالم عربی کے نامور محقق ، محدث اور یگانہ روزگار عالم دکتور یوسف القرضاوی اور بر صغیر کے مشہور صاحب نستعلیق ادیب ، جانشینِ مفکر اسلام ، ناظم ندوۃ العلماء ، حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم کے گرانقدر اور بیش قیمت مقدمات ہیں ۔

اس کتاب کی ضخامت اور اس کے کثیر مصارف کو دیکھتے ہوئے عالم عربیہ کا کوئی ناشر اس کتاب کی طباعت کے لئے تیار نہ تھا ، "دار المنہاج ” سعودیہ ، جدہ نے یہ ذمداری اپنے سر لی ، اور اسے متوسط تقطیع کی 43 جلدوں میں شائع کیا ۔ اس عظیم الشان انسائیکلوپیڈیا کی تالیف و ترتیب میں خواتین کے طبقات کی رعایت کی گئی ہے ، چنانچہ صحابیات میں سب سے پہلے ازواج النبی ، بنات النبی اور دیگر صحابیات کا تذکرہ کیا گیا ہے ، تابعیات کا تذکرہ کرنے کے بعد دوسری صدی ہجری کی محدثات خواتین کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے ، پھر تیسری صدی ہجری سے لے کر اکیسویں صدی ہجری تک کے تمام ان خواتین کا تذکرہ کیا گیا ہے ، جنہوں نے حدیث کی نقل و روایت ، اور اس کی تبلیغ و اشاعت میں کسی بھی طرح حصہ لیا ، عام طور سے کسی بھی خاتون کا تذکرہ کرنے میں اس کے نام و نسب ، سن ولادت و وفات ، اس کے اساتذہ و مشائخ ،علمی اسفار ، فیض یافتگان تلامذہ اور ان سے مروی روایات کی جملہ تفاصیل کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ ان تراجم میں بعض تراجم غیر معمولی اہمیت و افادیت کی حامل ہیں ، مثلاً پانچویں صدی ہجری کی کریمہ المروزیہ ، چھٹی صدی ہجری کی دو ممتاز خاتون شہدہ الإبریہ ، فاطمہ بنت سعد الخیر ، ساتویں صدی ہجری کی زینب بنت مکی ، آٹھویں صدی ہجری کی ست الوزراء ، فاطمہ البطحائیہ ، زینب بنت کمال ، نویں صدی ہجری کی عائشہ بنت ابن عبد الہادی ، مریم الاذرعیہ ، ام ہانی الہورینیہ ، یہ اور ان جیسی بہت سی خواتین سے متعلق بیش قیمت مواد ، معلومات افزا ، زود مغز حالات و اخبار اس طرح سطحِ آب پر آگئیں ہیں ، جو ان کی مختلف الجہات ، اور کثیر النوع حیات و خدمات پر روشنی ڈالتی ہیں ، اس طرح کے تراجم کسی باحث اور محقق کے مستقل تحلیل و تجزیہ کا مستحق ہے ۔

حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے ڈاکٹر صاحب کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں فرمایا : ڈاکٹر مولانا اکرم صاحب نے اتنا غیر معمولی کام انجام دیا ہے ، جس کی جتنی تعریف کی جائے اور قدر کی جائے ، قدر کی ضرورت ہے ، احادیث کی خدمت اور حدیث کے سلسلے میں بنیادی معلومات فراہم کرنا اور یہ دکھانا کہ احادیث کی خدمت صرف مردوں ہی نے نہیں ؛ بل کہ عورتوں نے بھی کی ہے ، جن کی تعداد دس ہزار کے قریب ہے ، ایک تعجب کی بات ہے ، ماشاءاللہ اکرم صاحب کی کتاب چھپ چکی ہے اور بہت جلد مارکیٹ میں آنے والی ہے ، اس پر ہم اہل ندوہ کو بھی مبارک باد دیتے ہیں کہ ان کے ایک ہونہار فرزند نے یہ کام کر دکھایا ۔

مشہور مصنف ، صحافی اور صدر شعبہ عربی دارا العلوم ندوۃ العلماء ، مولانا نذر الحفیظ ندوی ازہری دامت برکاتہم نے "ديوان الندويين "کی ورچوئل مذاکراتی برانچ "منبر الندويين العالمي للندوات العلمية "کی تیسری "zoom ” پر منعقد ہونے والے بین الاقوامی ویبینار ( مورخہ 15/ 02 / 2021 ) میں اپنے صدراتی خطاب میں ڈاکٹر اکرم صاحب کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کے والدین اور ان کی تعلیم و تربیت کے اہتمام و انتظام کا ذکر فرمایا اور ان کو اصل مبارک بادی کا مستحق بتایا ، مولانا نے فرمایا : کہ ڈاکٹر صاحب کے کام کی بنیاد تقویٰ اور حسن نیت پر ہے ، اسی جذبہ اخلاص سے انہوں نے "محدثات "کو اپنی تحقیق کاموضوع بنایا ، جس کے نتیجے میں اللہ نے ان کے کام میں برکت دی ،حضرت مولانا علی میاں ندوی نے یورپ کے ایک دورے میں فرمایا تھا "کہ جب تک یورپ میں تبدیلی نہیں آئے گی ، مشرق میں تبدیلی نہیں آئے گی” ، لہذا ہمیں یورپ میں تبدیلی پر بھی محنت کرنی چاہیے ، مستشرقین نے سب سے زیادہ "حدیث "کو اپنی بالیدہ فالیدہ اعتراضات اور شبہات کا نشانہ بنایا ہے ، ڈاکٹر اکرم صاحب کا یہ بڑا کارنامہ ہے اور اسے دوسروں تک پہنچانا ہماری ذمداری ہے ، ڈاکٹر اکرم صاحب کے اس کارنامے کے بعد ضرورت اس بات کی ہے کہ اس 43 جلدوں کی دوجلدوں میں تلخیص تیار کرنی چاہیے ، تاکہ یورپ میں اسلام کی طرف لوگوں کو دلی رغبت ہو اور "جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا "کا مصداق نہ ہو ۔

تالیفات و تصنیفات ایک نظر میں !

1- أصول الشاشي ، دراسة وتحقيق ( دار الغرب الإسلامي )

2 – بستان المحدثين ( دار الغرب الإسلامي )

3- شبلي النعماني ، علامة الهند الأديب والمؤرخ الناقد الأريب . ( دار القلم )

4- العلامة السيد سليمان الندوي أمير علماء الهند في عصره وشيخ الندويين .دار القلم )

5- أبو الحسن الندوي العالم المربي الداعية الحكيم .(دار القلم )

6- نفحات الهند واليمن بأسانيد الشيخ أبي الحسن . (مكتبة الإمام الشافعي ، رياض )

7- بغية المتابع لأسانيد العلامة الشريف محمد الرابع .

8 ۔ الفقه الإسلامي . 2 جلدیں (دار القلم )

9۔ الإمام أبو حنيفة ( اس کتاب کو "آکسفورڈ یونیورسٹی ” کے شعبہ دراسات اسلامیہ کے لئے تیار کیا تھا ، اصل کتاب انگریزی میں ہے )

10- أيام في بلاد الشام ( دمشق )

11- أيام زاهرة في مصر والقاهرة ( دار القلم دمشق )

12- رحلة الأندلس .( بيروت )

13- الذكر الجميل لأيام في القدس والخليل ( دار البشائر الإسلامية ، بيروت )

14- قرة العين برحلة الحج والحرمين الشريفين ( بہ قید طبع )

15 – من علمني ( دار الرشيد ، لكناؤ ، الهند )

16 – ندوے کا ایک دن ( ندوۃ العلماء کے زمانہ طالب علمی کے ایک دن کی روداد )

17- ارمغان حجاز ( 2003 ء میں سفر حجاز اور وہاں کے علماء سے روایت و اجازتِ حدیث اور ان کی بیش قیمت نصائح کا دلآویز تذکرہ )

18- سفر ہند ۔ اس کے علاوہ ان کے دسیوں مقالات ہیں جو اردو عربی اور انگریزی میں زیور طبع سے آراستہ ہوچکے ہیں ۔

نوٹ : ان کتابوں کی فہرست تیار کرنے میں ڈاکٹر صاحب کے عربی مقالے ( سيرتي الذاتية ) سے مدد لی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے