قسطیں وقت پر ادا نہ ہونے کی صورت میں مال اور پیسے دونوں ضبط کرنے کا حکم

*سوال وجواب*

مسئلہ نمبر 1349

(کتاب البیوع، باب البیع بالتقسیط)

*قسطیں وقت پر ادا نہ ہونے کی صورت میں مال اور پیسے دونوں ضبط کرنے کا حکم*

سوال: قسطوں پر خریدو فروخت کے بارے میں دو شرط مفتیان کرام نے بتائی تھی ایک یہ کہ پوری قیمت متعین ہو اور دوسرے یہ کہ قسطیں بھی مقرر ہوں تو اس طرح درست ہے، اب ان دو شرطوں کے علاوہ Thailand – myanmar میں تیسری شرط یہ بھی ہے کہ مقررہ وقت گزر جانے کے بعد تاخیر ہوگی تو قسطوں پر لی ہوئی چیز کے ساتھ ساتھ جتنے پیسے دیے چکے ہیں وہ سب لے جائیگا۔ قسطوں پر لی ہوئی چیز بھی واپس لے لی جائیگی اور جتنے پیسے ادا کئے وہ بھی واپس نہیں ملیں گے کیا اس طرح شرط رکھنا جائز ہے؟ (سائل رمضان علی ۔برما)

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*

*الجواب و باللہ التوفیق*

قسطوں پر خریداری کی صورت میں مذکورہ بالا دونوں شرائط اگر پائی جائیں تو شرعاً یہ خرید وفروخت درست ہے؛ البتہ اس میں یہ چیز بھی ہونی چاہیے کہ اگر بیچ میں بینک واسطہ بنتا ہے تو اگر وہ سود لیتا ہے تو یہ بھی ناجائز ہے؛ کیونکہ سود کی حرمت نص قرآنی سے ثابت ہے(١)۔

سوال ‌نامے میں جو صورت ذکر کی گئی ہے کہ وقت پر قسطیں ادا نہ کرنے کی صورت میں سامان بھی لے لیا جائے گا اور پیسے بھی واپس نہیں ملیں گے یہ صراحتاً ظلم و ناانصافی ہے اس لیے ایسا کرنا درست نہیں ہے۔انھیں چاہیے کہ اپنے حقیقی نقصان کا تاوان لے کر سامان واپس لے لیں اور قسطیں واپس کردیں یا مزید فرصت دے دیں ایک ایک صورت یہ بھی اختیار کی جاسکتی ہے کہ قسطیں ادا کرنے میں تاخیر کی صورت میں باقی قسطیں فوری واجب الادا بھی قرار دی جاسکتی ہیں(٢)۔

*والدليل على ما قلنا*

(١) وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَیۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰا۟ۚ فَمَن جَاۤءَهُۥ مَوۡعِظَةࣱ مِّن رَّبِّهِۦ فَٱنتَهَىٰ فَلَهُۥ مَا سَلَفَ وَأَمۡرُهُۥۤ إِلَى ٱللَّهِۖ وَمَنۡ عَادَ فَأُو۟لَـٰۤىِٕكَ أَصۡحَـٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِیهَا خَـٰلِدُونَ﴾ [البقرة ٢٧٥]

"عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اٰكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ»، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ»”.(3/1219، کتاب المساقات،دار احیاء التراث ، بیروت)

(٢) من باع سلعة بثمن على ان تعطيني كل يوم درهما أو كل يوم درهمين (منحة الخالق على البحر الرائق 280/5)

وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين فهو فاسد…. وهذا إذا افترقا على هذا وان كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم واتما العقد عليه فهو جائز (المبسوط للسرخسي 8-9/13)

وکون الأجل حقا للمشتري في البیع الموٴجل والمقسط مشروط بأن یلتزم بوفاء الأقساط في مواعیدہا، فیجوز الاشتراط في عقد البیع بالتقسیط أن المشتري إن لم یوف قسطا في موعدہ فإن الأقساط کلہا تصیر حالة واجبة الأداء فورا، قد صرح بہ الفقہاء الحنفیة فجاء في خلاصة الفتاوی: ولو قال کلما دخل نجم ولم یوٴد فالمال حال صح ویصیر المال حالا (فقہ البیوع ۱/۵۴۱)

أثر الوعد علی أن الواعد یجب علیہ أن یفي بوعدہ وإلا فإنہ یجبر الخسران الحقیقی الذی أصاب الموعود لہ بسبب الإخلاف (فقہ البیوع: ۲/۶۵۲)

*كتبه العبد محمد زبير الندوي*
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مورخہ 21/4/1442
رابطہ 9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے