قربانی فضائل و مسائل

از قلم: عاطف شبلی

قربانی سُنتِ ابراہیمؑی ہے ۔ صحابہ کرامؓ نے جب آنحضرت سے عرض کیا کہ قربانی کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارے باپ ابراہیمؑ کی سُنتِ ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی حضرت ابراہیمؑ کو اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا خواب دکھایا، تو خلیل اللہ ؑ نے سر تسلیم خم کر دیا۔

اللہ تعالیٰ کو سیدنا ابراہیمؑ کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ قیامت تک حضور کے صاحب ثروت اُمتیوں پر واجب ہو گیا کہ وہ عید الاضحی کے موقعہ پر قربانی پیش کر کے حضرت ابراہیمؑ کی سُنتِ کی یاد تازہ کریں ۔

قربانی اس چیز کا نام ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو ذبح سے ہو یا صدقے سے یعنی جو چیز انسان اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کیلئے خرچ کرتا ہے خواہ وہ کوئی شے ہو یا جانور ہو، قربانی ان اعمال میں سے ایک ہے جو بار گاہ خداوندی میں بے پناہ مقبولیت کی حامل ہے، حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ ”قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کو خون بہانے سے زیادہ کو ئی عمل محبوب نہیں ہے اور قیامت کے دن وہ جانور اپنے سینگوں اور کھروں سمیت آئیگا، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے قربانی کرتا ہے اور فقط اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتا ہے تو اس خلوص نیت کی بدولت اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے ۔

حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت ابو سعیدؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے قربانی کے دن حضرت فاطمہؓ سے فرمایا کی اے فاطمہؓ کھڑی ہو اپنی قربانی کے پاس کیونکہ اس کے خون کے پہلے قطرے کی وجہ سے تمہارے پچھلے گناہ معاف ہو جائینگے، حضرت فاطمہؓ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ کیا یہ فضیلت صرف ہمارے لیے (یعنی اہل بیعت ) کیلئے مخصوص ہے یا تمام مسلمانوں کیلئے تو آپ نے فرمایا کہ یہ فضیلت ہمارے لیے اور تمام مسلمانوں کیلئے ہے، جس طرح ہر شے کے دورخ ہوتے ہیں ایک ظاہری اور ایک حقیقی یا باطنی، جیسا کہ نماز ظاہری ہے جس سے حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی ذات مقصود ہے اسی طرح قربانی کرنا بھی ایک ظاہری عمل ہے جس کی حقیقت اخلاص اور تقویٰ ہے،  اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اس چیز کو وقعت ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ذبح کیے جانیوالے جانور وں کا خون اور گوشت نہیں پہنچتا بلکہ تمہاری نیت اور تقویٰ پہنچتا ہے۔ قربانی کا حکم ہر اس مسلمان کیلئے جاری ہوتا ہے جو غنی یعنی مالدار ہو اور اس کے پاس اتنا مال ہو کہ جس پر صدقہ و فطرا واجب نہ ہو۔ پہلی شرط یہ ہے کہ وہ مسلمان ہو (یعنی غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں) مقیم ہونا یعنی وہ مسافر نہ ہو (مسافر پر بھی قربانی واجب نہیں ہوتی) وہ شخص غلام نہ ہو بلکہ آزاد ہو (جو آزاد نہ ہو اس پر قربانی واجب نہیں خواہ وہ مرد ہو یا عورت) حدیث مبارکہ ہے حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلعم نے فرمایا کہ ”جس میں طاقت ہو اور وہ قربانی نہ کرے وہ ہمارے مصلے کے پاس نہ آئے۔“

کسی کی جانب سےبھی قربانی کرنا جائز ہے، دنیا سے وصال شدہ کی وصیت نہیں تو ایک حصہ  ان کی طرف سے کرنا کافی ہوگا، حضور صلعم جب قربانی فرماتے تو امت کی طرف سے ایک جانور ذبح فرماتے تھے ،حضور کا اس دنیا فانی سے پردہ فرمانے کے بعد حضرت علیؓ آپ کی طرف سے ایک دُنبے کی قربانی دیا کرتے تھے، حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نے فرمایا کہ علیؓ! قربانی کے جانور کی ہر چیز تقسیم کر دو۔

سب سے اہم مسئلہ قربانی کے جانورکا گوشت تقسیم کرنا ہوتا ہے، حدیث مبارکہ میں ہے کہ جس کا خاندان بڑا ہے اور قربانی کے جانور کا گوشت صرف ان کیلئے ہی بڑی مشکل سے کافی ہو سکتا ہے تو وہ پورا گوشت اپنے استعمال میں لا سکتا ہے لیکن آپ کی دوسری حدیث مبارکہ بھی ہے جس میں فرمایا کہ اگر تم اپنے گھر میں گوشت پکاؤ  تو اسکی خوشبو  پر کنٹرول کرو کہ وہ ہمسایہ کے گھر میں نہ جانے پاۓ اگر تم ایسا نہیں کر سکتے تو اس سالن میں سے تھوڑا سالن ہمسایہ  کے گھر بھی بھیج دیں تاکہ انکے دلوں میں کوئی خیال نہ آۓ،قربانی کا گوشت تم تین دن تک استعمال کر سکتے ہو مگر بعد میں آنحضرت نے اسکی عام اجازت دیدی کہ تم جب تک اس کو رکھ سکو استعمال کر سکتے ہو۔

بھیڑ دُنبہ و غیرہ کے تین حصے کئے جاتے ہیں، ایک اپنیےلئے، ایک اعزہ و اقارب کیلئے اور ایک غریب و مساکین میں تقسیم کرنیےکیلئے، اگر گائے یا بھینس یا اونٹ ہو تو ان کے سات حصے برابر کئےجانے چاہئیے تاکہ ہرحصہ دار کوبرابری کے ساتھ مل سکے، اگربرابری کے ساتھ گوشت تقسیم نہ کیا گیا تو یہ درست نہ ہوگا،ہر ایک کو برابر ناپ کر گوشت دیا جانا چاہیے، اس کے بعد ہر حصہ دار  اپنے حصہ میں سے تین حصہ کریگا اور ان میں ایک اپنے لئیے،ایک عزیز و اقارب کے لیے اور ایک غربا ومساکین  کیلئے، مگر ہوتا کیا ہےکہ لوگ اچھا اور بغیر ہڈی چربی کا گوشت گھر میں رکھ لیتےہیں اس  کے بعد جو بچتا ہے وہ چند لوگوں میں تقسیم کر دیتے ہیں جو  کہ بالکل ہی غیر مناسب عمل ہے،اس طرح قربانی کا جو اصل مقصدہے وہ فوت ہو جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے