قبر پر فاتحہ خوانی و میت کے سننے کا مسئلہ

*⚖سوال و جواب⚖*

*مسئلہ نمبر 1090*

(کتاب العقائد باب العلم)

*قبر پر فاتحہ خوانی و میت کے سننے کا مسئلہ*

*سوال:* میت کے اہل خانہ جو اس کی ترقی درجات کے لئے صدقہ خیرات وایصال ثواب کرتے ھیں یا اس کی قبر پر فاتحہ پڑھنے جاتے ھیں کیا میت کو یہ سب معلوم پڑتا ھے؟ (ایک دینی بھائی بہرائچ یوپی)

*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*

*الجواب وباللہ التوفیق*

انبیاء کرام علیہم السلام کے بارے میں تو حیات وسماع کا ثبوت جمہور امّت کا اجماعی عقیدہ ہے؛ جبکہ عام اموات کے بارے میں سماع کا مسئلہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے زمانہ سے اختلافی چلا آرہا ہے، دونوں طرح کے اقوال ثابت ہیں اس لیئے اس مسئلہ میں دوٹوک کوئی بات کہنا مشکل ہے کہ مردے سلام و کلام اور تلاوت قرآن مجید وغیرہ سنتے ہیں، دلائل کے ضمن میں وہ آیات واحادیث نقل کی جاتی ہیں جن سے انبیاء کرام و شہداء عظام کے سماع کا حکم معلوم ہوتا ہے البتہ سننے و دیکھنے کے علاوہ جہاں تک تعلق ہے صرف معلوم پڑنے کا تو وہ ضرور معلوم پڑتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے غیبی نظام کے ذریعے بندے کو اس کی اطلاع کردیتے ہیں کہ فلاں بندے نے ایصالِ ثواب کیا ہے جس کی وجہ سے تمہارے مقام میں اضافہ کردیا گیا(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

*📚والدليل على ما قلنا📚*

(١) وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ. (البقرۃ :154)

وهي فوق حياة الشهداء بكثير وحياة نبينا صلى الله عليه وسلم أكمل وأتم من حياة سائرهم عليهم السلام ••• إن تلك الحياة في القبر وإن كانت يترتب عليها بعض ما يترتب على الحياة في الدنيا المعروفة لنا من الصلاة والأذان والإقامة ورد السلام المسموع ونحو ذلك إلا أنها لا يترتب عليها كل ما يمكن أن يترتب على تلك الحياة المعروفة• (روح المعانی: ج 22 ص 38 تحت قولہ تعالیٰ: ما کان محمد ابا احد من رجالکم)

والذی نعتقد ان رتبۃ نبیناصلی اللہ علیہ وسلم اعلی مراتب المخلوقین علی الاطلاق وانہ صلی اللہ علیہ وسلم حی فی قبرہ حیٰوۃ مستقرۃ ابلغ من حیٰوۃ الشھداء المنصوص علیھا فی التنزیل اذ ھو افضل منھم بلا ریب وانہ صلی اللہ علیہ وسلم یسمع من یسلم علیہ۔ (اتحاف النبلا ء : ص: 415)

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَىَّ إِلاَّ رَدَّ اللَّهُ عَلَىَّ رُوحِى حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ
(سنن ابی داؤد: ج1ص286 کتاب المناسک باب زیارۃ القبور)

*كتبه العبد محمد زبير الندوي*
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مورخہ 18/7/1441
رابطہ 9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے