عیسائی قبرستان میں صلیب نما پتھر لگاکر مزدوری کا حکم

*سوال وجواب*

مسئلہ نمبر 1326

(کتاب الحظر و الاباحہ باب المتفرقات)

*عیسائی قبرستان میں صلیب نما پتھر لگاکر مزدوری کا حکم*

سوال: بعض مسلمان نوکر عیسائی قبرستان میں کام کرتے ہیں تو انہیں تدفین کے وقت صلیب اٹھا کر دینا پڑتا ہے یا صلیب بنے ہوئے پتھر گاڑنے پڑتے ہیں تو کیا ان کا ایسا کرنا درست ہے؟ (بندۂ خدا، کینیڈا)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق

مسلم مزدور جو عیسائیوں کے قبرستان میں ملازم ہیں اور وہاں کام کرتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ یہ ان سے یا ان کے مذہب سے متاثر ہونے کا سبب نہ بنے، اسی طرح عیسائیوں کی تدفین کے موقع پر ان کی قبر پر صلیب نما پتھروں کو لگانے میں بھی حرج نہیں ہے کیوں کہ اس سے مقصود عبادت صلیب کی تعظیم نہیں بلکہ یہ ان کے ایک رسم کی ادائیگی ہے، فی نفسہ بحیثیت مزدور لگانے میں حرج نہیں ہے جب تک کہ اس کی تعظیم نہ پائی جائے جیسے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فی نفسہ شراب پہنچانے یا خنزیر منتقل کرنے کی اجازت دی جب تک کہ آدمی ڈائریکٹ ان کے استعمال کا ذریعہ نہ بنے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

*والدليل على ما قلنا *

لو آجره دابة لينقل عليها الخمر أو آجره نفسه ليرعى الخنازير يطيب له الأجر عنده،و عندهما يكره (رد المحتار على الدر المختار ٥٦٢/٩ كتاب الحظر و الإباحة زكريا)

الأجرة إنما تكون في مقابلة العمل. (رد المحتار على الدر المختار ٣٠٧/٤ كتاب النكاح باب المهر زكريا)

إنما تحصل المعصية بفعل فاعل مختار. (رد المحتار على الدر المختار ٥٦/٩ كتاب الحظر و الإباحة زكريا)

*كتبه العبد محمد زبير الندوي*
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مورخہ 27/3/1442
رابطہ 9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے