عمل و دعا کی قبولیت پر اگر یقین ہو جائے

از: محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ *آج* ہماری عملی زندگی کی ایک سب سے بڑی کمی اور نقص یہ کہ ہم یقین محکم اور عمل پیہم کی حقیقی دولت سے محروم ہیں، ہم عمل و دعا میں مشغول تو رہتے ہیں لیکن ہمارا یہ عمل اور ہماری یہ دعا ایمان و یقین کی دولت سے عموما خالی اور محروم ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری دعا بارگاہ ایزدی میں قبول نہیں ہوتی ہے ۔ اگر انسان کو یہ یقین ہوجائے کہ اللہ تعالی اخلاص والا عمل اور خلوصیت سے مانگی دعا کو ضرور قبول کرتا ہے ( اگر چہ مصلحتا اور حکمتا کبھی اللہ تعالی بندہ کی دعا کو تاخیر سے قبول کرتا ہے یا جو مانگتا ہے اس کے علاوہ دوسری دولت اور نعمت سے سرفراز کر دیتا ہے) تو بندہ کبھی محروم اور شاکی نہ رہے گا اور اس کی دعا ضرور قبول ہوگی شرط ہے کہ اس درجہ کا ایمان اور اس کیفیت اور درجہ کا خلوص بندے کے اندر ہو ۔ آئیے اس سلسلہ کا ایک واقعہ اور اس سے حاصل سبق و نصیحت ہم اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں ۔ *ڈاکٹر عابد علی خاں* صاحب کراچی یونیورسٹی کے شعبئہ فارسی کے پروفیسر تھے،ان کا اصل تعلق مراد آباد سے تھا ۔ ڈاکٹر صاحب بڑی خوبیوں اور کمالات کے مالک تھے بچپن کے زمانے ہی سے بزرگی کے آثار ان کی پیشانی سے ظاہر ہوتے تھے ،بزرگوں کی اولاد ہیں اور خود بزرگ ہیں، اور بزرگوں کی صحبت سے مستفیض ہوئے ۔

انہوں نے اپنا واقعہ بیان فرمایا ہے کہ ۰۰ میں ۱۹۳۶ء چشمہ لگاتا تھا ،میں نے ہر فرض نماز کے بعد گیارہ بار * یا نور* پھر تین بار ۰۰ فکشفنا عنک غطاءک فبصرک الیوم حدید ۔۔ ( پھر ہم نے تیرا پردہ ہٹا دیا چنانچہ آج تیری بینائ تیز ہے ) پڑھ کر دونوں ہاتھوں کی پہلی انگلیوں پر پھیرنا شروع کر دیا تو کچھ عرصہ بعد میرا چشمہ چھوٹ گیا ۰۰ ۔
ڈاکٹر صاحب کی عمر اس وقت 1996ء میں ۸۰ سال کے قریب ہے اور چشمہ کے بغیر اخبار و دیگر کتب پڑھ لیتے ہیں ۔
( غالبا ۲۰۱۳ء میں ڈاکٹر عابد علی خاں صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور اب وہ رحمة الله علیہ کے زمرے اور شمار میں داخل ہوچکے ہیں)
یہ حقیقت ہے کہ آدمی اگر صدق دل سے کوئ عمل کرے تو اس کو اس کا ضرور بالضرور فائدہ ہوگا ،اسی طرح کے اور بھی واقعات ہیں کہ پابندی کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرنے مسواک کے استعمال اور مخصوص آیات کا درد رکھنے سے آنکھ کی بینائ قائم اور باقی رہتی ہے اور چشمہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ ( انسانی عظمت کے تابندہ نقوش صفحہ ۱۹۳ بحوالہ/ کچھ یادیں کچھ باتیں )
اوپر کا یہ واقعہ مثبت اور دینی و شرعی طرز عمل ہے بندے کو خدا کی ذات پر بھر پور یقین و ایمان اور اعتماد و بھروسہ ہونا چاہیے اور یہ امید رکھنی چاہیے کہ مسلسل یقین کے جذبہ کے ساتھ اور صدق دل کے دعا کرنے سے اللہ تعالی بندے کی حاجت کو ضرور سنتا ہے اور اس کی دعا کو قبول بھی کرتا ہے ۔
دعا سے مراد اپنے ظاہر و باطن کو رضائے الٰہی کے تابع کرنا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے قرآن مجید کا آغاز بھی دعا سے کیا ہے ۔ سورہ فاتحہ جہاں خلاصہ قرآن اور مقدمئہ قرآن ہے وہیں اس سورہ میں سب سے جامع دعا بندے کو سکھایا گیا ہے ۔ دعا کا مقصد روحانی اور قلبی مسرتوں کا حصول اور اس تڑپ کی تسکین ہے، جو انسانی ضمیر میں بدرجہ غایت پوشیدہ ہے، کہ اس وسیع و عریض کائنات میں کوئی ہماری پکار کو سنے،ہماری حاجتوں کو سنے اور ہماری دعاؤں کو قبول کرے ۔ اللہ ہی وہ ذات اور ہستی ہے جو بندوں کی دعاؤں کو سنتا اور قبول کرتا ہے بلکہ وہ بندوں کے مانگنے پر بے انتہا خوش ہوتا ہے ۔
اس دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی شریک حیات دادی حوا علیھا السلام نے اپنی زندگی کا آغاز دعا ہی سے کیا تھا جس کا ذکر اللہ تعالی نے قرآن مجید میں کیا ہے ۔ قالا ربنا ظلمنا انفسنا و ان لم تغفر لنا و ترحمنا لنکونن من الخاسرین (اعراف ۲۳)
دونوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اور اگر تو نے ہم کو نہیں بخشا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم یقینا نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے ۔
دعا کے سلسلے کو تمام انبیاء کرام نے جاری رکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کی جامعیت کا ایک حصہ دعا بھی ہے ،آپ نے اس امت کو خدا سے ربط وتعلق اور سرگوشی کے لئے جامع دعاؤں کا تحفہ دیا، تاکہ بندہ ان دعاؤں کے ذریعہ سے اپنے رب کو پکارے اور خاص طور پر مشکل حالات اور کٹھن گھڑی میں ان دعاؤں کے ذریعہ سے خدا سے مدد اور نصرت طلب کرے ۔
بقول *علامہ اقبال مرحوم *دعا* کی بدولت ہماری شخصیت کا چھوٹا سا جزیرہ اپنے آپ کو بحر بیکراں میں پاتا ہے ۔ دعا مانگنا فطری تقاضا ہے،فطرت کا عمیق مطالعہ بھی دعا ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ جب کوئی شخص صدق دل اور عجز و نیاز سے دعا کرتا ہے تو یہ توفیق دعا اور رقت قلب خود خدا کی طرف سے ہوتی ہے ۔ دعا کے ذریعہ بندے کا رشتہ اپنے مولی سے قائم ہوتا ہے ۔ مولانا روم فرماتے ہیں کہ : دعا کے متعلق علت و معلول کا یہ قانون نہیں کہ دعا ہوگی تو پھر خدا سنے گا، بلکہ یوں سمجھنا چاہیے کہ خدا نے اس کا میلان قلب دیکھا تو اس کو دعا کی توفیق ہوئ۔ یہاں سبب اور اثر کا قانون معکوس ہے یعنی اثر پہلے ہے اور دعا بعد میں یا یوں کہیئے کہ بیک وقت سبب اور اثر ہمکنار ہیں اور ان میں کوئ زبانی تقدم و تاخر نہیں ۔ (مستفاد روز نامہ انقلاب جمعہ ایڈشن ۱۰/ جنوری۲۰ ۲۰ء )
دکھ اور مصیبت میں مشکل اور کھٹن حالات میں دعا انسان کو تسکین دیتی ہے اور خدا سے تعلق پیدا کرنے اور اسی کی طرف رجوع کرنے کا ذریعہ بنتی ہے ۔
اس وقت ہم مسلمان پوری دنیا میں اور خاص طور پر ہندوستان میں جن نازک اور مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، باطل طاقتوں کا جس طرح ہم سامنا کر رہے ہیں، ضرورت ہے کہ ہم مسلمان ظاہری تدبیر بھی کرتے رہیں ،قانونی طور پر اپنے حقوق کی لڑائی بھی لڑیں، تو وہیں دوسری طرف پوری توجہ کے ساتھ ہم رجوع الی اللہ ہوں۔ دعاؤں کا کثرت سے اہتمام کریں ۔ اپنے نیک اعمال کا واسطہ دے کر خدا سے مانگیں، انفرادی دعا کا اہتمام اور اجتماعی دعا کا بھی اہتمام کریں اور یہ یقین رکھیں کہ اللہ تعالی ان حالات کو ضرور بدلیں گے اور ایمان والوں کو سرخ رو کریں گے ۔ چونکہ اجتماعیت مذھب اسلام کی روح ہے ،اس نے اس پر بہت زور دیا ہے، اس لیے ایسے حالات میں اجتماعی دعا کا بھی ہم کثرت سے اہتمام کریں بعید نہیں اجتماعی دعا کی تاثیر انفرادی دعا سے زیادہ سامنے آئے ۔

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے