صدقۃ الفطر

*سوال و جواب*

*مسئلہ نمبر 1145*

(کتاب الزکاۃ باب الفطرۃ)

*سوال:* اگر کوئی صدقہ فطر میں گندم، جو، کجهور، کشمش کے علاوہ کوئی چیز دینا چاہے مثلا (دیسی انڈا) دینا چاہے تو اس میں قیمت کا اعتبار ہوتا ہے؟ آیا کتب میں ان چاروں کا علاوہ نمک کا ذکر بھی ہے؟(شیخ عدنان بلوچستا ایران)

*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*

*الجواب وباللہ التوفیق*

صدقہِ فطر ہر روزہ دار کے لیے نکالنا ضروری ہے، شریعت اسلامی نے اس سلسلے میں مختلف طبقات کی رعایت کرتے ہوئے گیہوں جو کھجور اور کشمش میں سے کسی ایک یا ان کی قیمت کا صدقہِ فطر نکالنے کی تاکید کی ہے، قیمت کے بجائے اتنی قیمت کا سامان یا کھانے پینے کی اشیاء بھی دینے کی گنجائش ہے چنانچہ صورت مسئولہ میں انڈے بطورِ صدقہ فطر دینے میں حرج نہیں ہے نمک والی بات احقر کو کسی روایت میں نہیں ملی، ہاں فقہاء کرام نے اس کا ذکر کیا ہے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

*والدليل على ما قلنا*

(١) عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ : صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ. قَالَ : فَعَدَلَ النَّاسُ إِلَى نِصْفِ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ (سنن الترمذی رقم الحدیث ٦٧٥ أَبْوَابُ الزَّكَاةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. | بَابٌ : مَا جَاءَ فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ)

"وما لم ينص عليه كذرة وخبز يعتبر فيه القيمة” (الدر المختار وحاشية ابن عابدين 2/ 364)

و أدنى ما يطعم الرجل أهله الخبز و الملح. (المبسوط 16/7)

*كتبه العبد محمد زبير الندوي*

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 14/9/1441

رابطہ 9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے