صحت و مرض اور اسلامی ہدایات

*محمد قمر الزماں ندوی*
*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*اس* دنیا میں خدا تعالٰی کی طرف سے انسان کو جو نعمتیں ملی ہیں، ان میں صحت و تندرستی ایک بڑی نعمت اور عظیم انعام ہے۔ عقل و فطرت کا تقاضا ہے کہ اس پر اللہ کا شکر ادا کیا جائے، ،اس کی حفاظت اور نگہداشت کی جائے اور اسے ضائع نہ ہونے دیا جائے ۔ اسلام نے اس پر بہت زور دیا ہے ۔اسلام پوری انسانیت کو ایک اعلی نصب العین اور پاکیزہ مقصد حیات عطا کرتا ہے ۔ اس کے نزدیک انسان کی ساری قوت اور توانائ کو اسی نصب العین کی راہ میں صرف ہونا چاہیے ۔ ادنی یا کسی غلط اور باطل نصب العین کے لئے اسے لگا دینا اپنے آپ کو ہلاکت و تباہی سے ہم کنار کرنا ہے ۔
ہر انسان کو صحت عزیز ہے وہ تندرست و توانا رہنا چاہتا ہے لیکن مختلف قسم کے امراض و عوارض اس کی خواہش کو پورا ہونے نہیں دیتے ،جب سے انسان اس زمین پر آباد ہے صحت و مرض کی کشمکش سے دو چار ہے ،وہ اس سے نجات پانے کے لئے حفظان صحت کے اصول و آداب اور امراض سے تحفظ کی تدابیر اور ان کا علاج دریافت کرنے کی مسلسل سعی و کوشش کرتا چلا آرہا ہے ۔ یہ سلسلہ شاید کبھی بند نہیں ہوا اور اب تک جاری ہے ۔اور ائندہ بھی امید و توقع ہے کہ اس میدان میں نئے نئے تجربات اور نئ نئ تحقیقات سامنے آتی رہیں گی ۔ صحت و مرض کے مسائل نے مختلف تہذیبی و تمدنی اسباب کی بنا پر آج عالمی اہمیت اختیار کرلی ہے اور یہ وقت کا سب سے نازک اور حساس مسئلہ بن گیا ۔
اللہ تعانی نے ہر بیماری کے لئے دوا بھی پیدا کر دیا ہے لیکن تمام تر طب و میڈیکل کی ترقی کے باوجود انسان کی کوشش اور تحیق و جستجو محدود ہے، آج کتنی ہی بیماریاں ہیں، جو لا علاج ہیں اور ڈاکٹر اس بیماری کو لا علاج قرار دے رہے ہیں ۔ کرونا وائرس بھی ایک ایسی بیماری بن کر آئ ہے جس کا کوئ صحیح علاج ابھی نکل نہیں پایا ہے ۔ اس وبائ بیماری نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ جن قوموں کو اپنی ترقی اور ٹکنالوجی پر غرور ہے اور انہوں نے عقل کو خدا سمجھ رکھا ہے وہ بھی اس مرض اور وائرس کے علاج کے سلسلے میں اپنی بے بسی اور عاجزی کا اظہار کر رہے ہیں ۔
صحت و مرض اور بیماری و تندرسی کے سلسلہ میں اسلام کی تعلیمات کیا ہیں؟ اور اس بارے میں وہ کیا ہدایات اور گائد لائن دیتا ہے آئیے اس سلسلہ میں ہم ان کو پڑھیں اور اس کے مطابق عمل کریں ۔
صحت و تندرستی کے لئے اسلام نے جن متعین باتوں پر زور دیا ہے ان میں سب سے زیادہ صفائی کی اہمیت و افادیت ہے ۔ اسلام پاکی اور صفائ کا وہ اعلی تصور اور پاکیزہ نظام پیش کرتا ہے جس کی مثال اور نظیر کسی بھی تہذیب اور مذہب میں موجود نہیں ہے اسلام نے صفائ کو نصف ایمان یا ایمان کا بنیادی حصہ قرار دیا ہے تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے، اسلام کے نظام طہارت و نظافت کے لئے تو ہزاروں صفحات ناکافی ہوں گے ۔
صحت کے ساتھ اس دنیا میں بہت سے عوارض اور بیماریاں بھی ہیں لیکن اللہ تعالٰی نے انسان کے جسم میں غیر معمولی قوت مدافعت رکھی ہے ،جو اس کی صحت پر اثر انداز ہونے والے عوارض کا از خود مقابلہ کرتی رہتی ہے داخلی و خارجی حملوں کا دفاع کرتی ہے ۔ لیکن بعض بیماریاں اس قدر سنگین ہوتی ہیں کہ اس کے اندر سے دفاع کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے، اس موقع پر پھر علاج و معالجہ اور دوا کی ضرورت پڑتی ہے ۔ اسی لئے اللہ تعالٰی نے مرمرض کا علاج بھی پیدا کر دیا ہے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے جو بیماری بھی اتاری ہے اس کے لئے شفا بھی اتاری ہے ۔( بخاری ) ایک دوسری حدیث میں ہے ہر مرض کی دوا ہے جب دوا لگ جاتی ہے تو اللہ کے حکم سے صحت ہوجاتی ہے ۔ حضرت ذکوان انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مریض کی جسے زخم تھا عیادت کے لئے گئے آپ نے اس کے لوگوں سے فرمایا کہ فلاں قبیلہ کے طبیب کو بلاو وہ آیا تو اس نے آپ سے سوال کیا کہ کیا دوا سے بھی کوئ فائدہ ہوتا ہے آپ نے فرمایا سبحان اللہ! اللہ نے زمین میں کوئ مرض نہیں اتارا مگر یہ کہ اس کے لئے شفا بھی رکھی ہے ۔
ان احادیث سے پتہ چلا کہ دنیا میں ہر مرض کا علاج ہے لیکن ابھی بہت سے مرض کے علاج تک ہماری رسائ نہیں ہوسکی ہے ۔ دوسری اہم ہدایت ان احادیث سے یہ ملتی ہے کہ دواؤں کی تلاش و جستجو یہ فرض کفایہ ہے صحیح علاج کی کوشش اور دواؤں کی تلاش و جستجو اور تحقیق و معلومات انسان پر ضروری ہے ۔
علامہ ابن قیم رح فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد *لکل داء دواء* ہر بیماری کی دوا ہے مریض اور طبیب دونوں کے لئے تقویت کا باعث ہے ۔ اس میں علاج کی ترغیب بھی ہے ۔ اگر مریض کو یہ محسوس ہو کہ اس کا مرض لا علاج نہیں ہے بلکہ اس کا علاج ممکن ہے تو اس کا دل امید سے بھر جائے گا اور مایوسی ختم ہوگی۔ اس سے وہ اپنے اندر نفسیاتی طور پر مرض پر غالب انے والی توانائ محسوس کرے گا ۔اسی طرح جب ڈاکٹر اور طبیب کو معلوم ہوگا کہ ہر بیماری کی اللہ تعالٰی نے دوا رکھی ہے تو تلاش و جستجو اس کے لئے ممکن ہوگی ۔ ( الطب النبوی علامہ ابن قیم رح ) دنیا میں صرف بڑھاپا اور موت لاعلاج ہے باقی ہر بیماری کا علاج موجود ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اللہ کے بندے علاج کراو اس لئے کہ اللہ عزوجل نے موت اور بڑھاپے کے سوا جو بیماری بھی اتاری ہے اس کے کئے شفا بھی رکھی ہے ۔
یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ صحت و تندرستی کے لئے دوا سے زیادہ احتیاط کی اہمیت ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوا اگر اللہ کے حکم و مرضی سے مرض کا ازالہ کرتی ہے تو احتیاط ،مرض سے محفوظ رہنے کی ایک موثر تدبیر ہے ۔ بہت سی بیماریان محض بے احتیاطی سے پیدا ہوتی ہیں ۔
کیا امراض متعدی ہوتے ہیں؟ اس حوالے سے اسلام کی تعلیمات کیا ہیں؟ آئیے اس حوالے سے بھی کچھ گفتگو ہوجائے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ *لا عدوی* بیماری کا متعدی ہونا کوئ چیز نہیں ہے ۔ اس حدیث سے اکثر لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ امراض متعدی نہیں ہوتے ان کے متعدی ہونے کا تصور غیر اسلامی ہے ۔ لیکن یہ استدلال درست نہیں ہے اس میں درحقیقت مرض کے چھوت چھات کے جاہلانہ تصور کی تردید ہے ۔ یہ دنیا اسباب و علل کی دنیا ہے ۔ اس لئے اس بات کا انکار نہیں کہ یہاں ہر واقعہ کا کوئ نہ کوئ ضرور سبب ہو ۔ بعض امراض میں اللہ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ ان کے جراثیم تیزی سے پھیلتے ہیں اور جو جاندار بھی زد میں آتا ہے اس پر حملہ آور ہو جاتے ہیں ۔ اسی طرح کے مرض میں کوئ شخص جب مبتلا ہوجاتا ہے تو اس کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور ملنے جلنے والوں کو بھی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ۔ احتیاط نہ ہو تو وہ بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں ۔ لیکن یہ انسان کی نادانی ہے کہ وہ مادی سبب ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے اور اس حقیقت کو بھول جاتا ہے کہ اسباب اور ان کے نتائج دونوں خدا کی مرضی کے پابند ہیں وہ نہ چاہے تو کچھ نہیں ہو سکتا ۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بیماری فی نفسہ متعدی نہیں ہوتی بلکہ وہ اگر کسی کو لگتی ہے تو خدا کے حکم سے لگتی ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسباب و علل کا انکار نہیں فرمایا ہے بلکہ اسباب کو خدا کا مقام دینے سے منع کیا ہے ۔ ( ماخوذ و مستفاد صحت و مرض اور اسلامی تعلیمات از مولانا جلال الدین انصر عمری )
*نوٹ مضمون کا اگلا حصہ کل ملاحظہ فرمائیں*

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے