صحت و مرض اور اسلامی تعلیمات و ہدایات

قسط نمبر (۲ )
*محمد قمر الزماں ندوی*
*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*بعض* بیماریاں اور امراض متعدی ہوتے ہیں، امراص متعدی ہوتے ہیں اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ، *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* نے بھی اس سے انکار نہیں کیا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف طور پر بیماری کے متعدی ہونے کا ذکر فرمایا ہے، چنانچہ *بخاری شریف* کی حدیث ہے *لا یورد ممرض علی مصح* جس کے اونٹ بیمار ہوں وہ ان کو پانی پلانے کے لئے اس گھاٹ پر ہرگز نہ لے جائے جہاں کسی کے تندرست اونٹ پانی پیتے ہوں ۔
حدیث میں بیمار جانوروں کو تندرست جانوروں سے الگ رکھنے کی اس لئے تاکید کی گئی ہے تاکہ بیماری ان میں نہ پھیلے ۔ *علامہ نووی رح* فرماتے یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں ان میں کوئ تضاد نہیں ہے ۔ پہلی حدیث *لا عدوی*(بیماری کا متعدی ہونا کوئ چیز نہیں ہے) جاہلیت کے اس عقیدہ اور فکر و خیال کی تردید ہے کہ بیماریوں کے پھیلنے میں اللہ تعالٰی کا کوئ عمل دخل نہیں ہے بلکہ وہ اپنے طور پھیلتی رہتی ہیں، اس میں اس بات کا انکار نہیں ہے کہ اللہ تعالٰی کے فیصلہ کے تحت متعدی امراض سے نقصان پہونچتا ہے ۔ دوسری حدیث میں اللہ تعالٰی کی مشئیت اور فیصلہ کے تحت جن چیزوں سے بالعموم نقصان پہنچتا ہے ان سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے ،مطلب یہ ہے کہ حدیث میں مرض کے متعدی ہونے کی نفی نہیں ہے، بلکہ مرض ہی کو حقیقی علت سمجھنے سے منع کیا گیا ہے ۔ اسی وجہ سے متعدی امراض سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے اور یہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے ۔
*آپ صلی اللہ علیہ وسلم* نے جذامی سے دور رہنے کا حکم دیا ہے ۔ جذام ایک متعدی مہلک اور بڑا بھیانک مرض ہے ۔اس کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :-
*فر من المجذوم کما تفر من الاسد* ( بخاری کتاب الطب) جذامی سے اس طرح بھاگو جس طرح تم شیر سے بھاگتے ہو ۔
مسلم شریف کی روایت ہے عمر بن شرید کہتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف کے وفد میں ایک جذامی بھی تھا ۔ جب وفد نے بیعت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہلوایا :
*انا قد بایعناک فارجع* ہم نے تم سے بیعت کرلی لہذا تم واپس جاو ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما حدیث کے راوی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : *لا تدیموا النظر الی المجذومین و اذا کلمتموھم فلیکن بینکم و بینھم قدر رمح* ( ابن ماجہ ابواب الطب) جذامیوں کو مستقل نہ دیکھتے رہو ۔جب تم ان سے بات چیت کرو تو تمہارے اور ان کے درمیان ایک نیزہ فاصلہ ہونا چاہیے ۔
علماء کرام نے اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ اس مرض میں بدبو ہوتی ہے یہی اس کے پھیلنے کا سبب بھی ہے ،اسی لئے اس سے دور رہنے کی ہدایت ہے ۔ بعض علماء نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے لیکن اوپر کی حدیثوں سے اس کی تائید ہوتی ہے ۔
اسلامی تعلیمات و ہدایات ایسے مریضوں کے لئے یہ ہے کہ وہ بازاروں بھیڑ بھاڑ کی جگہوں اور پبلک مقامات سے دور رہیں ۔ جن لوگوں کو ایسی بیماریاں لاحق ہو ،جس سے دوسروں کو تنفر اور انقباض ہوتا ہو ایسے لوگوں کو جماعت کی نماز میں شرکت نہیں کرنی چاہیے ان کو اپنے گھر میں ہی نماز ادا کرنی چاہیے ۔ آپ غور کر سکتے ہیں کہ پیاز و لہسن کھا کر جب مسجد جانے سے منع کیا گیا ہے جس میں کہ صرف بو ہے تو بھلا ان خطرناک امراض مین مبتلا لوگوں کو کیوں نہیں منع کیا جائے گا ۔ حدیث کی مشہور کتاب موطا امام مالک میں یہ روایت ہے، ابن ابی ملیکہ اس کے راوی ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک جذامی عورت کو طواف کرتے ہوئے دیکھا تو اس سے کہا : اللہ کی بندی ! لوگوں کو اذیت اور تکلیف مت دے ۔ اگر تم گھر ہی میں بیٹھی رہتیں تو کتنا اچھا ہوتا ۔ اس کے بعد وہ خاتون گھر میں رہنے لگی ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد ایک شخص نے اس سے کہا جنہوں نے تمہیں طواف سے سے منع کیا تھا ان کا انتقال ہو گیا ہے ۔ اب تم نکل سکتی ہو ۔ اس نے جواب دیا یہ نہیں ہوسکتا کہ ان کی زندگی میں تو ان کی مانوں اور اطاعت کروں اور ان کے انتقال کے بعد مخالفت شروع کر دوں ۔ اس واقعہ سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ حکومت اور حکمرانوں کو ایسے مریضوں کے بارے میں قانون و ضوابط نافذ کرنے کا حق ہے جس کی وجہ سے بیماری کے پھیلنے کا خطرہ ہو اور وہ مرض متعدی ہو ۔
اگر کہیں جذامی کی تعداد زیادہ ہو تو بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ ان کو مساجد ،پبلک مقامات اور جلسے جلوس وغیرہ میں جانے سے منع کیا جائے گا ان کے لئے الگ مکانات اور رہائش گاہیں بنائی جائیں گی ۔ قاضی عیاض رح نے اس کو جمہور علماء کی رائے قرار دیا ہے ۔ اگر ایسے لوگ شاذ و نادر ہوں تو اس طرح کے اہتمام کی کوئ ضرورت نہیں ہے ۔ اصل وجہ یہ ہے کہ جذامی سے لوگوں کو تکدر کراہت اور تکلیف ہوتی ہے دوسرے یہ کہ ان کے ساتھ میل جول اور اختلاط سے اس مرض کے پھیلنے کا امکان بھی ہوتا ہے ۔
اس سلسلہ کی ایک اور روایت ہے جو اوپر کی احادیث اور اثر سے متعارض ہے ،ضروری ہے کہ اس حدیث کو بھی ذکر کیا جائے اور جو اشکال اور تعارض ہے اس کو ختم کیا جائے ۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جذامی کا ہاتھ پکڑا اور اپنے کھانے کے پیالہ میں اسے شریک کرتے ہوئے فرمایا :-
*کل بسم اللہ ثقة باللہ و توکلا علیہ* (ترمذی ابواب الاطعمہ)
اللہ کا نام لے کر کھاو اور اللہ ہی پر بھروسہ اور توکل ہے ۔ یہ حدیث اوپر کی احادیث سے ٹکراتی ہے، بعض لوگوں نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے امام ترمذی رح نے اس کے راوی پر جرح کی ہے اور اسے غریب کہا ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی وضاحت کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس پر عمل میرے نزدیک ثابت ہے ۔ اس کی بہت سی توجیہیں کی گئ ہیں ایک توجیہ یہ کی گئی ہے کہ مرض کے مختلف مراحل ہوتے ہیں، شروعات میں کوئ بھی مرض اتنا بھیانک اور قابل احتراز نہیں ہوتا جتنا بعد کے مرحلے میں ہوتا ہے ۔ بعض اوقات مرض کی علامات ظاہر ہوتی ہیں لیکن ان میں کوئ اضافہ نہیں ہوتا، اس کا مطلب یہ ہے کہ مرض پہلے اسٹیپ پر ہے اور بہت ہلکا ہے زیادہ تکلیف دہ صورت اختیار نہیں کر رہا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس جذامی کے ساتھ کھانا کھایا تھا ہوسکتا ہے اس کا مرض اسی نوعیت کا ہو ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احتیاط اور پرہیز کی ضرورت محسوس نہ فرمائ ہو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ جذامی سے احتراز کے حکم منسوخ خیال فرماتے تھے ۔ لیکن علامہ نووی رح فرماتے ہیں کہ یہ حکم منسوخ نہیں ہے دونوں حدیثوں میں تطبیق ممکن ہے ۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ جذامی سے اجتناب و پرہیز اور بھاگنے کا حکم احتیاط کے لئے ہے ۔اس پر عمل واجب نہیں ہے ۔اور آپ کا اس کے ساتھ کھانا جواز کے لئے ہے ۔ یہی جمہور کی رائے ہے اسی کو اختیار بھی کرنا چاہیے ۔ کیوں کہ اگر جذامی سے احتراز کو واجب قرار دیا جائے تو اس طرح کے مریضوں کے قریب کوئ نہیں جائے گا اور اس کی تیماری داری اور دیکھ بھال کرنے والا کوئ نہیں ہوگا جب کہ شریعت اس کے ساتھ نرمی شفقت اور محبت کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیتی ہے ۔
غرض متعدی امراض میں مبتلا افراد سے بطور احتیاط دوری بنانا،اور ان سے پرہیز کرنا ، اس یقین اور عقیدہ کے ساتھ کہ بیماری خود متعدی نہیں ہوتی بلکہ اللہ کے ہی حکم سے اصلا متعدی ہوتی ہے،یہ غلط نہیں ہے، یہ علاج کا ہی حصہ ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وبائ امراض سے خصوصی احتیاط کا حکم فرمایا ہے ۔ اسی احتیاط کے پس منظر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون (پلیگ) کے بارے میں فرمایا : جب کسی علاقہ میں اس بیماری کے پھوٹ پڑنے کی اطلاع ملے تو باہر سے وہاں نہ جاو اور تم اس علاقہ میں موجود ہو تو بیماری سے بچنے کی نیت سے وہاں سے نہ بھاگو ۔ (بخاری شریف) باہر سے اس علاقہ میں جانے سے اس لئے منع فرمایا کہ کہیں وہ اس بیماری میں مبتلا نہ ہوجائے ،اس لئے کہ سبب کے درجہ میں بعض بیماریاں متعدی ہوتی ہیں اور جو پہلے سے وہاں موجود ہیں ان کو باہر جانے نکلنے سے اس لئے منع فرمایا گیا کہ سارے صحت مند لوگ اگر شہر چھوڑ دیں گے تو ان مریضوں کی خدمت کون کرے گا؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر یہ دوسری جگہ جائیں گے تو وہ اپنے ساتھ بیماری کے جراثیم لے کر جائیں گے تو ممکن ہے وہاں بھی یہ بیماری پھیل جائے ۔ معلوم یہ ہوا کہ انسان کو اپنے آپ کو بھی ایسے اسباب سے بچانا ضروری ہے اور دوسرے لوگوں کو بچانا بھی ضروری ہے ۔
مشہور واقعہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملک شام کے سفر میں جب معلوم ہوا کہ وہاں طاعون پھیلا ہوا ہے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کے بعد راستہ ہی سے واپسی کا فیصلہ فرمایا ۔ اس پر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ تو اللہ کی تقدیر سے بھاگنا اور راہ فرار اختیار کرنا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا :
*نعم نفر من قدر اللہ الی قدر اللہ*
ہاں ! ہم اللہ کی تقدیر سے ان کی تقدیر کی طرف بھاگ رہے ہیں ۔
کچھ دیر کے بعد حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کی تائید میں مذکور حدیث سنائ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مزید اطمنان ہوا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مدینہ منورہ واپس آگئے ۔ اس حدیث اور واقعہ کے ضمن میں علماء نے جو فقہی ،قانونی اور سماجی و انسانی مسائل چھیڑے ہیں اور جو باریکیاں نکالیں وہ خاصے کی چیز ہے تفصیل و طوالت کی وجہ اس کا تذکرہ چھوڑ رہا ہوں ۔ اور مریض اور تیمار دار کے تعلق سے مزید باتیں اور اسلامی ہدایات و تعلیمات کو پیش کرتا ہوں ۔
( *نوٹ آگے کا حصہ کل ملاحظہ فرمائیں*)

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے