سیاست کا مطلب صرف طاقت

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺 (858)
*سیاست کا مطلب صرف طاقت__!!*

*جمہوریت کا مطلب کیا ہے__؟ عام مفہوم میں یہی کہا جاتا ہے کہ ایک طرز حکومت جس کے اندر عوام اپنے نمائندوں کو منتخب کرتی ہے، اور وہ ان کے مطالب و مقاصد کو بروئے کار لاتی ہے؛ لیکن یہ سب صرف کتاب کی سطروں میں محفوظ کرنے اور ببانگ دہل چیخ کر کہنے اور سنانے کیلئے ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت ہو یا پھر حقیقتاً سیاست کی کوئی پہیلی یہ سب طاقت سے کنایہ ہے، ایک بھیڑ کی قوت کے ساتھ اقتدار پر براجمان ہونا ہے، ہندوستان اگرچہ دنیا کی عظیم ترین جمہوریت کا دعویٰ کرتا ہے، مگر اس کے پس پردہ طاغوتی طاقتوں اور دجالی افکار کا جال بچھا ہوا ہے، یہاں سیاست صرف اس لئے کی جاتی ہے؛ کہ جیسے تیسے بھی اقتدار پا لیا جائے، طاقت پا لی جائے، راجیہ سبھا، لوک سبھا یا کوئی بھی ایسا عہدہ مل جائے جس کی وجہ سے انتخابات میں لگائی گئی رقم واپس ہوجائے، اس سلسلہ میں معیار و افکار کی کوئی اہمیت نہیں ہے، سوچ اور مشن کا کوئی دخل نہیں ہے، ایجنڈے پیچھے رہ گئے ہیں، رفاہی فکر مفقود ہوگئی ہے؛ حالانکہ دنیا میں بھر میں متعدد سیاسی نظریات پائے جاتے ہیں، بہت سی سیاسی تنظیمیں اپنی اپنی رائے کو لیکر سخت رویہ اختیار کرتی ہیں، رائٹ اور لیفٹ ونگ کے ساتھ کمیونسٹ پارٹیاں، کمیونزم اور سوشلزم غرض سبھی کی اپنی ایک فکر ہوتی ہے، جس سے وہ کسی بھی اعتبار سے سبکدوش ہونا نہیں چاہتے، یہی ان کی بنیاد اور اساس ہوتی ہے، اسی کے نام پر انتخابات لڑتے ہیں، عوام کے درمیان جاتے ہیں، انہیں اپنا مینوفیسٹو دکھاتے ہیں اور ووٹ حاصل کرتے ہیں.*
مگر ہندوستان میں فکر کا کوئی مول نہیں ہے، عوام کے اعتماد کی کوئی پرواہ نہیں ہے، ہر جماعت کا ہر فرد بکنے کو تیار ہے، بس خریدار کی ضرورت ہے، چنانچہ منتری سو کڑور اور منتخب سیاست دان تیس پینتیس کڑور میں مل جاتے ہیں، بہت سے اعلی عہدے کیلئے بھی بک جاتے ہیں، ایسے میں کڑوی حقیقت تو یہ ہے کہ اگر کسی جماعت سے کوئی ہرحال میں جڑا ہے تو وہ یقیناً اس وجہ سے وفاداری دکھا رہا ہے؛ کیونکہ غداری دکھانے کی نوبت نہیں آئی ہے، اگر اسے کوئی اعلی خریدار مل جائے، بہترین قیمت مل جائے تو وہ اپنے آپ کو بیچنے اور لگے ہاتھ کسی اور جماعت کو چن لینے میں قطعا تاخیر نہ کریں گے، وہ گویا خود کو بازار میں پڑے سامان کے مثل بنا چکے ہیں، بس خریدار آئے، قیمت لگائے اور افہام و تفہیم کے بعد تھیلی میں بھر لے، مدھیہ پردیش میں جیوتی رادتیہ سندھیا نے اپنی اصل ضمیر کا پتہ دیتے اور اپنی اصل قیمت کا اندازہ لگاتے ہوئے فورا خود کی بولی لگائی اور وہ بھی فاشسٹ پارٹی بی جے پی میں شریک ہوگئے؛ یعنی کل تک ہر پلیٹ فارم پر مودی جی اور ان کی پالیسیوں کی نکتہ چینی کرتے تھے، انہیں فاشسٹ قرار دیتے تھے، غیر ذمہ دار اور ملک مخالف بتلاتے تھے، انہیں آر ایس ایس کا ایجنٹ کہہ کر مخاطب کرتے اور ان کے خلاف لڑنے کی قسمیں کھاتے تھے، اس سلسلہ میں وہ ہر حد سے گزر جانے کو تیار تھے، مگر جھکنے اور خود کو ان کے سامنے کھڑا کرنے کے روادار نہ تھے، مگر وقت نے دیکھا کہ جب کہ سیاست کی دیوی نے کیسے چولا بدل لیا، اور زہر کو لمحوں میں کیسے تریاق بنا دیا گیا__!!*
*جیوتی رادتیہ سندھیا کی ساری مخالف تقاریر کا مجموعہ بی بی سی نے شائع کیا ہے، جو انٹرنیٹ پر موجود ہے، مگر اب وہ اسی پالڑے میں گر گئے ہیں، یقیناً خود کو صحیح ثابت کرنے کے سارے دلائل موجود ہوں گے اور عوام کے سامنے آئندہ تقریر کرنے پر کانگریس مخالف تقریر کریں گے، لیکن ان سب کے درمیان جو چیز سب سے زیادہ واضح ہو کر سامنے آتی ہے وہ یہی ہے کہ ہندوستان میں سیاست کا کوئی چہرا نہیں ہے، انہیں طاقت اور عہدے کے سامنے کچھ نظر نہیں آتا، اٹل بہاری واجپائی بھی بی جے پی کے تھے؛ مگر انہوں نے لوک سبھا میں صاف کہہ دیا تھا؛ کہ جوڑ توڑ کی سرکار بنانے سے اچھا ہے کہ وہ گھر پر رہیں، یا اپوزیشن میں بیٹھ کر خدمت کریں؛ مگر وہ اپنے ضمیر کا سودا نہ کریں گے، یہ کون نہیں جانتا کہ بی جے پی کا ہندتو ایک تشدد و تعصب کی نمائندہ ہے، جبکہ دیگر پارٹیوں میں بھی وہی عنصر پایا جاتا ہے؛ لیکن وہ سوفٹ ہندتو کو ترجیح دیتے ہیں، کانگریس اپنی جنگ آزادی کے کارناموں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، اُنہیں اقدار و تعلیمات کے سہارے اب بھی اکیسویں صدی کی رہنمائی کرنا چاہتی ہے، تو وہیں بی جے پی جن سنگھ کی پیداوار ہے، اس کی پیٹھ پر آر ایس ایس کی سرپرستی ہے، ان کے سامنے منوواد اور سووارج کے سوا کچھ نہیں ہے، وہ سماج میں وہی تفاوت چاہتے ہیں جو برہمن واد میں موجود ہے، ایسے میں جو جس پارٹی میں ہو اسے اسی نظریہ کا حامی سمجھا جاتا ہے؛ مگر اب حقیقت یہ ہے کہ نظریہ کا کوئی تعلق سیاست سے نہیں ہے، بلکہ پیسے کی طاقت ہی سب کچھ ہے اگر کسی جماعت نے چانکیا بننے کی استطاعت ہے اور وہ سیاسی داؤ پیچ کیلئے تیار ہے تو اس کا خیر مقدم ہے، اب اخلاقی اقدار کی کوئی جگہ نہیں ہے، ماضی و حال سے کوئی مطلب نہیں ہے، اب صرف پیسے سے سروکار ہے، یہی نظریہ اور یہی سیاست ہے، چنانچہ مدھیہ پردیش کی سرکار گرادی گئی، کرناٹک کی سرکار بھی منہ کے بل گری، اب صرف طاقت کے دیوتا بی جے پی ہی حکومت کرے گی، اب کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عوام کسے منتخب کرتی ہے، یہ نیا ہندوستان اور نئی جمہوریت ہے، اور یہی سیاست کا نیا چہرہ ہے.*

✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
20/03/2020

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے