رام بھکت اور خدا بھکت میں فرق

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺(857)
*رام بھکت اور خدا بھکت میں فرق___!!*

*پوری دنیا کرونا وائرس کی وجہ سے پریشان ہے، اسے عالمی وبا قرار دے دیا گیا ہے، ہندوستان کبھی بھی تیسری اسٹیج میں داخل ہوسکتا ہے، جب لوگوں کو گھروں میں رہنے پر مجبور کیا جائے گا، سب کچھ بند کردیا جائے گا، جیسا کہ اٹلی، فرانس، روس اور امریکی بعض ممالک میں ہوچکا ہے، ہندوستان ویسے بھی میڈیکل نظام میں بہت پچھڑا ہوا ہے، یہاں پر بہت سے اسپتال اور بیڈ کی ضرورت ہے، متعدد ڈاکٹروں کی حاجت ہے؛ لیکن نوبت تو یہ ہے کہ کرونا وائرس کو چیک کرنے والی دوا بھی ختم ہونے کو ہے، اسی لئے عوام بھی احتیاط کر رہی ہے، وہ بھی سرکار کے فیصلے اور ذاتی مفاد کی خاطر بہت سی قربانیاں دے رہی ہے، زیادہ سے زیادہ گھروں میں رہنے کو ترجیح دی جارہی ہے، آفسیز کے کام گھروں سے کئے جارہے ہیں، سارے سفر رد ہورہے ہیں، آئندہ ایک ہفتے کیلئے بیرونی فلائٹس ہندوستان کی سرزمین پر لینڈ نہیں ہوں گیں، پچھلے دس دن میں دس لاکھ ٹرین کی ٹکٹیں cancel کی گئی ہیں، اور سینکڑوں ٹرینیں روک دی گئی ہیں، چینئی میں بسوں کے اندر کھڑے ہو کر سفر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے؛ لیکن معروف صحافی جناب ونود دعا صاحب نے دی پرنٹ کے حوالے سے یہ خبر دی ہے؛ کہ اترپردیش میں یوگی سرکار نے رام نومی منانے کا فیصلہ کیا ہے، یہ رام جی کی پیدائش کے طور پر منایا جاتا ہے، پورے ہندوستان میں خاص طور پر یوپی کے اندر بڑے جوش و خروش اور کثیر تعداد میں شرکت کی جاتی ہے، اس کا انعقاد ٢٥/ مارچ سے ٢/ اپریل تک ہوتا ہے، جس میں لگ بھگ پانچ لاکھ لوگ شریک ہوتے ہیں.*
*یہ سبھی جانتے ہیں کہ جس وقت پچاس لوگوں کے جمع ہونے کو صحیح تصور نہیں کیا جارہا ہے، پانچ لاکھ کا جمع ہونا ایک مصیبت ہے، جب ان بھکتوں سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا؛ کہ وے ہر طرح کے احتیاطی تدابیر اختیار کریں گے، مگر بات تو یہ ہے کہ ہندوستان اس پوزیشن میں ہے ہی نہیں، جہاں پانچ لوگوں کا بیک وقت خیال رکھ سکے، انہیں صحیح طور پر صحتی بندو بست دے سکے، کرونا وائرس کو مہینہ ہونے کو ہے؛ لیکن اب تک ڈیڑھ لاکھ لوگ ہی چیک ہوپائے ہیں، انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ نے یہاں تک کہا ہے؛ کہ رام نومی کا وقت اسٹیج تھری کا بھی ہو سکتا ہے، جب سب کچھ کنٹرول سے باہر ہوجائے گا، یہی وجہ ہے کہ ایودھیا کے چیف میڈیکل آفیسر پرکاش جھا نے کہا ہے؛ کہ ہمارے پاس نہ تو کوئی بنیادی ڈھانچہ ہے، اور نہ کوئی بندو بست ہے کہ اتنے سارے لوگوں کو ماسک دے سکیں، یا سینیٹائزر دے سکیں، اس لئے میں نے ضلع انتظامیہ کو صلاح دی ہے؛ کہ وہ رام نومی کے میلے کو رد کردیں. سوچنے کی بات ہے کہ سدیوگ ندی کے کنارے جب پانچ لاکھ لوگ ہوں گے، تو انہیں کیسے ایک دوسرے سے الگ کیا جائے گا، وائرس کے خطرے سے کیسے بچا جائے گا، اگر کوئی متاثر ہوگیا تو یقینی طور پر ایک بڑی تعداد چپیٹ میں آجائے گی، حالانکہ جب حکم یہاں تک ہے کہ انسان کسی سے ہاتھ بھی نہ ملائے؛ بلکہ خود کا چہرہ بھی نہ چھوئے، مگر یہاں تو لوگ اس ندی میں نہائیں گے، کپڑے دھوئیں گے، اور بھکتی و شکتی کے نام پر پوجا آرادھنا کے ساتھ ساتھ سب کچھ ہوگا، تو بھلا کیسے کرونا وائرس نہ پھیلے گا، اور اسے کیسے روکا جا سکے گا__؟*
*ان سب کے باوجود نہ ہوگی حکومت ماننے کو تیار ہے اور ناہی کوئی اور انتظامیہ دخل دے رہا ہے، یہ سب کچھ رام کی بھکتی والے بھکت کر رہے ہیں، تو دوسری طرف یہ لکھتے ہوئے ہاتھ تھرا جاتا ہے؛ کہ خدا کی بھکتی کرنے بھکت وقت سے پہلے ہی گھروں میں دبک گئے ہیں، عرب ممالک نے تو پہلے ہی مساجد پر تالے ڈال دئے، نماز باجماعت نہیں ہوسکتی، جمعہ کی نماز نہیں ہوگی، لوگ اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھیں گے، اب تو مسلمانوں کا سارا نظام حکومت کے اشارے پر چل رہا ہے، یقیناً جب وبا آئے تو مصلحت عام کی پرواہ ہونی چاہیے، ان تمام احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنا چاہیے جن سے انسانی جان کا تحفظ یقینی ہوتا ہو؛ لیکن ایسی بھی کیا مصلحت کہ جو شفا دے اسی کا دروازہ بند کردیا جائے، اسی کے آستانے سے لوٹ جایا جائے، اسی کی چوکھٹ کو بھلایا جائے، اسی کی صدا پر کان میں روئی ڈال لی جائے، اگرچہ ہر جگہ شور ہے، خوف وہراس بھی عام ہے، مگر یہ ان کیلئے مناسب ہے جن کا خدا نہیں، انہیں یہ کیسے روا ہوسکتا ہے جو خود کو خدا کی اطاعت و فرمانبرداری کیلئے سپرد کرچکے ہیں، ایسے میں ایسا لگتا ہے کہ اگر کوئی ڈرا ہوا ہے تو وہ صرف مسلمان ہے، جنہیں اپنی عبادت گاہوں سے ڈر لگ رہا ہے… اللہ اکبر ان کے بالمقابل رام کے ماننے والے بضد ہیں کہ رام کا جشن منائیں گے، اپنی عقیدت ومحبت سے یوں سرشار ہیں کہ ان میں سے بہت سے اپنی جان کو داؤ پر لگانے کو تیار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم مر جائیں گے؛ لیکن رام کی پیدائش کا جشن منائیں گے_!!*
*اف___ یہی جوش بلکہ اس سے کہیں زیادہ کبھی مسلمانوں میں ہوتا تھا، موت ہی جن کی زندگی ہے، جو شہادت کیلئے ہی پیدا ہوتا ہے، جن کا ایمان اس بات پر ہے؛ کہ خدا کی بندگی ہو، جب بندگی نہ ہو تو زندگی ایک شرمندگی ہو جاتی ہے، جن کے آباء و اجداد نے موت کا خوف کئے بغیر اسلام جیسی دولت عرب کے صحرا سے اٹھا کر ہندوستان کی زرخیزی تک پہونچا دیا، جن کی بنا پر ہم سب مسلمان ہیں، نہ سمندر نہ صحرا اور نہ پہاڑ، دشت تو دشت دریا بھی جنہوں نے نہیں چھوڑا، ان کی نسلیں ایک وبا سے یوں گھبرا گئے ہیں، جیسے انہیں یہاں ہمیشہ رہنا ہے، کبھی ان کے ایک نبی وہ تھے جنہوں نے وبا کو ہی اپنی زندگی بنالی تھی، اور پھر وہ صبر ایوب علیہ السلام سے مشہور ہوگئے، اور جن کے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے ویا میں ہی شہادت پانے کو ترجیح دی تھی اور شہادت کی موت پانے کیلئے سب کچھ قربان کر دیا تھا، حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان بھی رد کردیا تھا، ان کی اولادیں آج ڈر و خوف سے سہمی ہوئی ہیں، کاش وہ سمجھتے کہ وبائیں بھی خدا کی مخلوق ہیں، اور وہی خالق ہے، مالک ہے، وہی اسے بھی موت دے گا، اور تمہیں بھی دے گا،اگر تمہاری موت اسی سے لکھی ہوگی تو خدا کی قسم تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا، اور اگر حیات ہے تو قسم بخدا یہ وائرس تمہیں چھو بھی نہیں سکتا، کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں پڑھا:”وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا ۚ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ” (منافقین:١١)*

✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
19/03/2020

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں
سوشل میڈیا پر شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے