جوتوں پر زکاۃ کا حکم

پیام شریعت

٢٨شعبان المعظم١٤٤١ھ

23 اپریل2020

بروز۔ *جمعرات*

*مسئلہ*

جوتوں پر زکاۃ کا حکم

اگر کسی کےپاس قیمتی جوتے چپل اتنےہوں جو بقدر نصاب ہوں لیکن وہ تجارت کی غرض نہ ہوں بلکہ ضرورت کیلئے ہوں اگرچہ وہ سال بھر یا اس سے زائد بھی استعمال میں نہ آتے ہوں تواسپر زکوۃ واجب نہیں۔واللہ اعلم بالصواب۔

(مستفاد: فتاوی بنوریہ

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 262):” (قوله: وفارغ عن حاجته الأصلية) أشار إلى أنه معطوف على قوله: عن دين (قوله: وفسره ابن ملك) أي فسر المشغول بالحاجة الأصلية والأولى فسرها، وذلك حيث قال: وهي ما يدفع الهلاك عن الإنسان تحقيقا كالنفقة ودور السكنى وآلات الحرب والثياب المحتاج إليها لدفع الحر أو البرد أو تقديراً”. الموسوعة الفقهية الكويتية (6 / 142)

حدیث النبیﷺ۔۔وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَعْرَقُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَذْهَبَ عَرَقُهُمْ فِي الْأَرْضِ سَبْعِينَ ذِرَاعًا وَيُلْجِمُهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ آذَانَهُمْ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ روزِ قیامت لوگ پسینے میں شرابور ہوں گے حتی کہ ان کا پسینہ زمین پر ستر ہاتھ تک پھیل جائے گا ، اور وہ ان کے منہ تک ہوتا ہوا ان کے کانوں تک پہنچ جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

أوکماقال النبی ﷺ۔

(مشکوةشریف حدیث نمبر ٥٥٣٩ )

ناقلہدایت اللہ قاسمی

خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار

HIDAYATULLAH

TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA

نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں

Whatsapp.NO

6206649711

سوشل میڈیا پر ہمیں فالو کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے